Vinkmag ad

میڈیکل ابارشن: ادویات کے ذریعے اسقاطِ حمل

Woman holding a tablet with a glass of water nearby for medical abortion.

میڈیکل ابارشن (Medical abortion) ادویات کے ذریعے حمل ختم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس میں سرجری یا بے ہوشی کی ادویات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ طریقہ حمل کی پہلی سہ ماہی میں زیادہ محفوظ اور مؤثر ہوتا ہے۔ یہ عمل طبی مرکز میں یا گھر پر شروع کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ توقع کے مطابق مکمل ہو جائے تو فالو اَپ کے لیے کلینک جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم کسی پیچیدگی کی صورت میں ہیلتھ کیئر پروفیشنل سے رابطہ ضروری ہے۔

کیوں کیا جاتا ہے

اسے حمل کے ابتدائی عرصے میں مس کیرج کے بعد باقی رہ جانے والے ٹشوز خارج کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ غیر ارادی حمل ختم کرنے کے لیے بھی یہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی طبی مسئلے کے باعث حمل جاری رکھنا جان کے لیے خطرناک ہو تو بھی اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

خطرات

یہ طریقہ عام طور پر محفوظ اور مؤثر ہے، لیکن اس میں بعض خطرات ہو سکتے ہیں:

٭ حمل کے تمام ٹشوز رحم سے خارج نہ ہونا، جسے نامکمل ابارشن کہا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں سرجیکل ابارشن کی ضرورت پڑ سکتی ہے

٭ طریقہ مؤثر نہ ہونے کی صورت میں حمل جاری رہنا

٭ بہت زیادہ یا طویل عرصے تک خون بہنا

٭ انفیکشن

٭ بخار

٭ معدے کی خرابی جیسی ہاضمے کی علامات

ابارشن کی دوا لینے کے بعد فیصلہ تبدیل کرکے حمل جاری رکھنے سے سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ عام طور پر یہ عمل مستقبل کے حمل کو متاثر نہیں کرتا، بشرطیکہ کوئی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔

کن صورتوں میں نہیں کیا جاتا

یہ طریقہ ہر فرد کے لیے مناسب نہیں ہوتا۔ اسے ان صورتوں میں اختیار نہیں کیا جاتا:

٭ حمل اس طریقے کے لیے مقررہ مدت سے آگے بڑھ چکا ہو

٭ رحم میں آئی یو ڈی موجود ہو

٭ رحم سے باہر حمل، یعنی ایکٹوپک پریگنینسی کا شبہ ہو

٭ خون کی کمی، خون بہنے کی بعض بیماریاں یا دائمی ایڈرینل فیلیر ہو

٭ دل یا خون کی نالیوں کی بعض بیماریاں موجود ہوں

٭ جگر، گردوں یا پھیپھڑوں کی شدید بیماری یا بے قابو دوروں کی بیماری ہو

٭ خون پتلا کرنے والی یا بعض سٹیرائڈ ادویات استعمال کی جا رہی ہوں

٭ ہیلتھ کیئر پروفیشنل سے فون یا آن لائن رابطہ ممکن نہ ہو یا ہنگامی طبی سہولت دستیاب نہ ہو

٭ استعمال ہونے والی دوا سے الرجی ہو

اگر یہ طریقہ ممکن نہ ہو تو ڈائلیشن اینڈ کیوریٹیج (ڈی اینڈ سی) ایک متبادل ہو سکتا ہے۔ یہ رحم سے ٹشوز نکالنے کا سرجیکل طریقہ ہے۔

تیاری

پروسیجر سے پہلے ہیلتھ کیئر پروفیشنل آپ کی میڈیکل ہسٹری کا جائزہ لیتا ہے۔ وہ طریقہ کار، مضر اثرات، خطرات اور ممکنہ پیچیدگیوں کے بارے میں بھی بتاتا ہے۔ یہ مراحل بالمشافہ یا آن لائن طبی مشاورت کے دوران کیے جا سکتے ہیں۔

