Vinkmag ad

بریسٹ ریکنسٹرکشن ود امپلانٹس: بریسٹ امپلانٹس کے ذریعے چھاتی کی بحالی

بریسٹ ریکنسٹرکشن ود امپلانٹس (Breast reconstruction with implants) ایک سرجیکل عمل ہے، جس کے ذریعےچھاتی کی شکل دوبارہ بحال کی جاتی ہے۔ یہ سرجری زیادہ تر ماسٹیکٹومی کے بعد کی جاتی ہے ماسٹیکٹومیں سرجری کے ذریعے چھاتی سے تمام بافتیں نکال دی جاتی ہیں۔

کیوں کی جاتی ہے

بریسٹ امپلانٹس کے ذریعے چھاتی کی بحالی، ماسٹیکٹومی کے بعد، چھاتی کی شکل دوبارہ بحال کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ بہت سے لوگ ماسٹیکٹومی کے بعد چھاتی کی بحالی کا انتخاب کرتے ہیں، تاکہ وہ اپنی شخصیت اور ظاہری شکل کے بارے میں بہتر محسوس کر سکیں۔

چھاتی کی بحالی کے دو بنیادی طریقوں سے کی جاتی ہے، جن کے اپنے فائدے اور نقصانات ہیں

 بریسٹ امپلانٹس:

کم پیچیدہ سرجیکل عمل ہوتا ہے، لیکن مستقبل میں امپلانٹ کو تبدیل کرنے یا نکالنے کے لیے مزید سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے

ٹشو فلیپ سرجری:

اس طریقے میں جسم کے کسی دوسرے حصے سے بافتیں لے کر چھاتی دوبارہ بنائی جاتی ہے۔ اس طریقے میں مزید سرجری کی ضرورت نئی پڑتی

سرجری سے پہلے

٭ اگر آپ بریسٹ امپلانٹس کے ذریعے چھاتی کی بحالی پر غور کر رہے ہیں، تو پلاسٹک سرجن سے مشورہ کریں

٭ ایسے پلاسٹک سرجن کا انتخاب کریں، جو متعلقہ بورڈ سے تصدیق شدہ ہو اور ماسٹیکٹومی کے بعد چھاتی کی بحالی کا تجربہ رکھتا ہو

٭ بہتر نتائج کے لیے بریسٹ کینسر کا سرجن اور پلاسٹک سرجن مل کر علاج اور چھاتی کی بحالی کا منصوبہ تیار کر سکتے ہیں

٭ پلاسٹک سرجن آپ کو دستیاب سرجیکل طریقوں، ان کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں آگاہ کرے گا، اور ضرورت پڑنے پر مختلف نتائج کی تصاویر بھی دکھا سکتا ہے

٭ مناسب طریقۂ کا انتخاب آپ کی جسمانی ساخت، مجموعی صحت اور بریسٹ کینسر کے علاج کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے

٭ پلاسٹک سرجن آپ کو سرجری کی جگہ اور بعد میں درکار ممکنہ اضافی جراحی طریقوں کے بارے میں بھی آگاہ کرے گا

٭ اگر ضرورت ہو، تو دونوں چھاتیوں کی ظاہری ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے دوسری چھاتی کی سرجری پر بھی غور کیا جا سکتا ہے

٭ سرجری سے پہلے آپ کی میڈیکل ٹیم ادویات میں تبدیلی یا انہیں عارضی طور پر بند کرنے سے متعلق ہدایات دے سکتی ہے

٭ اگر آپ تمباکو نوشی کرتے ہیں، تو سرجری سے پہلے اسے ترک کریں، کیونکہ اس سے زخم بھرنے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے

