ہفتے میں صرف ایک بار وال سکواٹ کرنا بھی بلڈ پریشر کم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ نئی تحقیق میں باقاعدہ ورزش کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
وال سکواٹ میں دیوار سے کمر ٹکا کر گھٹنوں کو موڑتے ہوئے بیٹھنے جیسی پوزیشن اختیار کی جاتی ہے۔ جسم کو کچھ دیر اسی حالت میں رکھا جاتا ہے۔
بی ایم جے اوپن سپورٹ اینڈ ایکسرسائز میڈیسن میں شائع تحقیق میں 100 افراد شامل تھے۔ ان کی اوسط عمر تقریباً 37 سال تھی۔ شرکا کا بلڈ پریشر 120 سے 140 ایم ایم ایچ جی کے درمیان تھا۔
شرکا نے پہلے چار ہفتے ہفتے میں تین بار وال سکواٹ کیا۔ بعد میں انہیں ہفتے میں ایک، دو یا تین بار ورزش کرنے والے گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ نے ورزش چھوڑ دی۔
آٹھ ہفتے بعد ہفتے میں ایک بار ورزش کرنے والوں کا سسٹولک بلڈ پریشر اوسطاً 6.56 ایم ایم ایچ جی (بلڈ پریشر ناپنے کی اکائی) کم تھا۔ دو بار ورزش کرنے والوں میں یہ کمی 6.95 جبکہ تین بار کرنے والوں میں 13.73 رہی۔
ورزش چھوڑنے والے افراد کا بلڈ پریشر دوبارہ ابتدائی سطح کے قریب پہنچ گیا۔ تاہم تحقیق کا دوسرا مرحلہ صرف چار ہفتے جاری رہا۔ اس لیے طویل مدتی اثرات ابھی واضح نہیں ہیں۔
محققین کے مطابق ہفتہ وار وال سکواٹ محدود وقت رکھنے والوں کے لیے عملی انتخاب ہو سکتا ہے۔ تاہم زیادہ بار ورزش سے بلڈ پریشر میں زیادہ کمی دیکھی گئی۔
تحقیق میں پہلے سے ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص والے افراد شامل نہیں تھے۔ اس لیے اسے ہائی بلڈ پریشر کے علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