Vinkmag ad

دل اور خون کی نالیوں کی بیماریاں

Middle-aged man sitting on a sofa at home with his hand on his chest, illustrating chest discomfort associated with heart disease.

دل اور خون کی نالیوں کی بیماریاں (Cardiovascular disease) دل اور اسے خون پہنچانے والی نالیوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ان میں دھڑکن کی بے ترتیبی، پیدائشی نقائص، پٹھوں اور والوز کی بیماریاں شامل ہیں۔ صحت مند طرزِ زندگی سے ان میں سے بہت سی بیماریوں سے بچاؤ یا علاج میں مدد ملتی ہے۔

علامات

علامات کا انحصار بیماری کی قسم پر ہوتا ہے۔ بعض افراد میں ابتدا میں کوئی نمایاں علامت ظاہر نہیں ہوتی۔

دل کی شریانوں کی بیماری

دل کو خون پہنچانے والی شریانوں کی بیماری کو کورونری آرٹری ڈیزیز کہتے ہیں۔ اس کی علامات یہ ہیں:

٭ سینے میں درد، جکڑن، دباؤ یا بے آرامی، جسے انجائنا کہتے ہیں

٭ سانس پھولنا

٭ گردن، جبڑے، گلے، پیٹ کے اوپری حصے یا کمر میں درد

٭ بازوؤں یا ٹانگوں کی شریانیں تنگ ہونے پر ان حصوں میں درد، سن ہونا، کمزوری یا ٹھنڈک محسوس ہونا

بعض افراد میں اس بیماری کا پتا ہارٹ اٹیک، انجائنا، فالج یا ہارٹ فیلئر کے بعد چلتا ہے۔ اس لیے علامات پر توجہ دیں اور کسی تشویش کی صورت میں ڈاکٹر سے بات کریں۔

دل کی بے ترتیب دھڑکن

دل کی دھڑکن بہت تیز، بہت سست یا بے ترتیب ہونے پر یہ علامات ہو سکتی ہیں:

٭ سینے میں درد یا بے آرامی

٭ چکر آنا

٭ بے ہوشی یا بے ہوشی کے قریب محسوس کرنا

٭ سینے میں پھڑپھڑاہٹ محسوس ہونا

٭ سر ہلکا محسوس ہونا

٭ دل کی دھڑکن تیز ہونا

٭ سانس پھولنا

٭ دل کی دھڑکن سست ہونا

دل کے پیدائشی نقائص

یہ نقائص پیدائش کے وقت موجود ہوتے ہیں۔ سنگین نقائص عموماً پیدائش کے فوراً بعد معلوم ہو جاتے ہیں۔ بچوں میں ان کی علامات یہ ہیں:

٭ جلد نیلی یا سرمئی پڑنا

٭ ٹانگوں، پیٹ یا آنکھوں کے گرد سوجن

٭ شیرخوار بچے کا دودھ پیتے ہوئے سانس پھولنا، جس کے باعث وزن مناسب انداز میں نہ بڑھنا

جلد کی قدرتی رنگت کے مطابق نیلاہٹ یا سرمئی رنگ کم یا زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔

بعض نقائص کا پتا بچپن کے بعد کے برسوں یا بالغ عمر میں چلتا ہے۔ ان کی علامات یہ ہیں:

٭ ورزش یا جسمانی سرگرمی کے دوران بہت زیادہ سانس پھولنا

٭ ورزش یا جسمانی سرگرمی کے دوران جلد تھک جانا

٭ ہاتھوں، ٹخنوں یا پاؤں میں سوجن

دل کے پٹھوں کی بیماری

دل کے پٹھوں کی بیماری کو کارڈیومایوپیتھی کہتے ہیں۔ ابتدا میں اس کی کوئی نمایاں علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ بیماری بڑھنے پر ان شکایات کا سامنا ہو سکتا ہے:

٭ چکر آنا، سر ہلکا محسوس ہونا یا بے ہوشی

٭ تھکاوٹ

٭ جسمانی سرگرمی یا آرام کے دوران سانس پھولنا

٭ رات کو سونے کی کوشش کرتے ہوئے سانس پھولنا

٭ سانس پھولنے کے باعث نیند سے جاگ جانا

٭ دل کی تیز یا زور دار دھڑکن، یا سینے میں پھڑپھڑاہٹ

٭ ٹانگوں، ٹخنوں یا پاؤں میں سوجن

دل کے والوز کی بیماری

دل میں چار والوز ہوتے ہیں۔ یہ کھلتے اور بند ہوتے ہیں تاکہ خون درست سمت میں بہے۔ مختلف وجوہات سے ان والوز کو نقصان پہنچتا ہے۔ علامات کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ کون سا والو درست کام نہیں کر رہا۔ ان میں یہ شامل ہیں:

