Vinkmag ad

انٹراوینس پائیلوگرام: گردوں اور مثانے کی ایکسرے جانچ

Patient lying on an X-ray table with an IV cannula, preparing for an intravenous pyelogram to examine the kidneys and bladder.

انٹراوینس پائیلوگرام (Intravenous pyelogram) گردوں، پیشاب کو مثانے تک پہنچانے والی نالیوں اور مثانے کا ایکسرے معائنہ ہے۔ یہ ان حصوں کی ساخت اور کام کرنے کی صلاحیت جانچنے میں مدد دیتا ہے۔ اس ٹیسٹ سے گردوں کی پتھری، بڑھے ہوئے پروسٹیٹ، رسولیوں اور بعض پیدائشی خرابیوں کی تشخیص میں مدد ملتی ہے۔ اسے ایکسکریٹری یوروگرام بھی کہتے ہیں۔

کیوں کیا جاتا ہے

کمر یا پہلو میں درد اور پیشاب میں خون آنے کی وجہ جاننے کے لیے ڈاکٹر یہ معائنہ تجویز کرتا ہے۔ یہ علامات پیشاب کے نظام میں کسی مسئلے کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔ اس سے ان مسائل کی تشخیص میں مدد ملتی ہے:

٭ گردوں کی پتھری

٭ پروسٹیٹ کا بڑھ جانا

٭ پیشاب کے نظام کی رسولیاں

٭ گردوں کی ساخت میں پیدائشی خرابیاں

پہلے پیشاب کے نظام کی جانچ کے لیے انٹراوینس پائیلوگرام عام استعمال ہوتا تھا۔ اب الٹراساؤنڈ اور سی ٹی سکین زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم، یہ معائنہ اب بھی ان مقاصد کے لیے مفید ہے:

٭ پیشاب کے نظام کی ساخت میں خرابیوں کا پتا لگانا

٭ گردوں کی پتھری کی نشاندہی کرنا

٭ پیشاب کے بہاؤ میں رکاوٹ واضح کرنا

ممکنہ خطرات

یہ معائنہ عموماً محفوظ ہوتا ہے۔ پیچیدگیاں کم ہوتی ہیں، تاہم ان کا امکان موجود ہے۔ ڈائی داخل کرنے کے بعد یہ اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں:

٭ جسم میں گرمی محسوس ہونا یا جلد سرخ پڑنا

٭ منہ میں دھات جیسا ذائقہ آنا

٭ متلی

٭ خارش

٭ چھپاکی، یعنی جلد پر ابھرے ہوئے خارش والے دانے

بہت کم صورتوں میں شدید ردعمل ہوتا ہے۔ اس میں شامل ہیں:

٭ بلڈ پریشر بہت کم ہوجانا

٭ اینافائلیکٹک شاک، یعنی شدید الرجک ردعمل، جس سے سانس لینے میں دشواری اور جان لیوا علامات پیدا ہوتی ہیں

٭ کارڈیئک اریسٹ، یعنی دل کی دھڑکن بند ہوجانا

ایکسرے کے دوران جسم کو کم مقدار میں شعاعوں کا سامنا ہوتا ہے۔ ان سے جسم کے خلیوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

حمل یا اس کے امکان کی صورت میں معائنے سے پہلے ڈاکٹر کو بتائیں۔ ڈاکٹر کسی دوسرے مناسب ٹیسٹ کا انتخاب کر سکتا ہے۔

ٹیسٹ کی تیاری

معائنے سے پہلے طبی عملے کو بتائیں اگر:

٭ کوئی الرجی ہو، خصوصاً آیوڈین سے

٭ پہلے ایکسرے کی ڈائی سے شدید ردعمل ہوا ہو

٭ حمل یا اس کا امکان موجود ہو

معائنے سے پہلے کچھ وقت کے لیے کھانے پینے سے پرہیز کی ہدایت مل سکتی ہے۔ ڈاکٹر ایک رات پہلے قبض کشا دوا لینے کا مشورہ بھی دے سکتا ہے۔

معائنے سے پہلے

طبی عملہ ضرورت کے مطابق یہ اقدامات کرتا ہے:

٭ میڈیکل ہسٹری کے بارے میں سوالات

٭ بلڈ پریشر، نبض اور جسم کے درجۂ حرارت کی جانچ

٭ ہسپتال کا گاؤن پہننے کی ہدایت

٭ زیورات، عینک اور تصاویر میں رکاوٹ بننے والی دھاتی اشیا اتارنے کی ہدایت

٭ ڈائی داخل کرنے کے لیے بازو کی رگ میں کینولا لگانا

٭ پیشاب کرکے مثانہ خالی کرنے کی ہدایت

معائنے کے دوران

آپ معائنے کی میز پر کمر کے بل لیٹتے ہیں۔ ایکسرے مشین پیٹ کے اوپر رکھی جاتی ہے۔ اس کے بعد:

٭ ڈائی لگانے سے پہلے ایکسرے تصویر لی جاتی ہے

٭ بازو کی رگ میں لگے کینولا کے ذریعے ڈائی داخل کی جاتی ہے

٭ ڈائی کے گردوں، یوریٹرز اور مثانے سے گزرتے وقت وقفوں سے تصاویر لی جاتی ہیں

٭ آخر میں دوبارہ پیشاب کرکے مثانہ خالی کرنے کو کہا جا سکتا ہے

٭ میز پر واپس آنے کے بعد خالی مثانے کی ایک اور تصویر لی جاتی ہے

معائنے کے بعد

معائنہ مکمل ہونے پر بازو سے کینولا نکال دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد آپ معمول کی سرگرمیاں شروع کر سکتے ہیں۔

نتائج

ریڈیولوجسٹ، یعنی ایکسرے تصاویر کا جائزہ لینے والا ماہر ڈاکٹر، تصاویر دیکھ کر رپورٹ تیار کرتا ہے۔ یہ رپورٹ ٹیسٹ تجویز کرنے والے ڈاکٹر کو بھیجی جاتی ہے۔ اگلی ملاقات میں ڈاکٹر آپ کو ٹیسٹ کے نتائج بتاتا ہے۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا ٹیسٹ سے پہلے خالی پیٹ رہنا ضروری ہے؟

معائنے سے پہلے کچھ وقت کے لیے کھانے پینے سے پرہیز کی ہدایت مل سکتی ہے۔

کیا معائنے کے بعد معمول کے کام کیے جا سکتے ہیں؟

معائنہ مکمل ہونے کے بعد معمول کی سرگرمیاں شروع کی جا سکتی ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

اڑتے ڈائنوسار نظر آنے کی شکایت، لڑکی میں دماغ کی نایاب بیماری تشخیص

Read Next

کیمو برین: کینسر کے مریضوں میں یادداشت اور توجہ کے مسائل

Leave a Reply

Most Popular