Vinkmag ad

پوسٹ پولیو سنڈروم: پولیو کے برسوں بعد پٹھوں کی کمزوری

Older man walking with a stick in a home garden, illustrating mobility difficulties associated with post-polio syndrome.

پوسٹ پولیو سنڈروم (Post-polio syndrome) ایسی علامات کا مجموعہ ہے جو پولیو ہونے کے کئی دہائیوں بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ عموماً یہ علامات ابتدائی بیماری کے 30 سے 40 سال بعد شروع ہوتی ہیں۔ پٹھوں کی کمزوری، تھکن اور درد روزمرہ کاموں میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

1950 کی دہائی میں پولیو کی غیر فعال وائرس والی ویکسین متعارف ہونے سے بیماری کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی آئی۔ تاہم، اس سے پہلے پولیو کا شکار ہونے والے بعض افراد کو بعد کی عمر میں نئی مشکلات پیش آتی ہیں۔

علامات

پوسٹ پولیو سنڈروم صرف ان افراد کو ہوتا ہے جنہیں پہلے پولیو ہوچکا ہو۔ اس کی عام علامات میں شامل ہیں:

٭ پٹھوں کی کمزوری اور پٹھوں یا جوڑوں میں درد، جو وقت کے ساتھ بڑھتا جائے

٭ جلد تھک جانا اور شدید نڈھال پن

٭ پٹھوں کا حجم گھٹنا، یعنی ان کا سکڑنا

٭ سانس لینے یا نگلنے میں دشواری

٭ نیند کے دوران سانس کے مسائل، مثلاً بار بار سانس رکنا

٭ سردی برداشت کرنے کی صلاحیت میں کمی

زیادہ تر افراد میں یہ کیفیت آہستہ آہستہ بڑھتی ہے۔ نئی علامات ظاہر ہونے کے بعد کچھ عرصے تک حالت ایک جیسی بھی رہتی ہے۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟

اگر کمزوری یا تھکن بڑھ رہی ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ وہ علامات کی دوسری ممکنہ وجوہات کا جائزہ لے گا۔ اس سے تعین کرنے میں مدد ملے گی کہ مسئلہ پوسٹ پولیو سنڈروم ہے یا کوئی دوسری بیماری۔

وجوہات

پوسٹ پولیو سنڈروم کی اصل وجہ پوری طرح واضح نہیں۔ اس کے بارے میں مختلف نظریات موجود ہیں۔ مثلاً پولیو وائرس حرکت کو کنٹرول کرنے والے اعصابی خلیوں، یعنی موٹر نیورونز، کو متاثر کرتا ہے۔ یہ خلیے دماغ اور پٹھوں کے درمیان برقی پیغامات پہنچاتے ہیں۔ وائرس خاص طور پر سپائنل کارڈ میں موجود موٹر نیورونز کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اعصابی خلیے کی ساخت

اعصابی خلیہ، یعنی نیورون، اعصابی نظام میں پیغامات کی ترسیل کی بنیادی اکائی ہے۔ اس کے تین بنیادی حصے ہوتے ہیں:

٭ مرکزی حصہ، جس میں خلیے کا مرکزہ موجود ہوتا ہے

٭ ایک لمبا، شاخ دار اعصابی ریشہ، جسے ایکسون کہتے ہیں

٭ متعدد چھوٹے، شاخ دار ریشے، جنہیں ڈینڈرائٹس کہتے ہیں

مائیلین چکنائی سے بنا غلاف ہے، جو دماغ اور سپائنل کارڈ کے اعصابی ریشوں کو ڈھانپتا اور تحفظ دیتا ہے۔

اعصابی خلیوں پر اضافی بوجھ

پولیو کے دوران بہت سے موٹر نیورونز خراب یا تباہ ہوجاتے ہیں۔ باقی خلیوں سے نئے ریشے نکلتے ہیں اور ان کا حجم بڑھ جاتا ہے۔ اس عمل سے پٹھوں کی کارکردگی بحال ہونے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم، اضافی ریشوں کی ضروریات پوری کرنے سے اعصابی خلیوں پر بوجھ بڑھتا ہے۔ ایک نظریے کے مطابق، برسوں تک یہ بوجھ برداشت کرنے سے نئے ریشے آہستہ آہستہ خراب ہونے لگتے ہیں۔ بالآخر خود اعصابی خلیہ بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

خطرہ بڑھانے والے عوامل

ابتدائی پولیو کی شدت: شروع میں بیماری جتنی شدید ہو، بعد میں پوسٹ پولیو سنڈروم کی علامات ظاہر ہونے کا امکان اتنا زیادہ ہوتا ہے

پولیو ہونے کے وقت عمر: بچپن کے مقابلے میں نوجوانی یا بالغ عمر میں پولیو ہونے سے اس سنڈروم کا خطرہ بڑھتا ہے