٭ سینے میں درد

٭ بے ہوشی یا بے ہوشی کے قریب محسوس کرنا

٭ تھکاوٹ

٭ دل کی بے ترتیب دھڑکن

٭ سانس پھولنا

٭ پاؤں یا ٹخنوں میں سوجن

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

سینے میں درد، سانس پھولنے یا بے ہوشی کی صورت میں فوری طبی مدد حاصل کریں۔ ہارٹ اٹیک کا شبہ ہو تو فوراً مقامی ایمرجنسی نمبر پر رابطہ کریں۔ دل کی بیماری کی دیگر علامات محسوس ہوں تو طبی معائنے کے لیے ڈاکٹر سے وقت لیں۔ جلد تشخیص ہونے پر علاج آسان ہوتا ہے۔

وجوہات

دل کی بیماریوں کی وجوہات ان کی نوعیت کے مطابق مختلف ہوتی ہیں۔

دل کی شریانوں کی بیماری

خون میں کولیسٹرول زیادہ ہو تو یہ دوسرے مادوں کے ساتھ شریانوں کی دیواروں میں جمع ہونے لگتا ہے۔ ان ذخائر کو پلاک کہتے ہیں۔ پلاک کے باعث شریان تنگ یا بند ہو جاتی ہے۔ پلاک پھٹنے پر خون کا کلاٹ بھی بن سکتا ہے۔ پلاک اور کلاٹ شریان میں خون کا بہاؤ کم کر دیتے ہیں۔

غیر صحت بخش غذا، ورزش کی کمی، موٹاپا اور تمباکو نوشی اس کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ صحت مند طرزِ زندگی اپنانے سے یہ خطرہ کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

دل کی بے ترتیب دھڑکن 

دھڑکن کی بے ترتیبی پیدا کرنے والی وجوہات یا اس کا باعث بننے والی کیفیات یہ ہیں:

٭ دل کے پٹھوں کی بیماری

٭ دل کو خون پہنچانے والی شریانوں کی بیماری

٭ ذیابیطس

٭ کوکین جیسی منشیات کا استعمال

٭ جذباتی دباؤ

٭ الکوحل یا کیفین کا زیادہ استعمال

٭ دل کے پیدائشی نقائص

٭ ہائی بلڈ پریشر

٭ تمباکو نوشی

٭ دل کے والوز کی بیماری

٭ بعض ادویات، ہربل میڈیسنز اور سپلیمنٹس

دل کے پیدائشی نقائص

یہ نقائص اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب بچہ ماں کے پیٹ میں نشوونما پا رہا ہوتا ہے۔ زیادہ تر نقائص کی درست وجہ معلوم نہیں۔ تاہم جینز میں تبدیلیاں، بعض بیماریاں اور کچھ ادویات ان کی تشکیل میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ماحول اور طرزِ زندگی سے متعلق عوامل بھی اس عمل پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

دل کے پٹھوں کی بیماری

کارڈیومایوپیتھی کی وجہ اس کی قسم پر منحصر ہوتی ہے۔ اس کی تین اقسام ہیں:

ڈائلیٹڈ کارڈیومایوپیتھی: یہ سب سے عام قسم ہے۔ اس کی وجہ اکثر معلوم نہیں ہوتی۔ بعض خاندانوں میں یہ وراثت میں منتقل ہوتی ہے

ہائپرٹروفک کارڈیومایوپیتھی: یہ قسم عموماً موروثی طور پر منتقل ہوتی ہے

رسٹرکٹو کارڈیومایوپیتھی: بعض اوقات اس کی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ کبھی امائلائیڈ نامی پروٹین کا جمع ہونا اس کا سبب بنتا ہے۔ جسم کے حصوں کو جوڑنے اور سہارا دینے والے ٹشوز کی بیماریاں بھی اس کی وجہ بنتی ہیں

دل کے والوز کی بیماری

بعض افراد پیدائشی طور پر والوز کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ دیگر وجوہات یہ ہیں:

