Vinkmag ad

پھیپھڑوں کا طاعون کتنا خطرناک؟ ماہرین کی وضاحت

: Representative illustration of bacteria causing pneumonic plague, a potentially fatal lung infection that can spread through respiratory droplets.

روس میں ایک لیبارٹری ملازمہ کی موت کے بعد پھیپھڑوں کے طاعون سے متعلق خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ بیماری بروقت علاج نہ ہونے پر انتہائی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

یورپی مرکز برائے انسداد و کنٹرول امراض (ای سی ڈی سی) کے مطابق پھیپھڑوں کا طاعون ایک سنگین بیکٹیریل انفیکشن ہے۔ یہ یرسینیا پیسٹس (Yersinia pestis) نامی جراثیم سے ہوتا ہے۔ متاثرہ شخص کی کھانسی سے نکلنے والے جراثیم آلود قطرے قریبی افراد میں بیماری پھیلا سکتے ہیں۔ مرض کی علامات میں اچانک بخار، کھانسی، سینے میں درد اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ بعض مریضوں کی کھانسی کے ساتھ خون بھی آتا ہے۔

ادارے کے مطابق بروقت علاج نہ ہونے پر یہ بیماری تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ بعض مریضوں کی موت 18 سے 24 گھنٹوں میں ہو سکتی ہے۔ تاہم فوری تشخیص اور مناسب اینٹی بائیوٹکس سے جان بچائی جا سکتی ہے۔

Vinkmag ad

Read Previous

بچوں میں موٹاپے کا علاج، ڈبلیو ایچ او کی نئی ہدایات

Read Next

معدے کے کینسر کی 8 علامات نظرانداز نہ کریں، ماہرین

Leave a Reply

Most Popular