ماہرین کے مطابق میٹا جینومک ٹیسٹ سے ایسے پیچیدہ انفیکشنز کی تشخیص آسان ہو رہی ہے جن کا عام ٹیسٹوں سے پتا لگانا مشکل ہوتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے بعض مریضوں کو غیر ضروری آپریشن سے بھی بچایا ہے۔
بی بی سی کے مطابق، یہ ٹیسٹ ایک ہی نمونے میں مختلف وائرسوں اور دیگر جراثیم کا سراغ لگاتا ہے۔ اسی ٹیکنالوجی نے کووڈ-19 کا سبب بننے والے وائرس کی ابتدائی شناخت میں بھی مدد دی تھی۔
لندن کے دو ہسپتالوں کی ابتدائی تحقیق میں تقریباً 30 فیصد ایسے جراثیم کی نشاندہی ہوئی جو معمول کے ٹیسٹوں میں شناخت نہیں ہوئے تھے۔ ایک مریض کو پھیپھڑوں کے کینسر کا شبہ تھا، لیکن ٹیسٹ سے ٹی بی کی تشخیص ہوئی۔ اس طرح وہ غیر ضروری آپریشن سے بچ گیا۔
ایک اور مریضہ کو جگر کی پیوندکاری تجویز کی گئی تھی، تاہم میٹا جینومک ٹیسٹ سے ہیپاٹائٹس ای کی تشخیص ہوئی۔ علاج سے اس کی حالت بہتر ہوگئی اور پیوندکاری کی ضرورت نہیں پڑی۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت سے ٹیسٹ کے نتائج کا تجزیہ تیز ہو رہا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ممکنہ وباؤں کی جلد نشاندہی میں بھی مدد دے سکتی ہے۔