Vinkmag ad

پارکنسنز کی نئی تجرباتی دوا پر تحقیق میں پیش رفت

An elderly man with Parkinson’s disease standing with a subtle hand tremor, shown in a realistic medical context, symbolizing Parkinson’s symptoms and neurological health.

پارکنسنز کے ممکنہ علاج کے لیے تیار کی جانے والی ایک نئی تجرباتی دوا پر تحقیق آگے بڑھانے میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اے ایل 050 نامی دوا ابھی انسانوں پر آزمائش سے پہلے کے مرحلے میں ہے۔

رائٹرز کے مطابق یہ دوا جی کیس نامی انزائم کی سرگرمی بڑھانے کے لیے تیار کی جا رہی ہے۔ اس انزائم کی کم سرگرمی کو پارکنسنز کے خطرے سے منسلک کیا جاتا ہے۔ ابتدائی تجربات میں دوا سے اس کی سرگرمی بڑھنے کے نتائج سامنے آئے ہیں۔

سوئس دوا ساز کمپنی روش نے امریکی بائیوٹیک کمپنی الیکٹر سے اس دوا کے حقوق حاصل کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ معاہدے کی مجموعی مالیت مختلف اہداف پورے ہونے پر 1.27 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

تاہم اے ایل 050 کی ابھی انسانوں پر آزمائش نہیں ہوئی۔ اس لیے پارکنسنز کے مریضوں میں اس کی افادیت اور حفاظت جانچنے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہوگی۔

Vinkmag ad

Read Previous

بینائی کے عالمی دن پر آنکھوں کے علاج میں سرمایہ کاری بڑھانے کا مطالبہ

Read Next

ڈبلیو ایچ او کے نئے سربراہ کا انتخاب، چین کی طرف سے ڈاکٹر سونگ لی امیدوار

Leave a Reply

Most Popular