جاپان میں مشروط منظوری کے بعد پارکنسنز کے پہلے مریض کا سٹیم سیل علاج کیا گیا ہے۔ کیوٹو یونیورسٹی ہسپتال میں مریض کے دماغ میں مخصوص خلیے کامیابی سے منتقل کیے گئے۔
اے ایف پی کے مطابق جاپانی حکام نے مارچ میں اس طریقۂ علاج کی مشروط منظوری دی تھی۔ کمپنی نے ٹرانسپلانٹ کا اعلان 30 اکتوبر کو کیا۔
ابتدائی کلینیکل تحقیق میں 50 سے 69 سال کے سات مریض شامل تھے۔ ہر مریض کے دماغ کے دونوں جانب مجموعی طور پر 50 لاکھ یا ایک کروڑ خلیے منتقل کیے گئے۔ دو سال کی نگرانی میں کوئی بڑا منفی اثر سامنے نہیں آیا۔ جاپانی ذرائع ابلاغ کے مطابق مکمل منظوری کا انحصار آئندہ سات برس میں اس کے محفوظ اور مؤثر ہونے کی تصدیق پر ہوگا۔
پارکنسنز کے لیے سٹیم سیل علاج میں صحت مند عطیہ دہندگان کے خلیوں کو دوبارہ ابتدائی حالت میں لایا جاتا ہے۔ ان سے ایسے ابتدائی دماغی خلیے تیار کیے جاتے ہیں جو ڈوپامین بنانے والے خلیوں میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ پھر انہیں مریض کے دماغ میں منتقل کیا جاتا ہے۔