پروٹین پاؤڈر کا استعمال عام ہوتا جارہا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق بیشتر صحت مند افراد کو اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مطلوبہ پروٹین گوشت، انڈوں، دودھ، دالوں اور دیگر غذاؤں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
ہارورڈ ہیلتھ کے مطابق غذا سے پروٹین کی ضرورت پوری نہ ہونے پر سپلیمنٹ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم پروٹین پاؤڈر متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک کا متبادل نہیں۔
ورزش کے فوراً بعد پروٹین پاؤڈر لینا بھی ضروری نہیں۔ ماہرین کسی خاص وقت کے بجائے پورے دن میں مناسب مقدار میں پروٹین حاصل کرنے کو زیادہ اہم قرار دیتے ہیں۔
مناسب مقدار میں پروٹین لینے سے صحت مند افراد کے گردوں کو نقصان پہنچنے کے واضح شواہد نہیں ملے۔ البتہ گردے یا جگر کے مریض پروٹین سپلیمنٹس کے استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
بعض پروٹین پاؤڈرز میں اضافی شکر اور دیگر اجزا شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے مصنوعات کا لیبل پڑھنے اور ان میں شامل اجزا پر توجہ دینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