Vinkmag ad

اوویرین سسٹ: بیضہ دانی میں مائع سے بھری تھیلی

Docot explaining ovarian cyst with the help of a model

اوویرین سسٹس (Ovarian cysts) میں سسٹ سیال مادے سے بھری تھیلی ہوتی ہے، جواووریز کے اندر یا اس کی سطح پر بن سکتی ہے۔ خواتین میں دو اووریز ہوتی ہیں، جو رحم کے دونوں جانب واقع ہوتی ہیں۔ اووریزمیں سسٹ عام ہیں ، زیادہ تر سسٹ بے ضرر ہوتی ہیں

علامات

زیادہ تر سسٹ کوئی علامات پیدا نہیں کرتیں اور خود ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ تاہم، اگر سسٹ بڑی ہو جائے تو یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:

٭ پیڑو میں وقفے وقفے سے درد، جو ناف کے نیچے ایک جانب ہلکی ٹیس یا تیز درد کی صورت میں محسوس ہو سکتا ہے

٭ پیٹ میں بھراؤ، دباؤ یا بوجھ محسوس ہونا

٭ پیٹ پھولنا

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

ان علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں:

٭ پیٹ یا پیڑو میں اچانک اور شدید درد

٭ درد کے ساتھ بخار یا الٹی

٭ شاک کی علامات، جن میں جلد ٹھنڈی اور چپچپی ہونا، تیز سانسیں آنا، سر چکرانا یا کمزوری محسوس ہونا شامل ہیں

وجوہات

سسٹ ماہواری کے دوران ہونے والی قدرتی تبدیلیوں کے نتیجے میں بنتے ہیں۔ انہیں فنکشنل سسٹ (Functional cysts)  کہا جاتا ہے۔ دیگر اقسام کے سسٹ نسبتاً کم عام ہیں۔

فنکشنل سسٹ

ہر ماہ اووریز میں چھوٹی تھیلیاں بنتی ہیں، جنہیں فولیکلز کہتے ہیں۔ یہ تھیلیاں ایسٹروجن اور پروجیسٹرون ہارمونز بناتی ہیں۔ بیضہ خارج ہونے کے وقت فولیکل پھٹتا ہے اور اس میں سے بیضہ نکلتا ہے۔ اس عمل کو بیضہ خارج ہونا (Ovulation) کہتے ہیں۔

اگر کوئی فولیکل بڑھتا رہے اور معمول کے مطابق نہ پھٹے تو سسٹ بن سکتا ہے۔ اس کی دو اقسام ہیں:

فولیکولر سسٹ: ماہواری کے تقریباً درمیان میں فولیکل سے بیضہ خارج ہوتا ہے، جو فیلوپین ٹیوب میں چلا جاتا ہے۔ اگر فولیکل نہ پھٹے اور بیضہ خارج نہ کرے تو یہ بڑھتا رہتا ہے اور سسٹ بن جاتا ہے

کارپس لیوٹیم سسٹ: بیضہ خارج ہونے کے بعد فولیکل سکڑ کر کارپس لیوٹیم بن جاتا ہے، جو حمل ٹھہرنے کے لیے ضروری ایسٹروجن اور پروجیسٹرون ہارمونز بناتا ہے۔ بعض اوقات بیضہ خارج ہونے کا راستہ بند ہو جاتا ہے اور اس تھیلی میں سیال جمع ہونے سے سسٹ بن جاتی ہے

فنکشنل سسٹ عموماً بے ضرر ہوتی ہیں۔ ان سے شاذونادر ہی درد ہوتا ہے اور اکثر یہ دو سے تین ماہواری کے چکروں میں خود ہی ختم ہو جاتے ہیں۔

دیگر اقسام کے سسٹ

کچھ سسٹ ماہواری کے چکر سے تعلق نہیں رکھتے، جن میں شامل ہیں:

 ڈرمائڈ سسٹ

اسے ٹیراٹوما بھی کہتے ہیں۔ یہ بیضہ دانی میں بیضے بنانے والے خلیات سے بنتی ہے اور اس میں بال، جلد یا دانتوں جیسے ٹشوز موجود ہو سکتے ہیں۔ اس قسم کی سسٹ میں کینسر کا امکان کم ہوتا ہے

 سسٹ ایڈینوما

یہ بیضہ دانی کی بیرونی سطح کے خلیات سے بنتی ہے۔ اس میں پانی جیسا یا لیس دار مادہ ہو سکتا ہے اور یہ بہت بڑی بھی ہو سکتی ہے

