قصور کے علاقے کنگن پور میں کھیر کھانے کے بعد میاں بیوی اور ان کے تین بیٹے انتقال کر گئے۔ عزیزو اقارب کی طرف سے کھیر میں چھپکلی گرنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
روزنامہ ڈان نے ابتدائی رپورٹ میں چار اموات کی اطلاع دی تھی، تاہم بعد میں والدہ بھی انتقال کر گئیں۔ بی بی سی اردو کے مطابق خاندان طبیعت خراب ہونے پر تین روز تک دم کرواتا رہا۔ حالت بگڑنے پر ہسپتال پہنچایا گیا۔ پولیس نے کھیر اور میتوں سے حاصل کردہ نمونے فرانزک جانچ کے لیے بھجوائے ہیں۔
سائنسی جریدے ’’جرنل آف انوائرنمنٹل سائنس اینڈ انجینئرنگ‘‘ میں شائع ایک مقالے کے مطابق عام گھریلو چھپکلی زہریلی نہیں ہوتی، تاہم اس میں موجود جراثیم خوراک کو آلودہ کر سکتے ہیں۔ سی ڈی سی کے مطابق چھپکلیاں سالمونیلا بیکٹیریا کی حامل ہو سکتی ہیں۔ اس سے دست، بخار اور پیٹ میں مروڑ ہو سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں انفیکشن شدید بھی ہو سکتا ہے۔ قصور کے واقعے میں سالمونیلا یا کسی زہریلے مادے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ رپورٹس آنے تک چھپکلی کو اموات کی ثابت شدہ وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
کیا آپ بھی گھریلو چھپکلی کو زہریلا سمجھتے تھے؟ اپنی رائے دیجیے۔