قریبی فرد سے جدائی پر غیر معمولی بے چینی (Separation Anxiety Disorder) بچوں میں عام پایا جانے والا ڈس آرڈر ہے۔ اس میں بچہ والدین، نگہداشت کرنے والے یا کسی دوسرے قریبی فرد سے جدائی پر معمول سے زیادہ بے چینی محسوس کرتا ہے۔ کم عمر بچوں میں ایسی بے چینی معمول کی بات ہے۔ تاہم، اگر یہ کیفیت عمر کے لحاظ سے غیر معمولی طور پر شدید ہو اور روزمرہ زندگی متاثر کرنے لگے تو اسے نفسیاتی مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔
علامات
٭ والدین یا کسی قریبی فرد سے جدائی کے خیال پر شدید بے چینی یا غصہ
٭ بار بار یہ خوف کہ والدین یا کسی قریبی فرد کو حادثہ، بیماری یا کوئی نقصان پہنچ جائے گا
٭ یہ اندیشہ کہ وہ گم ہو جائے گا یا کسی وجہ سے والدین سے جدا ہو جائے گا
٭ جدائی کے خوف سے سکول یا گھر سے باہر جانے سے انکار کرنا
٭ عمر کے لحاظ سے اکیلے رہنے کے قابل ہونے کے باوجود ایسا کرنے سے گریز کرنا
٭ والدین یا کسی قریبی فرد کے بغیر سونے سے گریز
٭ جدائی سے متعلق ڈراؤنے خواب آنا
٭ جدائی کے وقت سر درد، پیٹ درد یا دیگر جسمانی شکایات ہونا
٭ بعض بچوں میں گھبراہٹ کے شدید دورے پڑنا
وجوہات
سیپریشن اینگزائٹی ڈس آرڈر کی کوئی ایک واضح وجہ نہیں۔ بعض حالات، تجربات اور موروثی عوامل اس کے پیدا ہونے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
٭ والدین کی طلاق یا علیحدگی
٭ سکول یا رہائش کی تبدیلی
٭ کسی قریبی عزیز یا پالتو جانور کا انتقال
٭ خاندان میں اضطرابی امراض کا رجحان
خطرے کے عوامل
بعض حالات میں سیپریشن اینگزائٹی ڈس آرڈر کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ مثلاً:
٭ کسی قریبی فرد سے جدائی یا زندگی میں شدید دباؤ کا تجربہ
٭ خاندان میں اضطرابی امراض کی موجودگی
٭ حادثہ، قدرتی آفت یا کوئی تکلیف دہ واقعہ
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر بچے کی بے چینی اس کی عمر کے دیگر بچوں کے مقابلے میں زیادہ ہو، روزمرہ سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہی ہو یا طویل عرصے تک برقرار رہے تو ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے مشورہ کریں۔
ممکنہ پیچیدگیاں
علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ خرابی بچے کی تعلیم، سماجی تعلقات اور گھریلو زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ دیگر ذہنی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ مثلاً:
٭ گھبراہٹ کے دورے اور دیگر اضطرابی امراض
٭ او سی ڈی (Obsessive-Compulsive Disorder)
٭ ڈپریشن
بچاؤ کی تدابیر
سیپریشن اینگزائٹی ڈس آرڈر کو ہر صورت میں روکنا ممکن نہیں۔ تاہم، علامات کی جلد شناخت اور مناسب علاج مسئلے کو بڑھنے سے روکنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس کے لیے یہ اقدامات کریں:
٭ غیر معمولی علامات ظاہر ہونے پر جلد ڈاکٹر سے رجوع کریں
٭ علاج اور فالو اَپ باقاعدگی سے جاری رکھیں
٭ والدین اپنی ذہنی صحت کا بھی خیال رکھیں، کیونکہ ان کی ذہنی کیفیت بچے پر اثر انداز ہو سکتی ہے
تشخیص
تشخیص کے لیے ڈاکٹر بچے کی علامات، نشوونما، رویے اور میڈیکل ہسٹری کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ بے چینی بچے کی عمر اور نشوونما کے مرحلے کے لحاظ سے معمول سے زیادہ تو نہیں۔ اس کے لیے:
٭ والدین اور بچے سے تفصیلی گفتگو کی جاتی ہے
٭ ضرورت پڑنے پر ماہرِ نفسیات سے معائنہ کرایا جاتا ہے
٭ نفسیاتی جائزے کے ذریعے علامات کی نوعیت اور شدت معلوم کی جاتی ہے
علاج
علاج کا آغاز عموماً نفسیاتی تھراپی سے کیا جاتا ہے۔ علاج کا انتخاب بچے کی عمر، علامات کی شدت اور روزمرہ زندگی پر ان کے اثرات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
نفسیاتی علاج
٭ کاگنیٹو بیہیویئرل تھراپی (سی بی ٹی) اس ڈس آرڈر کا مؤثر علاج ہے
٭ ایکسپوژر تھراپی کے ذریعے بچے کو بتدریج جدائی کا سامنا کرنا اور اس سے پیدا ہونے والی بے چینی پر قابو پانا سکھایا جاتا ہے
٭ والدین کو بچے کی مناسب راہنمائی اور اس کا اعتماد بڑھانے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں
ادویات
٭ شدید علامات کی صورت میں ڈاکٹر ادویات تجویز کر سکتا ہے
٭ بعض مریضوں میں ادویات اور کاگنیٹو بیہیویئرل تھراپی ایک ساتھ استعمال کی جاتی ہیں
Frequently Asked Questions (FAQs)
جدائی پرعام بے چینی اور سیپریشن اینگزائٹی ڈس آرڈر میں کیا فرق ہے؟
کم عمر بچوں میں کسی قریبی فرد سے جدائی پر کچھ بے چینی معمول کی بات ہے۔ اگر یہ بے چینی عمر کے لحاظ سے غیر معمولی طور پر شدید ہو اور روزمرہ زندگی متاثر کرے تو اسے سیپریشن اینگزائٹی ڈس آرڈر کہا جاتا ہے۔
کیا یہ بیماری صرف بچوں میں ہوتی ہے؟
نہیں۔ یہ عموماً بچپن میں شروع ہوتی ہے، لیکن نوعمروں اور بالغ افراد میں بھی ہو سکتی ہے۔
کیا سیپریشن اینگزائٹی ڈس آرڈر ٹھیک ہو سکتا ہے؟
مناسب نفسیاتی علاج سے علامات میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ شدید علامات کی صورت میں ڈاکٹر نفسیاتی تھراپی کے ساتھ ادویات بھی تجویز کر سکتا
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
https://www.shifa.com.pk/specialities/psychiatry/islamabad