 اینڈومیٹریوما

اینڈومیٹریوسس میں رحم کی اندرونی تہہ سے ملتے جلتے خلیات رحم سے باہر بڑھنے لگتے ہیں۔ بعض اوقات یہ ٹشوز بیضہ دانی سے جڑ کر سسٹ بنا دیتے ہیں، جسے اینڈومیٹریوما کہتے ہیں

ڈرمائڈ سسٹ اور سسٹ ایڈینوما بڑے ہو کر اووریز کو اپنی جگہ سے ہٹا سکتی ہیں۔ اس سے اووریز مڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جسے اوورین ٹورشن کہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیضہ دانی کو خون کی فراہمی کم یا مکمل طور پر بند ہو سکتی ہے۔

خطرے کے عوامل

یہ عوامل اووریز میں سسٹ بننے کا امکان بڑھا سکتے ہیں:

٭ ہارمونز میں تبدیلی فرٹیلائزیشن بڑھانے والی بعض ادویات بیضہ خارج ہونے کے عمل کو تحریک دیتی ہیں اور سسٹ کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں

٭ حمل بعض اوقات بیضہ خارج ہونے کے بعد بننے والی تھیلی حمل کے دوران بھی اووریز میں موجود رہتی ہے اور اس کا سائز بڑھ سکتا ہے

٭ اینڈومیٹریوسس اس بیماری میں رحم کی اندرونی تہہ سے ملتے جلتے ٹشوزاووریز سے جڑ کر سسٹ بنا سکتے ہیں

٭ پیڑو میں شدید انفیکشن اگر اووریز تک پھیل جائے تو سسٹ بن سکتی ہیں

٭ اگر اووریز میں پہلےسسٹ بن چکی ہو تو دوبارہ بننے کا امکان زیادہ ہوتا ہے

پیچیدگیاں

بیضہ دانی کی سسٹ سے پیچیدگیاں شاذونادر ہی پیدا ہوتی ہیں، تاہم ان میں شامل ہیں:

اووریز کا مڑ جانا 

بڑی سسٹ اووریز کو اپنی جگہ سے ہٹا سکتے ہیں، جس سے اس کے مڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس صورت میں پیڑو میں اچانک شدید درد، متلی اور الٹی ہو سکتی ہے۔ بیضہ دانی کو خون کی فراہمی کم یا بند بھی ہو سکتی ہے

 سسٹ پھٹ جانا

سسٹ پھٹنے سے پیڑو کے اندر شدید درد اور خون بہنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ سسٹ جتنی بڑی ہو، اس کے پھٹنے کا امکان اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ پیڑو پر دباؤ ڈالنے والی شدید سرگرمیاں، مثلاً وجائنا کے ذریعے جنسی تعلق، بھی یہ خطرہ بڑھا سکتی ہیں

تشخیص

بیضہ دانی میں سسٹ کا پتا پیڑو کے معائنے یا الٹراساؤنڈ جیسے امیجنگ ٹیسٹ سے چل سکتا ہے۔ سسٹ کے سائز اور اس میں موجود مادے کی نوعیت، یعنی سیال یا ٹھوس ہونے کے مطابق ڈاکٹر مزید ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں تاکہ سسٹ کی قسم اور علاج کی ضرورت کا تعین کیا جا سکے۔

ممکنہ ٹیسٹ یہ ہیں:

 حمل کا ٹیسٹ 

مثبت نتیجہ ابتدائی حمل کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ حمل کے دوران کارپس لیوٹیم سسٹ کا موجود ہونا معمول کی بات ہے

 پیڑو کا الٹراساؤنڈ 

اس ٹیسٹ میں ایک خاص آلہ جسم پر رکھ کر ہائی فریکوئنسی ساؤنڈ ویوز بھیجی اور وصول کی جاتی ہیں۔ ان کی مدد سے رحم اور اووریز کی تصاویر حاصل ہوتی ہیں۔ اس سے سسٹ کی موجودگی، مقام اور یہ معلوم کرنے میں مدد ملتی ہے کہ سسٹ ٹھوس ہے یا سیال سے بھرا ہوی ہے۔

 لیپروسکوپی

پیٹ پر چھوٹا کٹ لگا کر روشنی والا  لیپروسکوپ، اندر داخل کیا جاتا ہے۔ اس کی مدد سے ڈاکٹر اووریز اور سسٹ کا معائنہ کر سکتے ہیں۔ اگر سسٹ موجود ہو تو عموماً اسی عمل کے دوران اس کا علاج بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ سرجری ہے، جس کے لیے بے ہوشی کی دوا دی جاتی ہے۔

