Vinkmag ad

کڈنی سسٹ: گردے میں مائع سے بھری تھیلی

A doctor explaining kidney cyst, with the help of a model

کڈنی سسٹ (Kidney cyst) سیال مادے سے بھری  تھیلی ہوتی ہے، جو گردے کے اندر یا اس کی سطح پر بن سکتی ہے۔ عام طور پر یہ سادہ سسٹ ہوتی ہیں، جو کینسر نہیں ہوتیں اور عموماً زیادہ مسائل پیدا نہیں کرتیں۔ تاہم، پولی سسٹک کڈنی ڈیزیز جیسی بیماریوں میں بننے والی سسٹ گردوں کی کارکردگی متاثر کر سکتی ہیں۔

علامات

سادہ سسٹ عموماً کوئی علامات پیدا نہیں کرتی، لیکن اگر ان کا سائز بڑھ جائے تو یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:

٭ کمر یا پہلو میں ہلکا مگر مسلسل درد

٭ سسٹ میں انفیکشن ہونے کی صورت میں بخار

٭ پیٹ کے اوپری حصے میں درد

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر آپ کو گردے میں سسٹ سے متعلق علامات محسوس ہوں تو ڈاکٹر سے معائنہ کروانے کے لیے وقت لیں۔

وجوہات

گردے کے سسٹ بننے کی اصل وجہ واضح نہیں۔ ایک نظریے کے مطابق، گردے کی بیرونی تہہ کمزور ہو کر تھیلی بناتی ہے، جس میں سیال مادہ بھر جاتا ہے۔ بعد میں یہ تھیلی گردے کی سطح سے الگ ہو کر سسٹ بن جاتی ہے۔

ایک یا دونوں گردوں کی سطح پر ایک سے زیادہ سسٹ بھی بن سکتی ہیں۔

خطرے کے عوامل

عمر بڑھنے کے ساتھ سادہ گردے کے سسٹ بننے کا امکان بڑھ جاتا ہے، تاہم یہ کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہیں۔ مردوں میں یہ زیادہ عام ہیں۔

پیچیدگیاں

گردے کے سسٹ بعض اوقات یہ پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں

٭ سسٹ میں انفیکشن کی وجہ سے بخار ہو سکتا ہے

٭ سسٹ پھٹ جانا جس کی وجہ سے کمر یا پہلو میں شدید درد ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات پیشاب میں خون بھی آ سکتا ہے

٭ پیشاب کی روانی میں رکاوٹ پیشاب کے معمول کے بہاؤ میں رکاوٹ ہو سکتی ہے جس سے گردے میں سوجن ہو سکتی ہے

تشخیص

گردے کے سادہ سسٹ کی تشخیص کے لیے، ایم آر آئی، سی ٹی اسکین اور الٹراساؤنڈ کیا جا سکتا ہے۔ ان ٹیسٹوں سے یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ گردے میں موجود گلٹی سسٹ ہے یا رسولی۔

بلڈ ٹیسٹس سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ سسٹ سےگردوں کے افعال  متاثر ہو رہے ہیں یا نہیں

علاج

اگر سادہ سسٹ کی وجہ سے کوئی علامت ظاہر نہ ہو اور گردوں کی کارکردگی بھی متاثر نہ ہو تو علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم، ڈاکٹر وقتاً فوقتاً الٹراساؤنڈ یا دیگر امیجنگ ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں تاکہ سسٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ اگر سسٹ کا سائز بڑھنے لگے یا علامات پیدا ہوں تو علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

علامات پیدا کرنے والے سسٹ کا علاج

اگر سادہ سسٹ علامات پیدا کرے تو ڈاکٹر یہ علاج تجویز کر سکتے ہیں:

  سوئی کے ذریعے سسٹ سے سیال نکالنا

جلد کے راستے ایک لمبی، باریک سوئی سسٹ میں داخل کرکے سیال نکالا جاتا ہے، پھر دوبارہ سیال بھرنے سے روکنے کے لیے الکحل یا کیمیائی محلول ڈالا جاتا ہے، جس سے داغ بن جاتا ہے

   سرجری کے ذریعے سسٹ کی دیواریں ختم کرنا

بڑی اور علامات پیدا کرنے والے سسٹ کے لیے سرجری کی جا سکتی ہے۔ اس میں جلد پر چھوٹے کٹ لگا کر کیمرہ اور مخصوص آلات داخل کیے جاتے ہیں۔ سسٹ سے سیال نکالنے کے بعد اس کی دیواریں کاٹ کر یا جلا کر ختم کر دی جاتی ہیں

بعض طریقہ ہائے علاج کے بعد مریض کو مختصر وقت کے لیے ہسپتال میں رہنا پڑ سکتا ہے۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

 گردے میں سسٹ سے کیا ہے؟

گردے میں سسٹ سیال مادے سے بھری گول یا بیضوی تھیلی ہوتی ہے، جو گردے کی سطح یا اندر بن سکتی ہے۔

کیا یہ سرطان زدہ ہوتی ہے؟

گردے کی عام سسٹ کینسر نہیں ہوتی اور عموماً گردوں کی کارکردگی کو متاثر نہیں کرتی۔ تاہم، پیچیدہ سسٹ میں کینسر کے خدشے کے باعث نگرانی ضروری ہوتی ہے۔

اس عام علامات کیا ہیں؟

بڑی سسٹ کی وجہ سے کمر یا پہلو میں درد، بخار یا پیٹ کے اوپری حصے میں درد ہو سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیئ شائع کیا گیا ہے۔ مزید معلومات کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز سے رجوع کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/specialities/nephrology/islamabad

Vinkmag ad

Read Previous

نیویارک میں 30 سال بعد خسرے سے منسلک پہلی موت رپورٹ

Read Next

گینگلیئن سسٹ: جوڑوں کے قریب بننے والی سیال بھری گلٹی

Leave a Reply

Most Popular