ہیپاٹک آرٹری انفیوژن پمپ (HAIP) کیموتھراپی جگر کے کینسر کے علاج کا ایک طریقہ ہے۔ اس میں آپریشن کے ذریعے جلد کے نیچے ایک چھوٹا پمپ نصب کیا جاتا ہے۔ ایچ اے آئی پی پمپ کیموتھراپی کی دوا کو محفوظ رکھتا ہے اور اسے ہیپاٹک آرٹری (جگر کی بڑی شریان) کے ذریعے جگر تک پہنچاتا ہے۔ یوں کینسر تک دوا کی زیادہ مقدار پہنچتی ہے۔ اس طریقے میں متلی، قے اور تھکاوٹ جیسے عام ضمنی اثرات بھی نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
وجوہات
ایچ اے آئی پی کیموتھراپی جگر میں شروع ہونے والے (پرائمری) کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ دوسرے اعضا سے جگر تک پھیلنے والے (میٹاسٹیٹک) کینسر میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ یہ علاج زیادہ تر ایسے مریضوں میں استعمال ہوتا ہے، جن کی بڑی آنت کا کینسر جگر تک پھیل چکا ہو۔
ڈاکٹر ان مقاصد کے لیے یہ علاج تجویز کرتے ہیں:
٭ بڑے کینسر کا حجم کم کرنا، تاکہ اسے آپریشن کے ذریعے نکالا جا سکے
٭ آپریشن کے بعد باقی رہ جانے والے کینسر کے خلیوں کو ختم کرنا، تاکہ بیماری دوبارہ ہونے کا خطرہ کم ہو
تحقیقی شواہد کے مطابق یہ علاج بعض مریضوں کی بقا کی مدت میں اضافے سے منسلک ہے۔ ان میں کینسر نکلوانے والے اور آپریشن کے لیے موزوں نہ ہونے والے، دونوں طرح کے مریض شامل ہیں۔
خطرات
ایچ اے آئی پی کیموتھراپی کی ممکنہ پیچیدگیاں یہ ہیں:
٭ پمپ یا کیتھیٹر سے متعلق خون بہنا یا انفیکشن
٭ پمپ یا کیتھیٹر کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا
٭ خون کی نالیوں میں لوتھڑا بننا
٭ پمپ کے کام میں خرابی
٭ کیموتھراپی کی زیادہ مقدار کے باعث جگر کو نقصان پہنچنا
٭ معدے میں السر بننا
٭ انتہائی نایاب صورتوں میں موت
تیاری
ایچ اے آئی پی کیموتھراپی سے پہلے چند ضروری معائنے کیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر سی ٹی سکین یا ایم آر آئی کے ذریعے جگر اور کینسر کے مقام کا جائزہ لیتے ہیں۔ جگر کی کارکردگی جانچنے کے لیے خون کے ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جگر کیموتھراپی کی زیادہ مقدار برداشت کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔
طریقہ کار
آپریشن کے دوران
بے ہوشی کی دوا دینا: مریض کو جنرل اینستھیزیا دیا جاتا ہے، جس سے وہ گہری نیند جیسی حالت میں چلا جاتا ہے
آپریشن کے لیے کٹ لگانا: اوپن سرجری میں پیٹ پر ایک بڑا کٹ لگایا جاتا ہے۔ کم سے کم کٹس والی سرجری میں کئی چھوٹے کٹس لگائے جاتے ہیں۔ ان کے ذریعے کیمرا اور جراحی آلات جسم میں داخل کیے جاتے ہیں
پتے کو نکالنا: کیموتھراپی سے متعلق پیچیدگیوں کی روک تھام کے لیے پتا نکال دیا جاتا ہے
جگر کی شریان تیار کرنا: سرجن ہیپاٹک آرٹری کی نشاندہی کرتا ہے۔ پھر اس کے قریب موجود بعض چھوٹی شاخوں کو بند کر دیتا ہے۔ اس کا مقصد دوا کو درست راستے سے جگر تک پہنچانا ہے
پمپ نصب کرنا: سرجن پیٹ کے نچلے حصے یا سینے میں کٹ لگاتا ہے۔ پھر جلد کے نیچے ٹشوز میں پمپ رکھنے کے لیے جگہ بناتا ہے۔ پمپ کو اس جگہ ٹانکوں سے مضبوطی سے لگا دیا جاتا ہے
