آج دنیا بھر میں عالمی یوم ذہنی صحت منایا جا رہا ہے۔ اس سال کا مرکزی موضوع متاثرہ افراد کے تجربات ہمدردی سے سننا ہے۔ اس میں ان کی آواز کو اہمیت دینے اور زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
اے پی پی کے مطابق ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر آفتاب آصف نے ذہنی تناؤ کی بڑھتی وجوہات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ معاشی دباؤ اور گھریلو مسائل ذہنی تناؤ بڑھا رہے ہیں۔ دوسری جانب نفسیاتی بیماری سے وابستہ شرمندگی اور منفی سماجی رویے علاج میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
انہوں نے مسلسل اداسی، بے چینی اور ناامیدی کو اہم علامات قرار دیا۔ نیند یا بھوک میں تبدیلی اور روزمرہ سرگرمیوں سے بے رغبتی بھی ان میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق ایسی کیفیت تعلیم، ملازمت یا خاندانی تعلقات متاثر کرے تو ذہنی صحت کے ماہر ڈاکٹر سے لازماً رجوع کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر آفتاب آصف نے والدین کو بچوں کے بدلتے رویوں اور بزرگوں کی تنہائی پر توجہ دینے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے مناسب نیند، متوازن غذا، ورزش اور اہل خانہ کے تعاون کو ذہنی صحت کے لیے اہم قرار دیا۔