Vinkmag ad

گینگلیئن سسٹ: جوڑوں کے قریب بننے والی سیال بھری گلٹی

گینگلیئن سسٹ  (Ganglion cyst) ایک چھوٹی، گول گلٹی ہوتی ہے، جس میں جیلی جیسا گاڑھا سیال بھرا ہوتا ہے۔ یہ عموماً کلائی یا انگلیوں میں جوڑوں  کے قریب بنتی ہے۔ یہ ٹخنوں، پاؤں اور گھٹنوں میں بھی ہو سکتی ہے۔ گینگلیئن سسٹ سرطانی نہیں ہوتی۔

علامات

٭ کلائی، ہاتھ، ٹخنے یا پاؤں کے جوڑوں کے قریب چھوٹی گلٹی یا سوجن بننا

٭ گلٹی کا گول یا بیضوی اور چھونے پر سخت مگر حرکت کرنے والا محسوس ہونا

٭ ناخن کے قریب میوکس سسٹ بننا، جس سے جلد پتلی ہو سکتی ہے اور سیال خارج ہو سکتا ہے

٭ سرگرمی کے دوران سسٹ کا سائز بڑھنا اور آرام کے وقت کم ہونا

٭ عموماً درد نہ ہونا، تاہم اعصاب پر دباؤ سے درد، سنسناہٹ یا کمزوری محسوس ہونا

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر کلائی، ہاتھ، ٹخنے یا پاؤں میں گلٹی یا درد محسوس ہو تو ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں

وجوہات

گینگلیئن سسٹ بننے کی اصل وجہ معلوم نہیں۔ یہ جوڑوں یا پٹھوں کو ہڈیوں سے جوڑنے والے مضبوط ریشوں کی اندرونی جھلی سے بنتا ہے۔ اس کے اندر گاڑھا، جیلی جیسا سیال ہوتا ہے۔ بار بار ایک جیسی حرکت کرنے سے اس کا سائز بڑھ سکتا ہے، تاہم یہ عموماً کسی چوٹ کی وجہ سے ہوتی ہے۔

خطرے کے عوامل

 عمر اور جنس

یہ سسٹ عموماً 20 سے 40 سال کی عمر میں بنتی ہے اور خواتین میں زیادہ عام ہے

 جوڑوں کا گھساؤ

انگلیوں کے ناخنوں کے قریب واقع جوڑوں میں آرتھرائٹس ہونے سے میوکس سسٹ بننے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

جوڑوں کا ڈھیلا پن

جن افراد کے جوڑ معمول سے زیادہ ڈھیلے ہوں، ان میں گینگلیئن سسٹ بننے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے

تشخیص

گینگلیئن سسٹ کی تشخیص عموماً ظاہری شکل اور جسمانی معائنے سے کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر گلٹی دبا کر درد کا جائزہ لیتے ہیں۔ روشنی گزارنے کے ٹیسٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ گلٹی ٹھوس ہے یا سیال سے بھری ہوئی ہے۔

٭ ایم آر آئی

٭ الٹراساؤنڈ

٭ ایکس رے

علاج

گینگلیئن سسٹ عموماً بے درد ہوتی ہے اور علاج کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ڈاکٹر اس کے سائز اور تبدیلیوں پر نظر رکھنے کا مشورہ دے سکتے ہیں۔ درد یا جوڑوں کی حرکت متاثر ہونے پر درج ذیل علاج کیے جا سکتے ہی

 جوڑ کو حرکت سے روکنا

بریس یا سپلنٹ پہننے سے جوڑ کو عارضی طور پر ساکن رکھا جا سکتا ہے۔ اس سے سسٹ کا سائز اور اعصاب پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ تاہم، طویل استعمال سے قریبی پٹھے کمزور ہو سکتے ہیں۔

 سسٹ سے سیال نکالنا

ڈاکٹر سوئی کے ذریعے سسٹ کا سیال نکال سکتے ہیں۔ تاہم، سسٹ دوبارہ بن سکتی ہے۔ سوزش کم کرنے کے لیے سٹیرائڈ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سرجری

دیگر علاج مؤثر نہ ہوں تو سسٹ اور اسے جوڑ یا کنڈرے سے ملانے والی ڈنڈی نکال دی جاتی ہے۔ شاذو نادر صورتوں میں قریبی اعصاب، خون کی نالیوں یا لیگامنٹس کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سرجری کے بعد بھی سسٹ دوبارہ بن سکتی ہے، تاہم اس کا امکان کم ہوتا ہے۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

 کیا گینگلیئن سسٹ خود بخود ختم ہو سکتی ہے؟

جی ہاں، بعض گینگلیئن سسٹ بغیر علاج کے خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔ ان کا سائز وقت کے ساتھ کم یا زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔

کیا گینگلیئن سسٹ کا سائز جسمانی سرگرمی سے متاثر ہوتا ہے؟

جی ہاں، بعض افراد میں جسمانی سرگرمی کے دوران سسٹ بڑی اور آرام کے وقت چھوٹی ہو جاتی ہے۔ بار بار ایک ہی حرکت کرنے سے بھی اس کا سائز بڑھ سکتا ہے۔

کیا گینگلیئن سسٹ کی سرجری کے بعد دوبارہ بننے کا امکان ہوتا ہے؟

جی ہاں، سرجری کے بعد بھی سسٹ دوبارہ بن سکتی ہے، تاہم اس کا امکان کم ہو جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیئ شائع کیا گیا ہے۔ مزید معلومات کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز سے رجوع کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/specialities/dermatology/islamabad

Vinkmag ad

Read Previous

کڈنی سسٹ: گردے میں مائع سے بھری تھیلی

Read Next

اوویرین سسٹ: بیضہ دانی میں مائع سے بھری تھیلی

Leave a Reply

Most Popular