ماہرین کے مطابق اسہال پھیلانے والے بیکٹیریا شگیلا میں ادویات کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شگیلا بیکٹیریا کی بعض اقسام پر پانچ اہم اینٹی بایوٹکس بے اثر پائی گئیں۔ امریکہ اور برطانیہ میں اس صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
فوڈ سیفٹی نیوز کے مطابق امریکی ادارے سی ڈی سی کی اپریل 2026 کی رپورٹ میں 2023 تک کے اعدادوشمار پیش کیے گئے۔ جانچے گئے امریکی نمونوں میں شدید دوا مزاحم اقسام کا تناسب 2023 میں 8.5 فیصد تھا۔ یہ شرح 2023 کی ہے۔ 2011 سے 2015 کے دوران کسی نمونے میں ایسی مزاحمت نہیں ملی تھی۔
شگیلا آلودہ خوراک اور پانی سے پھیلتا ہے۔ متاثرہ شخص کے پاخانے کے معمولی ذرات منہ تک پہنچنے سے انفیکشن ہو سکتا ہے۔ جنسی رابطے کے دوران صفائی کا خیال نہ رکھنے سے بھی یہ ذرات دوسرے شخص تک پہنچ سکتے ہیں۔ سی ڈی سی کے مطابق اسہال ختم ہونے کے بعد بھی کم از کم دو ہفتے جنسی تعلق سے گریز کرنا چاہیے۔
کیمبرج یونیورسٹی کے محققین نے دوا مزاحم شگیلا کی نگرانی اور بچاؤ کے لیے مخصوص اقدامات پر زور دیا۔ ان کی تحقیق ’دی لانسیٹ انفیکشس ڈیزیزز‘ میں شائع ہوئی۔