٭ رومیٹک فیور

٭ دل کی اندرونی تہہ اور والوز کا انفیکشن، جسے انفیکٹو اینڈوکارڈائٹس کہتے ہیں

٭ جسم کے حصوں کو جوڑنے اور سہارا دینے والے ٹشوز کی بیماریاں

خطرہ بڑھانے والے عوامل

دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھانے والے عوامل یہ ہیں:

٭ بڑھتی عمر

٭ مرد ہونا

٭ خاندان میں دل کی بیماری کی تاریخ

٭ تمباکو نوشی

٭ ایسی غذا جس میں چکنائی، نمک، چینی اور کولیسٹرول زیادہ ہوں

٭ ہائی بلڈ پریشر

٭ کولیسٹرول کی زیادتی

٭ ذیابیطس

٭ موٹاپا

٭ ورزش کی کمی

٭ ذہنی دباؤ

٭ دانتوں اور مسوڑھوں کی خراب صحت

پیچیدگیاں

دل کی بیماریوں سے یہ پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں:

٭ دل کی خون پمپ کرنے کی صلاحیت متاثر ہونا، یعنی ہارٹ فیلئر

٭ ہارٹ اٹیک

٭ فالج

٭ شریان کے کسی حصے کا غیر معمولی طور پر پھول جانا، جسے اینیورزم کہتے ہیں

٭ بازوؤں یا ٹانگوں کو خون پہنچانے والی شریانوں کی بیماری

٭ دل کی دھڑکن اچانک بند ہونا، یعنی سڈن کارڈیک اریسٹ

بچاؤ کی تدابیر

دل کی بیماریوں کو قابو میں رکھنے والی طرزِ زندگی کی تبدیلیاں ان سے بچاؤ میں بھی مدد دیتی ہیں۔

٭ تمباکو نوشی سے پرہیز کریں

٭ ایسی غذا کھائیں جس میں نمک اور سیرشدہ چکنائی کم ہو

٭ ہفتے کے بیشتر دنوں میں روزانہ کم از کم 30 منٹ ورزش کریں

٭ وزن مناسب حد میں رکھیں

٭ ذہنی دباؤ کم کریں اور اسے سنبھالنے کے طریقے اپنائیں

٭ ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول کی زیادتی اور ذیابیطس کو قابو میں رکھیں

٭ مناسب نیند لیں۔ بالغ افراد روزانہ سات سے نو گھنٹے سونے کی کوشش کریں

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا دل کی ہر بیماری میں سینے میں درد ہوتا ہے؟

نہیں۔ علامات بیماری کی قسم کے مطابق مختلف ہوتی ہیں۔ بعض افراد کو سانس پھولنے، تھکاوٹ یا دھڑکن کی بے ترتیبی کی شکایت ہوتی ہے۔

کیا دل کی بیماری علامات کے بغیر بھی موجود ہوتی ہے؟

جی ہاں۔ بعض بیماریوں، مثلاً کارڈیومایوپیتھی، میں ابتدا میں نمایاں علامات نہیں ہوتیں۔ باقاعدہ طبی معائنے سے بعض مسائل کی جلد شناخت میں مدد ملتی ہے۔

کیا دل کے پیدائشی نقائص ہمیشہ پیدائش پر معلوم ہو جاتے ہیں؟

نہیں۔ سنگین نقائص عموماً پیدائش کے فوراً بعد معلوم ہوتے ہیں۔ بعض کا پتا بچپن کے بعد کے برسوں یا بالغ عمر میں چلتا ہے۔

کیا دل کی تمام بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے؟

تمام اقسام سے بچاؤ ممکن نہیں۔ تاہم صحت مند غذا، ورزش اور تمباکو نوشی سے پرہیز بہت سی بیماریوں کا خطرہ کم کرتے ہیں۔

کون سی علامات فوری طبی مدد کا تقاضا کرتی ہیں؟

سینے میں درد، سانس پھولنا یا بے ہوشی فوری طبی مدد کا تقاضا کرتی ہیں۔ ہارٹ اٹیک کے شبہے میں مقامی ایمرجنسی نمبر پر رابطہ کریں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiologist

Vinkmag ad

Read Previous

ایمپولری کینسر: بائل اور لبلبے کی نالیوں کے سنگم پر سرطان

Leave a Reply

Most Popular