Vinkmag ad

جین تھراپی: جینیاتی خرابیوں کا علاج

Image illustrating gene therapy using DNA and cells to treat genetic diseases and other health conditions.

جین تھراپی میں خلیوں کے جینیاتی مواد میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ امریکی ایف ڈی اے  نے بعض بیماریوں کے لیے جین تھراپیز کی منظوری دی ہے۔ ان میں کینسر، سپائنل مسکولر ایٹروفی، ہیموفیلیا اور سکل سیل بیماری شامل ہیں۔ تاہم بیشتر افراد کے لیے یہ علاج ابھی کلینیکل ٹرائلز کے ذریعے دستیاب ہے۔ ان تحقیقی سٹڈیز میں علاج کے محفوظ ہونے اور جسم پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

وجوہات

جین تھراپی مختلف مقاصد کے لیے کی جا سکتی ہے:

٭ درست کام نہ کرنے والے جین کی خرابی ٹھیک کرنا

٭ خراب جین کو صحت مند جین سے تبدیل کرنا

٭ مدافعتی نظام کو بیمار خلیوں کی شناخت اور ان کے خلاف کارروائی کے قابل بنانا

ممکنہ خطرات

جین تھراپی کے کچھ ممکنہ خطرات ہیں، جن کی نوعیت علاج کے طریقے کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ مثلاً:

٭ مدافعتی نظام کا ردعمل جس کی شدت سوجن سے اعضا کی ناکامی تک ہو سکتی ہے

٭ جینیاتی مواد کا مطلوبہ خلیوں کی بجائے دوسرے خلیوں تک پہنچ جانا

٭ وائرس کو ویکٹر کے طور پر استعمال کرنے سے انفیکشن کا خطرہ

٭ جینز میں غیر مطلوب تبدیلیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، جو بعض صورتوں میں کینسر کا باعث بن سکتی ہیں

ویکٹرز کی اقسام

جین تھراپی میں جینیاتی مواد خلیوں تک پہنچانے کے لیے مخصوص ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہیں ویکٹرز کہا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے تبدیل شدہ وائرس استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ وائرس کے علاوہ دوسرے ویکٹرز پر بھی کلینیکل ٹرائلز میں تحقیق جاری ہے۔

سٹیم سیلز: لیبارٹری میں ان کے جینز تبدیل یا درست کرکے بیماری سے لڑنے والے خلیے تیار کیے جا سکتے ہیں

لائپوسومز: یہ انتہائی چھوٹے ذرات علاج کے لیے استعمال ہونے والے جینز کو مطلوبہ خلیوں تک پہنچا سکتے ہیں

طریقہ کار

جین تھراپی کا طریقہ بیماری اور استعمال ہونے والی تھراپی پر منحصر ہوتا ہے۔

ایک طریقے میں مریض کے خون یا بون میرو سے خلیے حاصل کیے جاتے ہیں۔ بون میرو کولہے کی ہڈی سے سوئی کے ذریعے لیا جا سکتا ہے۔ لیبارٹری میں ان خلیوں کو مطلوبہ جینیاتی مواد رکھنے والے وائرس یا دوسرے ویکٹر کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ ویکٹر جینیاتی مواد خلیوں میں منتقل کرتا ہے۔

اس کے بعد تبدیل شدہ خلیے دوبارہ مریض کے جسم میں داخل کیے جاتے ہیں۔ انہیں رگ یا متعلقہ ٹشو میں پہنچایا جا سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں وائرل ویکٹر براہِ راست خون یا مخصوص عضو میں دیا جاتا ہے۔ مناسب طریقہ مریض کی بیماری اور تھراپی کی قسم کے مطابق طے ہوتا ہے۔

نتائج

جین تھراپی امید افزا علاج ہے، تاہم اس کا استعمال ابھی چند مخصوص بیماریوں تک محدود ہے۔

امریکا میں بعض جین تھراپیز کو کینسر، سپائنل مسکیولر ایٹروفی، سکل سیل بیماری اور ہیموفیلیا کے لیے منظوری مل چکی ہے۔ بیٹا تھیلیسیمیا، ڈوشین مسکولر ڈسٹروفی اور بینائی متاثر کرنے والی بعض نایاب موروثی بیماریوں کے لیے بھی ایسی تھراپیز دستیاب ہیں۔ اس علاج کے وسیع استعمال میں کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ ان میں جینیاتی مواد کو محفوظ طریقے سے پہنچانا اور درست خلیے یا جین کو ہدف بنانا نمایاں ہیں۔ مضر اثرات کا خطرہ، زیادہ لاگت اور انشورنس کوریج بھی علاج تک رسائی محدود کرنے کا باعث بنتی ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

برونکائٹس: سانس کی نالیوں کی سوزش

Read Next

ایچ اے آئی پی کیموتھراپی: جگر کے کینسر کا علاج

Leave a Reply

Most Popular