 ٹیومر مارکر ٹیسٹ

اووریز کے کینسر میں بعض اوقات خون میں کینسر اینٹی جن نامی پروٹین کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ اگر سسٹ ٹھوس ہو یا بیضہ دانی کے کینسر کا خطرہ زیادہ ہو تو ڈاکٹر سی اے 125 یا خون کے دیگر ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں۔ تاہم، اینڈومیٹریوسس اور پیڑو کے انفیکشن جیسی غیر سرطانی بیماریوں میں بھی سی اے 125 کی سطح بڑھ سکتی ہے۔

بعض اوقات سسٹ کی کم عام اقسام کا پتا پیڑو کے معائنے کے دوران چلتا ہے۔ مینوپاز کے بعد بننے والے ٹھوس سسٹ میں کینسر کا امکان ہو سکتا ہے، اس لیے باقاعدگی سے پیڑو کا معائنہ کروانا ضروری ہے۔

علاج

علاج کا انحصار عمر، سسٹ کی قسم، سائز اور علامات پر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر یہ طریقے تجویز کر سکتے ہیں:

٭ کئی صورتوں میں فوری علاج کے بجائے چند ماہ انتظار کرکے دوبارہ معائنہ کیا جا سکتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ سسٹ خود ختم ہوا ہے یا نہیں۔ اگر کوئی علامت نہ ہو اور الٹراساؤنڈ میں چھوٹی، سیال سے بھری سسٹ نظر آئے تو عمر سے قطع نظر یہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ اس دوران سسٹ کے سائز یا شکل میں تبدیلی دیکھنے کے لیے وقفے وقفے سے پیڑو کا الٹراساؤنڈ کیا جا سکتا ہے

٭ ہارمونز پر مشتمل مانع حمل ادویات، مثلاً برتھ کنٹرول گولیاں، بیضہ خارج ہونے کے عمل کو روکتی ہیں۔ اس طرح نئے سسٹ بننے کا امکان کم ہو سکتا ہے، تاہم یہ پہلے سے موجود سسٹ کا سائز کم نہیں کرتیں

٭ اگر سسٹ بڑی ہو، مسلسل بڑھ رہی ہو یا درد کا باعث بنے تو ڈاکٹر اسے نکالنے کا مشورہ دے سکتے ہیں۔ بعض سسٹ اووریز کو نکالے بغیر بھی نکالے جا سکتی ہیں، اس عمل کو سسٹیکٹومی کہتے ہیں۔ بعض صورتوں میں سسٹ کے ساتھ اووریز بھی نکالنی پڑ سکتی ہے، جسے اوفوریکٹومی کہتے ہیں

اکثر سرجری لیپروسکوپی کے ذریعے کی جا سکتی ہے، جس میں پیٹ پر چھوٹے چیروں سے کیمرہ اور مخصوص آلات داخل کیے جاتے ہیں۔ اگر سسٹ بہت بڑی ہو یا کینسر کا خدشہ ہو تو بڑے چیرے کے ذریعے اوپن سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

مینو پاز کے بعد بننے والی سسٹ بعض اوقات کینسر ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں مریضہ کو خواتین کے کینسر کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے۔ علاج کے لیے رحم، رحم کا منہ، فیلوپین ٹیوبز اور بیضہ دانیاں نکالنے کی سرجری کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ بعض مریضوں کیموتھراپی یا ریڈی ایشن تھراپی بھی دی جا سکتی ہے۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا بیضہ دانی میں سسٹ خطرناک ہوتی ہے؟

زیادہ تر سسٹ بے ضرر ہوتے ہیں اور چند ماہ میں خود ختم ہو جاتی ہیں، تاہم بعض اوقات یہ پھٹ سکتی ہیں یا بیضہ دانی مڑنے کا سبب بن سکتی ہیں۔

بیضہ دانی میں سسٹ بننے کی کیا وجوہات ہیں؟

زیادہ تر سسٹ ماہواری کے دوران ہونے والی قدرتی ہارمونل تبدیلیوں کے باعث بنتی ہیں۔ اینڈومیٹریوسس اور پیڑو کے شدید انفیکشن سے بھی سسٹ بن سکتی ہیں۔

بیضہ دانی میں سسٹ کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

پیڑو کے معائنے، الٹراساؤنڈ، حمل کے ٹیسٹ، لیپروسکوپی اور خون میں ٹیومر مارکر کی جانچ سے سسٹ کی تشخیص کی جا سکتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیئ شائع کیا گیا ہے۔ مزید معلومات کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز سے رجوع کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/specialities/obstetrics-and-gynecology/islamabad

Vinkmag ad

Read Previous

گینگلیئن سسٹ: جوڑوں کے قریب بننے والی سیال بھری گلٹی

Leave a Reply

Most Popular