ایٹیکسیا (Ataxia) ایسی کیفیت ہے جس میں پٹھوں کی حرکات پر کنٹرول متاثر ہوتا ہے، جس سے چلنے، توازن، ہاتھوں کی حرکات، بولنے، نگلنے اور آنکھوں کی حرکت میں مشکلات ہوسکتی ہیں۔ یہ عموماً دماغ کے حصے سیریبیلم یا اس سے جڑے اعصابی راستوں کو نقصان پہنچنے سے ہوتی ہے۔
علامات
علامات جو اچانک ظاہر ہوسکتی ہیں یا وقت کے ساتھ بڑھ سکتی ہیں:
٭ جسمانی حرکات میں ہم آہنگی کی کمی ہونا
٭ لڑکھڑا کر چلنا یا پاؤں پھیلا کر چلنا
٭ توازن برقرار رکھنے میں مشکل پیش آنا
٭ لکھنے، کھانے یا بٹن لگانے میں دشواری
٭ بولنے میں تبدیلی
٭ آنکھوں کی بے قابو حرکت
٭ نگلنے میں مشکل ہونا
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
توازن، چلنے، پٹھوں کی حرکات، بولنے یا نگلنے میں اچانک یا نمایاں مشکل ہو تو جلد ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
وجوہات
٭ الکحل کا طویل عرصے تک زیادہ استعمال
٭ بعض سکون آور، مرگی اور کیموتھراپی کی ادویات
٭ سیسہ، پارا اور دیگر زہریلے مادے
٭ وٹامن ای، بی 1، بی 6 یا بی 12 کی کمی یا بی 6 کی زیادتی
٭ تھائیرائیڈ کی بعض بیماریاں
٭ فالج اور ملٹی پل اسکلروسس
٭ خودکار مدافعتی بیماریاں، جیسے سیلیک بیماری اور سارکوئیڈوسس
٭ بعض وائرل انفیکشنز اور کووڈ 19
٭ دماغی پھوڑا یا رسولی
٭ سر پر چوٹ
٭ سیریبرل پالسی
موروثی ایٹیکسیا کی اہم اقسام
اسپائنو سیریبیلر ایٹیکسیا: اس کی 40 سے زیادہ جینیاتی اقسام شناخت کی جاچکی ہیں
ایپیسوڈک ایٹیکسیا: اس میں وقفے وقفے سے ایٹیکسیا کے دورے پڑتے ہیں، جو چند سیکنڈ سے کئی گھنٹوں تک رہ سکتے ہیں
فریڈریخ ایٹیکسیا: یہ موروثی ایٹیکسیا کی عام قسم ہے، جو سیریبیلم، ریڑھ کی ہڈی اور پردیی اعصاب کو متاثر کرتی ہے
آر ایف سی 1 سے متعلق ایٹیکسیا: عموماً بعد میں ظاہر ہوتی ہے اور اس کے ساتھ چکر یا جسم میں سنسناہٹ ہوسکتی ہے
ایٹیکسیا ٹیلنجیکٹیشیا: قسم ہے جوبچوں کے دماغ اور مدافعتی نظام کو متاثر کرتی ہے
پیدائشی سیریبیلر ایٹیکسیا: اس میں سیریبیلم کو نقصان پیدائش کے وقت ہی موجود ہوتا ہے
تشخیص
ایٹیکسیا کی تشخیص میں ڈاکٹر اس کی قابلِ علاج وجہ تلاش کرتا ہے۔ اس کے لیے جسمانی اور اعصابی معائنہ کیا جاتا ہے، جس میں نظر، توازن، جسمانی ہم آہنگی اور ریفلیکسز کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ضرورت کے مطابق درج ذیل ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں:
٭ خون کے ٹیسٹ
٭ امیجنگ ٹیسٹ
٭ لمبر پنکچر (کمر کے نچلے حصے سے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے گرد موجود سیال کا نمونہ لے کر جانچا جاتا ہے)
٭ جینیاتی ٹیسٹ
علاج
ایٹیکسیا کا علاج اس کی وجہ پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر وجہ وٹامن کی کمی یا سیلیک بیماری ہو تو اس کا علاج علامات بہتر کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ چکن پاکس یا بعض وائرل انفیکشنز کے بعد ہونے والا ایٹیکسیا اکثر وقت کے ساتھ خود بہتر ہو جاتا ہے۔
فریڈریک ایٹیکسیا کے مریضوں میں اومَویلواکسولون (Omaveloxolone) نامی دوا استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس دوا کے دوران جگر کے انزائمز اور کولیسٹرول کی جانچ کے لیے باقاعدہ خون کے ٹیسٹ ضروری ہوتے ہیں۔
سختی، کپکپی اور چکر جیسی علامات میں بعض دوسری ادویات مدد دے سکتی ہیں۔
معاون آلات
ملٹی پل اسکلروسس یا دماغی فالج جیسی بعض بیماریوں سے ہونے والے ایٹیکسیا کا مکمل علاج ممکن نہیں ہوتا۔ تاہم، معاون آلات روزمرہ زندگی میں خودمختاری برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں:
٭ چلنے کے لیے واکنگ اسٹک یا واکر
٭ کھانے کے لیے مخصوص برتن
٭ بات چیت کے لیے معاون آلات
بعض مریضوں کے لیے فزیکل تھراپی، آکوپیشنل تھراپی، سپیچ تھراپی فائدہ مند ہو سکتی ہیں
Frequently Asked Questions (FAQs)
ایٹیکسیا کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
تشخیص کے لیے جسمانی اور اعصابی معائنہ کیا جاتا ہے۔ ضرورت کے مطابق خون، ایم آر آئی، لمبر پنکچر اور جینیاتی ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں۔
ایٹیکسیا کا علاج کس چیز پر منحصر ہوتا ہے؟
علاج ایٹیکسیا کی بنیادی وجہ پر منحصر ہوتا ہے۔ قابلِ علاج وجہ کا علاج کرنے سے علامات میں بہتری آ سکتی ہے۔
ایٹیکسیا کے لیے کون سی تھراپیز مفید ہیں؟
فزیکل، آکوپیشنل اور اسپیچ تھراپی جسمانی حرکت، روزمرہ کاموں، بولنے اور نگلنے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ صحت سے متعلق کسی بھی مسئلے میں اپنے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کریں۔