پاکستان میں کی گئی ایک ابتدائی تحقیق سے بلڈ پریشر کی خطرناک کیفیت کا پیشگی اندازہ لگانے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ مصنوعی ذہانت نے مریضوں کی معلومات جانچ کر تین دن پہلے خطرے کی نشان دہی کی۔ اس مقصد کے لیے بلڈ پریشر مانیٹر اور کلائی پر پہنے جانے والے فٹنس ٹریکر استعمال ہوئے۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق تحقیق سندھ کے ایک ہسپتال میں ہوئی۔ اس میں ہائی بلڈ پریشر کے 4,190 بالغ مریض شامل تھے۔ جنوری 2025 سے جنوری 2026 تک ان کی نگرانی کی گئی۔ اس دوران 312 مریضوں میں بلڈ پریشر خطرناک حد تک بڑھا، جس کے ساتھ اعضا کو شدید نقصان بھی پہنچا۔
نیند میں بلڈ پریشر کم نہ ہونا اور جاگنے کے بعد تیزی سے بڑھنا خطرناک کیفیت کی اہم نشانیاں تھیں۔ مصنوعی ذہانت نے ان تبدیلیوں اور دل کی دھڑکن کا تجزیہ کرکے ڈاکٹروں کو پیشگی آگاہ کیا۔ وارننگ ملنے والے تقریباً 32 فیصد مریضوں میں یہ خطرناک کیفیت پیدا ہوئی۔
محققین کے مطابق پیشگی اطلاع بروقت طبی مدد کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم نتائج ابتدائی ہیں اور مکمل تحقیق ابھی کسی سائنسی جریدے میں ماہرین کی جانچ کے بعد شائع نہیں ہوئی۔ وسیع استعمال سے پہلے مختلف آبادیوں اور ہسپتالوں میں مزید تحقیق ضروری ہے۔