کیتھیٹر لگانا: سرجن پمپ سے منسلک باریک نلکی، یعنی کیتھیٹر، ہیپاٹک آرٹری کی ایک شاخ میں داخل کرتا ہے۔ کیتھیٹر کو ٹانکوں سے اپنی جگہ محفوظ کیا جاتا ہے۔ اس کا سرا جگر کی مرکزی شریان کی طرف رکھا جاتا ہے
پمپ کی جانچ: پمپ اور کیتھیٹر نصب کرنے کے بعد ان کی کارکردگی جانچی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے مخصوص رنگ دار مادہ داخل کیا جاتا ہے۔ اس جانچ سے تصدیق ہوتی ہے کہ دوا صرف جگر تک پہنچ رہی ہے، دوسری خون کی نالیوں میں نہیں
کٹ بند کرنا: آخر میں آپریشن کے تمام کٹس ٹانکوں یا جراحی سٹیپلز سے بند کر دیے جاتے ہیں
آپریشن کے بعد
آپریشن کی نوعیت کے مطابق مریض کو چند دن ہسپتال میں رہنا پڑتا ہے۔ زخم بھرنے اور مکمل صحت یابی میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
احتیاطی تدابیر
پمپ نصب ہونے کے بعد بعض سرگرمیوں اور حالات سے احتیاط ضروری ہے۔ یہ پمپ کی کارکردگی یا دوا کے بہاؤ پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
سخت جسمانی سرگرمیاں: ٭ ایسے کھیلوں سے پرہیز کریں جن میں جسمانی ٹکراؤ یا پمپ کی جگہ چوٹ لگنے کا خطرہ ہو
گہرے پانی میں غوطہ خوری: سکوبا ڈائیونگ یا گہرے سمندر میں غوطہ خوری سے پرہیز کریں۔ پانی کا زیادہ دباؤ پمپ سے دوا کے بہاؤ کو متاثر کرتا ہے۔ تاہم، عام تیراکی سے پمپ کی کارکردگی متاثر نہیں ہوتی
زیادہ گرمی: پمپ کے قریب ہیٹنگ پیڈ یا گرم پانی کی بوتل استعمال نہ کریں۔ سونا باتھ (شدید گرم کمرے میں بیٹھنا)، گرم پانی میں زیادہ دیر بیٹھنے اور شدید دھوپ سے بھی احتیاط کریں۔ زیادہ گرمی سے کیموتھراپی کی دوا کا بہاؤ تیز ہو سکتا ہے
سفر
پمپ نصب ہونے کے باوجود عام طور پر ہوائی سفر ممکن ہے۔ تاہم، روانگی سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔ اس سے علاج میں وقفے یا پمپ میں دوا ختم ہونے جیسے مسائل سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
٭ پمپ کی وجہ سے بعض سکیورٹی سکینرز کا الارم بج سکتا ہے۔ تاہم، باڈی سکینرز عموماً اس سے متاثر نہیں ہوتے
٭ ہوائی اڈے پر سکیورٹی عملے کو پمپ کے بارے میں آگاہ کریں۔ پمپ کا شناختی کارڈ بھی ساتھ رکھیں
٭ اگر آپ سطح سمندر سے ایک ہزار فٹ یا زیادہ بلندی پر جا رہے ہیں تو ڈاکٹر کو بتائیں۔ بلندی اور بغیر دباؤ والے طیارے میں سفر کرنے سے دوا کا بہاؤ تیز ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر علاج میں تبدیلی کرتے ہیں
نتائج
٭ ایچ اے آئی پی پمپ عموماً کیموتھراپی کی ضرورت برقرار رہنے تک جسم میں موجود رہتا ہے
٭ علاج کے دوران مریض کی حالت، علاج کے نتائج اور ممکنہ پیچیدگیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے
٭ کیموتھراپی مکمل ہونے کے بعد پمپ مختصر آپریشن سے نکالا جا سکتا ہے۔ مریض عموماً اسی دن گھر چلا جاتا ہے۔ تاہم، کینسر باقی ہونے کی صورت میں پمپ برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ ایک بار نکالنے کے بعد اسے دوبارہ نصب کرنے کا امکان کم ہوتا ہے