ویلی فیور (Valley fever) ایک انفیکشن ہے جو کوکسیڈیوئیڈیز (Coccidioides) نامی فنگس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اسے سان جوکین ویلی فیور اور ایکیوٹ کوکسیڈیوئیڈو مائیکوسس بھی کہا جاتا ہے۔ یہ فنگس بعض علاقوں کی مٹی میں پایا جاتا ہے۔
کھیتی باڑی، تعمیرات، تیز ہوا یا دوسری سرگرمیوں سے مٹی اڑتی ہے۔ اس کے ساتھ فنگس کے سپورز، یعنی انتہائی باریک ذرات، بھی ہوا میں پھیل سکتے ہیں۔ سانس کے ذریعے یہ سپورز پھیپھڑوں میں پہنچ کر انفیکشن کا سبب بنتے ہیں۔
علامات
کوکسیڈیوئیڈومائیکوسس کی علامات انفیکشن کی نوعیت پر منحصر ہوتی ہیں۔ ویلی فیور اس انفیکشن کا ابتدائی یا ایکیوٹ مرحلہ ہے۔ بعض صورتوں میں بیماری دائمی شکل اختیار کر سکتی ہے یا جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل سکتی ہے۔
ایکیوٹ کوکسیڈیوئیڈومائیکوسس
ابتدائی انفیکشن میں بہت کم علامات ہوتی ہیں یا کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ علامات فنگس سے متاثر ہونے کے ایک سے تین ہفتے بعد شروع ہو سکتی ہیں۔ یہ اکثر فلو سے ملتی جلتی ہیں اور معمولی سے شدید ہو سکتی ہیں۔
٭ بخار
٭ کھانسی
٭ تھکاوٹ
٭ سانس لینے میں دشواری
٭ سانس لیتے وقت سینے میں درد
٭ رات کو پسینہ آنا
٭ سر درد
٭ جوڑوں میں درد، خاص طور پر ٹخنوں، گھٹنوں اور کلائیوں میں
٭ جلد پر دانے یا ریش
علامات ظاہر ہونے پر مکمل صحت یابی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ تھکاوٹ اور جوڑوں کا درد اس سے بھی زیادہ عرصے تک رہ سکتا ہے۔ سینے کے ایکسرے میں انفیکشن نمونیا جیسا دکھائی دے سکتا ہے۔
طویل مدتی کوکسیڈیوئیڈومائیکوسس
اگر ابتدائی انفیکشن مکمل طور پر ختم نہ ہو تو یہ نمونیا کی دائمی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ یہ پیچیدگی کمزور مدافعتی نظام والے افراد میں زیادہ دیکھی جاتی ہے۔
٭ ہلکا بخار
٭ وزن میں کمی
٭ کھانسی، جس کے ساتھ خون آلود بلغم بھی آ سکتا ہے
٭ سینے میں درد
٭ پھیپھڑوں میں نوڈیولز (چھوٹی گانٹھیں)، کیویٹیز (خالی جگہیں) یا زخم کے نشانات
جسم میں پھیلنے والا کوکسیڈیوئیڈومائیکوسس
یہ بیماری کی سب سے سنگین لیکن غیر عام شکل ہے۔ اس میں انفیکشن پھیپھڑوں سے جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل جاتا ہے۔ یہ جلد، ہڈیوں، جگر، دماغ اور دل کو متاثر کر سکتا ہے۔ دماغ اور سپائنل کارڈ کو ڈھانپنے والی جھلیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
علامات متاثرہ عضو کے مطابق مختلف ہوتی ہیں۔ مثلاً:
٭ جلد پر گانٹھیں یا شدید زخم
٭ ریڑھ کی ہڈی، ٹانگوں، گھٹنوں یا دوسری ہڈیوں میں دردناک زخم
٭ جوڑوں میں درد اور سوجن، خاص طور پر گھٹنوں یا ٹخنوں میں
٭ دماغ اور سپائنل کارڈ کے گرد جھلیوں اور سیال کا انفیکشن، جسے میننجائٹس کہتے ہیں
ڈاکٹر سے کب رابطہ کریں
ویلی فیور کی علامات ہوں تو 60 سال سے زائد عمر، حمل یا کمزور مدافعتی نظام کی صورت میں ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ فلپائنی یا افریقی خاندانی پس منظر رکھنے والے افراد میں بھی شدید بیماری کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر سے رابطہ خاص طور پر ضروری ہے اگر:
٭ آپ ایسے علاقے میں رہتے ہوں یا حال ہی میں وہاں گئے ہوں جہاں ویلی فیور عام ہے
٭ علامات بہتر نہ ہو رہی ہوں
اگر آپ نے ایسے علاقے کا سفر کیا ہے جہاں ویلی فیور عام ہے تو ڈاکٹر کو اس بارے میں ضرور بتائیں۔
وجوہات
ویلی فیور دو اقسام کے فنگس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ انہیں کوکسیڈیوئیڈیز امیٹس (Coccidioides immitis) اور کوکسیڈیوئیڈیز پوساڈاسی (Coccidioides posadasii) کہا جاتا ہے۔
خطرے کے عوامل
٭ ایسے علاقے میں رہنا یا جانا جہاں یہ فنگس عام ہو
٭ فلپائنی یا افریقی خاندانی پس منظر ہونا
٭ حمل
٭ مدافعتی نظام کا کمزور ہونا
