پاکستان میں 60 فیصد سے زائد آبادی صحت بخش غذا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ ملک میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 40 فیصد بچوں کے قد کی نشوونما متاثر ہے۔ اے پی پی کے مطابق سینیٹر شیری رحمان نے ان مسائل کی نشاندہی غربت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر کی۔ یہ دن ہر سال 17 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر 17.7 فیصد بچے شدید غذائی کمی کا شکار ہیں۔ عالمی ادارے کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق ملک کی 38.3 فیصد آبادی صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ یہ اعدادوشمار 2017-18 کے سروے پر مبنی ہیں۔
شیری رحمان نے کہا کہ صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ میں سرمایہ کاری اشد ضروری ہے۔ انہوں نے خواتین اور بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے پروگراموں کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔
Tags: غذائیات