ہائڈا سکین (HIDA scan) جگر، گال بلیڈر اور بائل ڈکٹس کے مسائل کی تشخیص کے لیے کیا جانے والا امیجنگ ٹیسٹ ہے۔ اسے کولیسنٹی گرافی یا ہیپاٹوبیلیری سنٹی گرافی بھی کہا جاتا ہے۔
کیوں کیا جاتا ہے
ہائڈا سکین کئی بیماریوں اور کیفیات کی تشخیص میں مدد دے سکتا ہے، مثلاً:
٭ گال بلیڈر کی سوزش
٭ بائل ڈکٹ میں رکاوٹ
٭ بائل ڈکٹس کے پیدائشی مسائل
٭ آپریشن کے بعد کی پیچیدگیاں، مثلاً بائل کا غیر معمولی طور پر باہر نکلنا اور فِسچولا بننا
٭ جگر کی پیوندکاری کے بعد اس کی کارکردگی کا جائزہ
ہائڈا سکین سے گال بلیڈر سے بائل خارج ہونے کی شرح بھی معلوم کی جا سکتی ہے۔ اسے گال بلیڈر ایجیکشن فریکشن کہا جاتا ہے۔
خطرات
ہائڈا سکین کے خطرات بہت کم ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
٭ سکین میں استعمال ہونے والے تابکار ٹریسر والی دوا سے الرجک ردعمل
٭ انجیکشن کی جگہ پر نیل پڑنا
٭ معمولی مقدار میں تابکاری کا سامنا
اگر حمل کا امکان ہو یا آپ بچے کو دودھ پلا رہی ہوں تو ڈاکٹر کو بتائیں۔ ہائڈا سکین جیسے نیوکلیئر میڈیسن ٹیسٹ عموماً حمل کے دوران نہیں کیے جاتے۔
تیاری کیسے کریں
آپ کو یہ ہدایات دی جا سکتی ہیں:
٭ ہائڈا سکین سے چار گھنٹے پہلے کچھ نہ کھائیں، تاہم شفاف مائع جات پینے کی اجازت دی جا سکتی ہے
٭ بعض ادویات اور سپلیمنٹس کا استعمال روک دیں
٭ زیورات اور دیگر دھاتی اشیا گھر چھوڑ دیں یا پروسیجر سے پہلے اتار دیں
طریقہ کار
پروسیجر سے پہلے
آپ کو میز پر عموماً کمر کے بل لٹایا جائے گا۔ اس کے بعد بازو کی رگ میں تابکار ٹریسر داخل کیا جائے گا۔ ٹریسر داخل کرتے وقت دباؤ یا ٹھنڈک محسوس ہو سکتی ہے۔
پروسیجر کے دوران
ٹیسٹ کے دوران رگ کے ذریعے ایک دوا دی جا سکتی ہے، جس سے گال بلیڈر سکڑ کر خالی ہوتا ہے۔ بعض اوقات گال بلیڈر کو زیادہ واضح دیکھنے کے لیے مورفین بھی دی جاتی ہے۔
گاما کیمرا پیٹ کے اوپر رکھا جاتا ہے۔ یہ جسم میں ٹریسر کی حرکت کی تصاویر لیتا ہے۔ اس عمل میں تقریباً ایک گھنٹہ لگتا ہے۔ اس دوران ساکن رہنا ضروری ہوتا ہے۔
ریڈیالوجسٹ کمپیوٹر سکرین پر ٹریسر کی حرکت کا جائزہ لیتا ہے۔ ابتدائی تصاویر واضح نہ ہوں تو 24 گھنٹوں کے اندر مزید امیجنگ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
پروسیجر کے بعد
زیادہ تر افراد سکین کے بعد معمول کی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔ تابکار ٹریسر ایک یا دو دن میں اپنی تابکاری کھو دیتا ہے۔ یہ پیشاب اور پاخانے کے ذریعے بھی خارج ہو جاتا ہے۔ زیادہ پانی پینے سے ٹریسر کو جسم سے خارج کرنے میں مدد ملتی ہے۔
نتائج
تشخیص کے لیے ہائڈا سکین کے ساتھ علامات اور دوسرے ٹیسٹوں کے نتائج بھی دیکھے جاتے ہیں۔ ہائڈا سکین کے ممکنہ نتائج میں شامل ہیں:
نارمل نتیجہ: تابکار ٹریسر جگر سے گال بلیڈر اور پھر چھوٹی آنت تک معمول کے مطابق پہنچتا ہے
ٹریسر کی سست حرکت: یہ بائل کے بہاؤ میں رکاوٹ یا جگر کے افعال میں مسئلے کی نشاندہی کر سکتی ہے
گال بلیڈر میں ٹریسر نظر نہ آنا: یہ گال بلیڈر کی شدید سوزش، یعنی ایکیوٹ کولی سسٹائٹس کی نشاندہی کر سکتا ہے
گال بلیڈر ایجیکشن فریکشن کم ہونا: یہ گال بلیڈر کی طویل مدتی سوزش، یعنی کرونک کولی سسٹائٹس کی نشاندہی کر سکتا ہے
بلیری سسٹم سے باہر ٹریسر نظر آنا: یہ بائل کے غیر معمولی طور پر باہر نکلنے کی نشاندہی کر سکتا ہے
Frequently Asked Questions (FAQs)
ہائڈا سکین میں گال بلیڈر ایجیکشن فریکشن کیوں دیکھا جاتا ہے؟
اس سے معلوم کیا جاتا ہے کہ گال بلیڈر سے بائل کس شرح سے خارج ہو رہی ہے۔
اگر ہائڈا سکین کی ابتدائی تصاویر واضح نہ ہوں تو کیا ہوتا ہے؟
ایسی صورت میں 24 گھنٹوں کے اندر مزید امیجنگ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
سکین کے بعد تابکار ٹریسر جسم سے کیسے خارج ہوتا ہے؟
ٹریسر ایک یا دو دن میں اپنی تابکاری کھو دیتا ہے۔ یہ پیشاب اور پاخانے کے ذریعے بھی جسم سے خارج ہوتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=nuclear-medicine