٭ ذیابیطس
٭ زیادہ عمر
پیچیدگیاں
شدید نمونیا: کوکسیڈیوئیڈومائیکوسس کی وجہ سے ہونے والے نمونیا کے زیادہ تر مریض پیچیدگیوں کے بغیر صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
پھیپھڑے کی کیویٹی پھٹنا: کچھ افراد کے پھیپھڑوں میں پتلی دیوار والی کیویٹیز بن سکتی ہیں۔ اکثر یہ کسی مسئلے کے بغیر ختم ہو جاتی ہیں۔ تاہم کبھی کبھار کیویٹی پھٹ سکتی ہے۔ اس سے سینے میں درد اور سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔
انفیکشن کا جسم میں پھیلنا: یہ سب سے سنگین پیچیدگی ہے، اگرچہ عام نہیں۔ اس سے جلد کے زخم، جوڑوں میں درد اور سوزش ہو سکتی ہے۔ میننجائٹس بھی ہو سکتا ہے، جو علاج نہ ہونے پر جان لیوا ہو سکتا ہے۔
بچاؤ کی تدابیر
ویلی فیور سے بچاؤ کے لیے کوئی ویکسین دستیاب نہیں۔ جہاں یہ بیماری عام ہو وہاں مٹی اور گردوغبار سے بچنے کی کوشش کریں۔ اس سے فنگس کے سپورز سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہونے کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔
٭ ماسک پہنیں
٭ بہت زیادہ گردوغبار والے علاقوں اور تعمیراتی مقامات سے دور رہیں
٭ گردوغبار کے طوفان کے دوران گھر کے اندر رہیں
٭ کھدائی سے پہلے مٹی گیلی کریں
٭ انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہو تو مٹی سے براہ راست رابطے سے بچیں
٭ دروازے اور کھڑکیاں اچھی طرح بند رکھیں
٭ جلد پر زخم ہو تو اسے صابن اور پانی سے صاف کریں
تشخیص
ویلی فیور کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر علامات اور میڈیکل ہسٹری کا جائزہ لیتا ہے۔ صرف علامات سے تشخیص مشکل ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ کئی دوسری بیماریوں سے ملتی جلتی ہیں۔ سینے کے ایکسرے میں بھی یہ نمونیا جیسے دوسرے پھیپھڑوں کے انفیکشن کی طرح دکھائی دے سکتا ہے۔
تشخیص کے لیے یہ ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:
سپیوٹم سمئیر یا کلچر: کھانسی کے ساتھ نکلنے والے بلغم کے نمونے میں کوکسیڈیوئیڈیز فنگس کی موجودگی دیکھی جاتی ہے
خون کے ٹیسٹ: خون میں ویلی فیور کا سبب بننے والے فنگس کے خلاف اینٹی باڈیز کی جانچ کی جاتی ہے
ضرورت کے مطابق مزید ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں:
امیجنگ ٹیسٹ: پھیپھڑوں میں نمونیا یا دوسری تبدیلیاں دیکھنے کے لیے سی ٹی سکین، ایم آر آئی یا سینے کا ایکسرے کیا جا سکتا ہے
لنگ بایوپسی: پھیپھڑے کے ٹشو کا نمونہ لے کر مائیکروسکوپ سے معائنہ کیا جاتا ہے
سکن ٹیسٹ: اس سے معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ ماضی میں ویلی فیور کا انفیکشن ہو چکا ہے
علاج
ویلی فیور اکثر علاج کے بغیر خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اگر علامات بہتر نہ ہوں، طویل عرصے تک برقرار رہیں یا شدت اختیار کریں تو ڈاکٹر اینٹی فنگل دوا تجویز کر سکتا ہے۔ پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہونے پر بھی علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ دائمی یا جسم میں پھیلنے والے انفیکشن میں بھی اینٹی فنگل ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا ویلی فیور خود ہی ٹھیک ہو سکتا ہے؟
جی ہاں۔ بیماری کی معمولی صورت اکثر علاج کے بغیر ٹھیک ہو جاتی ہے۔ شدید، دائمی یا جسم میں پھیلنے والے انفیکشن میں اینٹی فنگل ادویات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ویلی فیور کی تشخیص مشکل کیوں ہو سکتی ہے؟
اس کی علامات کئی دوسری بیماریوں سے ملتی جلتی ہیں۔ سینے کے ایکسرے میں بھی یہ نمونیا جیسے دوسرے پھیپھڑوں کے انفیکشن کی طرح دکھائی دے سکتا ہے۔
ویلی فیور کی علامات کتنے عرصے بعد ظاہر ہوتی ہیں؟
علامات فنگس سے متاثر ہونے کے ایک سے تین ہفتے بعد شروع ہو سکتی ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=pulmonologist