امریکا میں 25 سال سے زائد عرصے بعد جلد کی حفاظت کے لیے نئے جزو والی سن سکرین متعارف کرادی گئی۔ اس میں شامل بیموٹریزینول نامی جزو سورج کی یو وی اے، اور یو وی بی، دونوں شعاعوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ جلد پر سفید نشانات بھی نہیں چھوڑتا، جو بعض دوسری سن سکرینز کا مسئلہ ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی ادارے ایف ڈی اے نے جون میں اس کی منظوری دی تھی۔ منظوری سے قبل ایف ڈی اے نے 500 سے زائد افراد پر کی گئی تحقیقات کا جائزہ لیا۔ نتائج کے مطابق یہ جزو جلد کے ذریعے خون میں نہ ہونے کے برابر جذب ہوتا ہے۔ تحقیقات میں جلد پر جلن یا الرجی کے نمایاں مسائل بھی سامنے نہیں آئے۔ واضح رہے کہ یہ جزو یورپ سمیت کئی ممالک میں پہلے ہی استعمال ہورہا تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ جزو دھوپ میں نسبتاً زیادہ دیر تک مؤثر رہتا ہے۔ تاہم جلد کی حفاظت کے لیے سن سکرین دوبارہ لگانا اور مناسب لباس پہننا بھی ضروری ہے۔