ڈبلیو ایچ او نے بچوں میں موٹاپے کے علاج کے لیے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ ان میں ادویات کی بجائے صحت مند غذا، جسمانی سرگرمی اور روزمرہ عادات میں تبدیلی کو ترجیح دی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 10 سال سے کم عمر بچوں کے لیے وزن گھٹانے والی ادویات تجویز نہیں کی گئیں۔ اس عمر کے بچوں میں موٹاپے پر قابو پانے کے لیے طرزِ زندگی بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم 10 سے 19 سال کے نوعمروں میں بعض شرائط کے تحت ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں۔ شدید موٹاپے کی صورت میں مخصوص مریضوں کے لیے سرجری پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق وزن گھٹانے والی GLP-1 ادویات کے طویل مدتی اثرات سے متعلق شواہد ابھی محدود ہیں۔ اس لیے علاج کا انتخاب عمر اور صحت کو مدنظر رکھ کر ہونا چاہیے۔
عالمی اعدادوشمار کے مطابق 2024 میں 5 سے 19 سال کے تقریباً 17 کروڑ بچے اور نوعمر موٹاپے کا شکار تھے۔