بچپن کے دن طویل اور بڑھتی عمر میں سال تیزی سے گزرتے محسوس ہونے کی وجہ دماغ کے کام کرنے کا انداز ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق وقت کی رفتار نہیں بدلتی، بلکہ عمر کے ساتھ اسے محسوس کرنے کا انداز بدل جاتا ہے۔
ڈیوک یونیورسٹی کے پروفیسر ایڈرین بیجان نے اس کی وضاحت 2019 میں کیمبرج یونیورسٹی پریس کے جریدے یورپین ریویو میں شائع سائنسی مقالے میں کی۔ ان کے مطابق انسان وقت کے گزرنے کا احساس ذہن میں بننے والی تصاویر اور تبدیلیوں کے ذریعے کرتا ہے۔
بچپن میں دماغ نئی معلومات کو نسبتاً تیزی سے پروسیس کرتا ہے۔ اس لیے ایک مخصوص وقت میں زیادہ ذہنی تصاویر بنتی ہیں اور وہ طویل محسوس ہوسکتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ یہ عمل سست ہوسکتا ہے۔ نتیجتاً اسی مدت میں نسبتاً کم نئی ذہنی تصاویر بنتی ہیں اور وقت تیزی سے گزرتا محسوس ہوتا ہے۔
بیجان کے مطابق اصل وقت اپنی رفتار سے ہی گزرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہمارا دماغ اس کے گزرنے کو کس طرح محسوس کرتا ہے۔