پاکستان میں بچوں پر تشدد کی روک تھام کے لیے پہلی قومی حکمت عملی متعارف کرا دی گئی ہے۔ اس کا مقصد بچوں کا تحفظ اور متاثرین کو علاج، نفسیاتی مدد اور انصاف تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
روزنامہ ڈان کے مطابق وزارتِ انسانی حقوق نے یہ حکمت عملی ڈبلیو ایچ او کے تعاون سے تیار کی ہے۔ دستاویز کے مطابق ہر 10 میں سے 8 تک بچوں کو ڈسپلن کے نام پر تشدد کا سامنا ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے ہر 16 میں سے ایک بچے کو ڈیجیٹل ذرائع سے استحصال کا سامنا ہے۔ ایسے بچوں کی عمریں 12 سے 17 سال ہیں۔
حکمت عملی میں جسمانی و جنسی زیادتی اور ذہنی اذیت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ بچوں کی دیکھ بھال میں غفلت، کم عمری کی شادی، انسانی سمگلنگ اور مشقت کی روک تھام بھی اس میں شامل ہے۔ اس میں مؤثر قوانین، محفوظ ماحول، والدین کی معاونت اور متاثرہ بچوں کے لیے امدادی خدمات پر زور دیا گیا ہے۔
Tags: بچوں پر تشدد