بالمشافہ ملاقات میں حمل کی تصدیق اور ضرورت کے مطابق جسمانی معائنہ کیا جا سکتا ہے۔ الٹراساؤنڈ سے حمل کی مدت معلوم کرنے کے ساتھ یہ تصدیق بھی کی جا سکتی ہے کہ حمل رحم سے باہر نہیں ہے۔ اس سے مولر پریگنینسی کا بھی پتا لگایا جا سکتا ہے۔ اس کیفیت میں رحم میں حمل سے متعلق ٹشو کی غیر معمولی نشوونما ہوتی ہے۔ خون اور پیشاب کے ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں۔

کسی طبی مسئلے کے علاوہ اپنی مرضی سے حمل ختم کروانے کو الیکٹو ابارشن کہا جاتا ہے۔ اس سے متعلق قوانین مختلف جگہوں پر مختلف ہو سکتے ہیں۔ بعض مقامات پر اس کی اجازت نہیں ہوتی، جبکہ کہیں مخصوص قانونی تقاضے یا انتظار کی مدت مقرر ہو سکتی ہے۔ مس کیرج کے بعد باقی ٹشوز خارج کرنے کے لیے یہ طریقہ استعمال کیا جائے تو ایسے قانونی تقاضے یا انتظار کی مدت نہیں ہوتی۔

طریقہ کار

اس عمل میں سرجری یا بے ہوشی کی ادویات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے طبی مرکز یا کلینک میں شروع کیا جا سکتا ہے اور گھر پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ گھر پر کوئی پیچیدگی پیدا ہو تو ہیلتھ کیئر پروفیشنل سے طبی مدد لینا ضروری ہو سکتا ہے۔

استعمال ہونے والی ادویات سے اندام نہانی سے خون آتا ہے اور پیٹ میں اینٹھن ہوتی ہے۔ ان کے باعث یہ علامات بھی ہو سکتی ہیں:

٭ معدے کی خرابی

٭ الٹی

٭ بخار

٭ سردی لگنا

٭ اسہال

٭ سر درد

پروسیجر کے دوران اور بعد میں درد کم کرنے کے لیے دوا دی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد انفیکشن شاذونادر ہوتا ہے، اس لیے عام طور پر اینٹی بایوٹکس کی ضرورت نہیں پڑتی۔ مناسب مقدار میں زیادہ جذب کرنے والے سینیٹری پیڈز اپنے پاس رکھیں۔

پروسیجر کے بعد

ان میں سے کوئی علامت ہو تو فوری طور پر ہیلتھ کیئر پروفیشنل سے رابطہ کریں:

٭ مسلسل دو گھنٹے تک ہر گھنٹے میں دو یا اس سے زیادہ سینیٹری پیڈز خون سے بھر جانا

٭ پیٹ کے نچلے حصے یا پیڑو میں شدید درد

٭ سردی لگنا یا جسم میں درد

٭ دل کی دھڑکن تیز ہونا

٭ چار گھنٹے سے زیادہ بخار رہنا یا میڈیسن لینے کے کئی دن بعد بخار شروع ہونا

٭ وجائنا سے بدبودار مواد خارج ہونا

فون یا آن لائن فالو اَپ عموماً ایک سے دو ہفتے بعد ہوتا ہے۔ اس دوران علامات کی بنیاد پر اندازہ لگایا جاتا ہے کہ حمل کے ٹشوز مکمل طور پر خارج ہوئے ہیں یا نہیں۔ تقریباً چار ہفتے بعد گھر پر پیشاب کا پریگنینسی ٹیسٹ کرکے تصدیق کی جاتی ہے کہ عمل کامیاب رہا ہے۔

اگر نامکمل ابارشن یا حمل جاری رہنے کا شبہ ہو تو الٹراساؤنڈ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں سرجیکل ابارشن بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوبارہ حمل سے بچاؤ

ابارشن کے صرف آٹھ دن بعد بیضہ دانی سے دوبارہ انڈہ خارج ہو سکتا ہے۔ اس لیے ماہواری دوبارہ شروع ہونے سے پہلے بھی حمل ٹھہر سکتا ہے۔ عمل سے پہلے ہیلتھ کیئر پروفیشنل سے مانع حمل طریقوں کے بارے میں بات کریں۔ ابارشن مکمل ہونے کے فوراً بعد مانع حمل طریقہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

جسم میں چھپی سوزش دل کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے، تحقیق

Read Next

سیاہ اور سبز چاول میں صحت بخش چکنائیوں کی پہلی بار نشاندہی، تحقیق

Leave a Reply

Most Popular