صحت یابی کی حد: ابتدائی بیماری کے بعد پٹھوں کی کارکردگی زیادہ بحال ہونے کا تعلق بھی بڑھتے خطرے سے دیکھا گیا ہے، ممکنہ وجہ موٹر نیورونز پر اضافی بوجھ ہے

حد سے زیادہ جسمانی سرگرمی: بار بار شدید تھکن کی حد تک ورزش کرنا، پہلے سے دباؤ برداشت کرنے والے موٹر نیورونز پر مزید بوجھ ڈالتا ہے

پیچیدگیاں

پوسٹ پولیو سنڈروم شاذونادر ہی جان لیوا ہوتا ہے۔ تاہم، پٹھوں کی شدید کمزوری سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔

گرنا: ٹانگوں کے پٹھوں کی کمزوری سے توازن بگڑنے اور گرنے کا خطرہ بڑھتا ہے

شدید تھکن کے اثرات: معمولی سرگرمی کے بعد بھی روزمرہ کام جاری رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ توجہ اور یادداشت بھی متاثر ہوسکتی ہیں

مسلسل درد: پٹھوں کی کمزوری اور ہڈیوں، پٹھوں یا جوڑوں کی ساخت میں خرابی دیرپا درد کا باعث بنتی ہے

غذائیت اور پانی کی کمی، نمونیا: چبانے اور نگلنے میں دشواری سے خوراک اور پانی کی ضروری مقدار لینا مشکل ہوتا ہے، کھانے کے ذرات پھیپھڑوں میں جانے سے نمونیا بھی ہوسکتا ہے

یہ مسائل خصوصاً ان افراد میں ہوتے ہیں جنہیں بلبر پولیو ہوا ہو۔ اس قسم میں چبانے اور نگلنے والے پٹھوں کو کنٹرول کرنے والے اعصاب متاثر ہوتے ہیں۔

سانس کی دیرپا کمزوری: سینے کے پٹھوں اور ڈایافرام کی کمزوری سے گہری سانس لینا اور مؤثر کھانسی کرنا مشکل ہوتا ہے، نتیجتاً پھیپھڑوں میں رطوبت اور بلغم جمع ہونے لگتا ہے

موٹاپا، تمباکو نوشی، ریڑھ کی ہڈی کا ٹیڑھا پن اور طویل بے حرکتی سانس لینے کی صلاحیت مزید گھٹاتے ہیں۔ بے ہوشی کی ادویات اور بعض دوسری دوائیں بھی یہ مسئلہ بڑھاتی ہیں۔

شدید صورت میں خون میں آکسیجن کی سطح اچانک بہت کم ہوسکتی ہے۔ ایسی حالت میں سانس لینے کے لیے مشینی مدد درکار ہوتی ہے۔

ہڈیوں کی کمزوری: طویل عرصے تک کم حرکت کرنے سے مردوں اور خواتین، دونوں کی ہڈیوں کی کثافت گھٹتی ہے، اس سے آسٹیوپوروسس کا خطرہ بڑھتا ہے

پوسٹ پولیو سنڈروم ہونے کی صورت میں ہڈیوں کی کثافت کے ٹیسٹ کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

نیند کے مسائل: نیند میں بار بار سانس رکنا اور ٹانگیں ہلانے کی بے چین خواہش اس سنڈروم میں عام ہیں، علاج نہ ہونے پر بے خوابی اور تھکن بڑھتی ہے

Frequently Asked Questions (FAQs)

پوسٹ پولیو سنڈروم کیا ہے؟

یہ علامات کا مجموعہ ہے جو پولیو ہونے کے کئی دہائیوں بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ ان میں پٹھوں کی کمزوری، تھکن اور درد شامل ہیں۔

پوسٹ پولیو سنڈروم کب شروع ہوتا ہے؟

اس کی علامات عموماً ابتدائی پولیو کے 30 سے 40 سال بعد شروع ہوتی ہیں۔

کیا ہر پولیو سے متاثرہ شخص کو یہ سنڈروم ہوتا ہے؟

نہیں۔ پہلے پولیو ہونا ضروری ہے، لیکن ہر متاثرہ شخص میں یہ سنڈروم پیدا نہیں ہوتا۔

کیا اس کی علامات تیزی سے بڑھتی ہیں؟

زیادہ تر افراد میں علامات آہستہ آہستہ بڑھتی ہیں۔ بعض اوقات نئی علامات کے بعد حالت کچھ عرصے تک ایک جیسی رہتی ہے۔

کیا پوسٹ پولیو سنڈروم جان لیوا ہے؟

یہ شاذونادر ہی جان لیوا ہوتا ہے۔ تاہم، شدید کمزوری سے سانس، نگلنے اور چلنے پھرنے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کرنا چاہیے؟

کمزوری یا تھکن بڑھنے پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ علامات کی دوسری وجوہات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=infectious-diseases

Vinkmag ad

Read Previous

مکڑی کا کاٹنا

Leave a Reply

Most Popular