Vinkmag ad

ویسیکویوریٹرل ریفلکس: مثانے سے پیشاب کا گردوں کی طرف واپس بہنا

Child undergoing an ultrasound examination for vesicoureteral reflux (VUR) to evaluate the kidneys, ureters and bladder.

ویسیکویوریٹرل ریفلکس (Vesicoureteral reflux) ایسی کیفیت ہے جس میں پیشاب مثانے سے الٹی سمت میں بہنے لگتا ہے۔ یہ یوریٹرز کے ذریعے گردوں کی طرف واپس جاتا ہے۔ عام طور پر پیشاب کو مثانے سے واپس یوریٹرز میں نہیں جانا چاہیے۔

یہ مسئلہ زیادہ تر شیر خوار اور کم عمر بچوں میں پایا جاتا ہے۔ بعض بچے یوریٹر کی ساخت میں مسئلے کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ بعض میں یہ کیفیت بعد میں پیدا ہوتی ہے، مثلاً جب مثانہ مکمل طور پر خالی نہ ہو سکے۔

علامات

ویسیکویوریٹرل ریفلکس کی علامات اکثر پیشاب کی نالی کے انفیکشن (یو ٹی آئی) کی وجہ سے سامنے آتی ہیں۔ یو ٹی آئی میں یہ علامات ہو سکتی ہیں:

٭ بار بار اور شدید پیشاب کی حاجت محسوس ہونا

٭ پیشاب کرتے وقت جلن

٭ بار بار تھوڑی مقدار میں پیشاب آنا

٭ پیشاب کا دھندلا ہونا

٭ بخار

٭ پہلو، پیٹ یا ران کے جوڑ کے قریب درد

شیر خوار اور بہت چھوٹے بچے اپنی علامات بیان نہیں کر پاتے۔ ان میں یو ٹی آئی کی علامات یہ ہو سکتی ہیں:

٭ بغیر کسی واضح وجہ کے بخار

٭ بھوک کم ہونا

٭ غیر معمولی چڑچڑاپن

اگر ویسیکویوریٹرل ریفلکس کا علاج نہ ہو تو بڑے ہوتے بچے میں یہ مسائل سامنے آ سکتے ہیں:

٭ بستر گیلا کرنا

٭ قبض یا پاخانے پر قابو نہ رہنا

٭ ہائی بلڈ پریشر

٭ پیشاب میں پروٹین

٭ اچانک پیشاب کی شدید حاجت یا معمول سے زیادہ پیشاب آنا

٭ پیشاب پر قابو نہ رہنا

اس کیفیت میں ایک یا دونوں گردے سوج سکتے ہیں۔ اسے ہائیڈرونیفروسس کہا جاتا ہے۔ یہ گردوں کی طرف پیشاب واپس آنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ بعض اوقات الٹراساؤنڈ کے ذریعے بچے کی پیدائش سے پہلے ہی اس کا پتا چل جاتا ہے۔

ڈاکٹر سے کب رابطہ کریں

اگر بچے میں یو ٹی آئی کی علامات ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ ان میں پیشاب میں جلن، بار بار پیشاب کی شدید حاجت، پیٹ یا پہلو میں درد، متلی اور الٹی شامل ہیں۔

تین ماہ سے کم عمر بچے کا ریکٹل درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ہو تو فوراً طبی مشورہ لیں۔ یہ اس صورت میں خاص طور پر ضروری ہے جب کوئی دوسری علامت نہ ہو اور بخار 24 گھنٹے سے زیادہ رہے۔ بچہ کھانا کم کر دے، رویے میں نمایاں تبدیلی آئے یا بہت بیمار دکھائی دے تو بھی طبی معائنہ ضروری ہے۔

وجوہات

ویسیکویوریٹرل ریفلکس کی دو بنیادی اقسام ہیں اور دونوں کی وجوہات مختلف ہیں۔

پرائمری ویسیکویوریٹرل ریفلکس: یہ زیادہ عام قسم ہے اور بچہ اس کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اس میں وہ والو درست طریقے سے بند نہیں ہوتا جو مثانے سے پیشاب کو یوریٹرز میں واپس جانے سے روکتا ہے۔

