گلوٹن سے ہونے والی بیماری سیلیئک کے علاج میں نئی پیش رفت ہوئی ہے۔ ایک تجرباتی دوا نے ابتدائی آزمائش میں آنتوں کا نقصان اور علامات بڑھنے سے روکنے میں حوصلہ افزا نتائج دیے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق امریکی کمپنی فرسٹ ٹریکس بائیوتھراپیوٹکس کی دوا ANB033 کی آزمائش میں 32 مریض شامل تھے۔ گلوٹن سے پاک غذا کے باوجود ان کی آنتوں کو نقصان پہنچا ہوا تھا۔ ایک گروپ کو یہ دوا اور دوسرے کو بے اثر دو دی گئی۔ چار ہفتوں میں تین خوراکوں کے بعد تمام مریضوں کو دو ہفتے روزانہ گلوٹن کھلایا گیا۔ یہ مقدار تقریباً دو سلائس بریڈ کے برابر تھی۔
دوا لینے والوں کی آنتوں کو دوسرے گروپ کی نسبت کم نقصان پہنچا اور علامات نہیں بڑھیں۔ اس گروپ کے 6 فیصد مریضوں کو پیٹ کی علامات کم کرنے کے لیے اضافی ادویات درکار ہوئیں۔ بے اثر دوا والے گروپ میں 47 فیصد مریضوں کو ان ادویات کی ضرورت پڑی۔
گلوٹن سے ہونے والی بیماری کے علاج کے لیے یہ دوا دو مدافعتی پروٹینز کے سگنلز روکتی ہے۔ یہ پروٹینز آنتوں کی سوزش میں کردار ادا کرتے ہیں۔ دوا کی افادیت اور محفوظ ہونے کی جانچ کے لیے مزید آزمائشیں ضروری ہیں۔ فی الحال سیلیئک کا بنیادی علاج گلوٹن سے پاک غذا ہی ہے۔