بیماریوں سے بچاؤ میں ویکسینز اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم، ویکسین لگوانے کے بعد بعض لوگوں میں عارضی علامات دوسروں کے مقابلے میں زیادہ محسوس ہوتی ہیں۔ نئی تحقیق کے مطابق اس فرق کا تعلق مدافعتی نظام کے قدرتی دفاع کی سرگرمی سے ہو سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف جنیوا اور جنیوا یونیورسٹی ہسپتال کے محققین نے 51 صحت مند افراد کا جائزہ لیا۔ شرکا کو کووڈ-19 کی ایم آر این اے ویکسین کی دو خوراکیں دی گئیں۔ ہر خوراک کے بعد سات دن تک ان میں ہونے والی علامات ریکارڈ کی گئیں۔
محققین نے اس فرق کا تعلق انٹرفیرون سے متعلق قدرتی دفاعی عمل سے پایا۔ انٹرفیرون ایک پروٹین ہے جو جسم کو وائرس کے خلاف دفاع کے لیے تیار کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جن افراد میں یہ دفاعی عمل ویکسین سے پہلے زیادہ فعال تھا، ان میں بعد کی علامات بھی زیادہ نمایاں تھیں۔
محققین کے مطابق یہ علامات عموماً معمولی اور عارضی نوعیت کی تھیں۔ زیادہ علامات کا مطلب یہ نہیں کہ ویکسین زیادہ مؤثر ہے۔ اسی طرح معمولی یا کوئی علامت نہ ہونا بھی ویکسین کے کم مؤثر ہونے کی نشانی نہیں۔
محققین ابھی یہ جانچ رہے ہیں کہ یہی مدافعتی عمل فلو سمیت دوسری ویکسینز کے بعد بھی ہوتا ہے یا نہیں۔ تحقیق سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن میں شائع ہوئی۔