بچے کی نشوونما کے ساتھ یوریٹرز لمبے اور سیدھے ہوتے جاتے ہیں۔ اس سے والو بہتر کام کر سکتا ہے اور پیشاب کا واپس بہنا وقت کے ساتھ ختم ہو سکتا ہے۔ یہ کیفیت فیمیلیز میں بھی ہوتی ہے، اس لیے اس میں جینیاتی عوامل کا کردار ممکن ہے۔ تاہم اس کی اصل وجہ معلوم نہیں۔

سیکنڈری ویسیکویوریٹرل ریفلکس: یہ عموماً مثانہ مکمل طور پر خالی نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کی وجہ پیشاب کے اخراج میں رکاوٹ، یوریتھرا کا تنگ ہونا یا مثانے کو کنٹرول کرنے والے اعصاب کو نقصان پہنچنا ہو سکتا ہے۔ یوریتھرا  وہ نالی ہے جس کے ذریعے پیشاب مثانے سے جسم سے باہر نکلتا ہے۔

خطرے کے عوامل

٭ مثانے اور آنتوں کی کارکردگی میں خرابی (بی بی ڈی)

٭ سفید فام بچوں میں اس کا خطرہ سیاہ فام بچوں کی نسبت زیادہ دیکھا گیا ہے

٭ مجموعی طور پر لڑکیوں میں اس کا خطرہ لڑکوں سے زیادہ ہے۔ تاہم پیدائشی ریفلکس لڑکوں میں زیادہ عام ہے

٭ دو سال تک کی عمر کے بچوں میں اس کا امکان نسبتاً زیادہ ہوتا ہے

٭ والدین یا بہن بھائیوں میں پرائمری ویسیکویوریٹرل ریفلکس ہونے سے بچے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے

پیچیدگیاں

گردوں کو نقصان پہنچنا ویسیکویوریٹرل ریفلکس کی اہم پیچیدگی ہے۔ ریفلکس جتنا شدید ہو، پیچیدگیوں کا خطرہ اتنا ہی بڑھ سکتا ہے۔

٭ گردوں پر داغ پڑنا

٭ ہائی بلڈ پریشر

٭ گردے کی خون فلٹر کرنے کی صلاحیت متاثر ہونا، جو شدید صورت میں کڈنی فیلیئر کا باعث بن سکتا ہے

تشخیص

پیشاب کے ٹیسٹ سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ بچے کو یو ٹی آئی ہے یا نہیں۔ ویسیکویوریٹرل ریفلکس کی تشخیص اور اس کی شدت جانچنے کے لیے مزید ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:

٭ گردوں اور مثانے کا الٹراساؤنڈ

٭ پیشاب سے متعلق اعضاء کا خصوصی ایکسرے

٭ نیوکلیئر سکین

وائڈنگ سسٹویوریتھروگرام (VCUG) پیشاب کے نظام کا ایک خصوصی ایکسرے ہے۔ اس میں مثانے میں کیتھیٹر کے ذریعے مخصوص مادہ ڈالا جاتا ہے۔ پھر پیشاب کے دوران ایکسرے تصاویر لے کر دیکھا جاتا ہے کہ پیشاب یوریٹرز کی طرف واپس تو نہیں جا رہا۔

شدت کے درجے

ٹیسٹ کے بعد ریفلکس کی شدت کو گریڈ 1 سے 5 میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ گریڈ 1 سب سے ہلکی صورت ہے، جس میں پیشاب صرف یوریٹر تک واپس جاتا ہے۔ گریڈ 5 سب سے شدید صورت ہے۔ اس میں گردے کی سوجن یعنی ہائیڈرونفروسس اور یوریٹر میں پیچ یا غیر معمولی خم پیدا ہو سکتا ہے۔

علاج

زیادہ شدید ویسیکویوریٹرل ریفلکس میں ادویات یا سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ادویات

یو ٹی آئی کا فوری علاج اینٹی بائیوٹکس سے کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد انفیکشن پھیلانے والے جراثیم کو گردوں تک پہنچنے سے روکنا ہے۔ بعض بچوں کو یو ٹی آئی سے بچاؤ کے لیے کم مقدار میں اینٹی بائیوٹک بھی دی جا سکتی ہے۔

سرجری

اگر ادویات سے مسئلہ بہتر نہ ہو تو سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ بخار کے ساتھ بار بار یو ٹی آئی ہونے کی صورت میں بھی اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔ سرجری کے ذریعے مثانے اور متاثرہ یوریٹر کے درمیان موجود والو کو درست کیا جاتا ہے تاکہ پیشاب واپس نہ بہے۔

سرجری کے طریقوں میں شامل ہیں:

٭ اوپن سرجری

٭ روبوٹ اسسٹڈ لیپروسکوپک سرجری٭ اینڈوسکوپک سرجری

شدید صورتوں میں بہت کم بچوں کو متاثرہ گردے کا کچھ حصہ یا پورا گردہ نکالنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس آپریشن کو نیفریکٹومی کہا جاتا ہے۔ اس پر اس وقت غور کیا جا سکتا ہے جب گردہ شدید متاثر ہو اور مناسب طریقے سے کام نہ کر رہا ہو۔

گھر پر دیکھ بھال

گھر پر کچھ اقدامات یو ٹی آئی کی وجہ سے ہونے والی تکلیف کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں:

٭ بچے کو مناسب مقدار میں پانی اور دیگر سیال دیں

٭ تکلیف کم کرنے کے لیے گرم پیڈ، کمبل یا تولیہ استعمال کیا جا سکتا ہے

اگر مثانے اور آنتوں کی کارکردگی میں خرابی (بی بی ڈی) بھی موجود ہو تو بچے کو باقاعدگی سے واش روم جانے کی عادت ڈالیں۔ جاگتے ہوئے ہر دو سے تین گھنٹے بعد مثانہ خالی کرنا مفید ہو سکتا ہے۔

قبض سے بچاؤ کے لیے مناسب مقدار میں پانی اور فائبر والی غذا دیں۔ اگر قبض ہو جائے تو ڈاکٹر سے علاج کے بارے میں مشورہ کریں۔ ضرورت کے مطابق قبض دور کرنے والی دوا دی جا سکتی ہے۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا ویسیکویوریٹرل ریفلکس عمر کے ساتھ خود ٹھیک ہو سکتا ہے؟

پرائمری ویسیکویوریٹرل ریفلکس بعض بچوں میں عمر بڑھنے کے ساتھ بہتر ہو سکتا ہے۔ یوریٹرز کی نشوونما کے ساتھ والو بہتر کام کرنے لگتا ہے اور پیشاب کا واپس بہنا ختم ہو سکتا ہے۔

ویسیکویوریٹرل ریفلکس میں یو ٹی آئی کا خطرہ کیوں بڑھتا ہے؟

پیشاب کے واپس بہنے سے جراثیم مثانے سے گردوں کی طرف پہنچ سکتے ہیں۔ اس لیے یو ٹی آئی کی جلد تشخیص اور بروقت علاج ضروری ہے۔

ویسیکویوریٹرل ریفلکس کے گریڈ کیا ظاہر کرتے ہیں؟

گریڈ 1 سے 5 تک اس مسئلے کی شدت ظاہر کی جاتی ہے۔ گریڈ 1 سب سے ہلکی اور گریڈ 5 سب سے شدید صورت ہے۔

کیا ہر بچے کو سرجری کی ضرورت ہوتی ہے؟

نہیں۔ زیادہ شدید ریفلکس، ادویات سے بہتری نہ آنے یا بخار کے ساتھ بار بار یو ٹی آئی ہونے کی صورت میں سرجری پر غور کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=pediatrician

Vinkmag ad

Read Previous

ویلی فیور: مٹی میں موجود فنگس سے انفیکشن

Leave a Reply

Most Popular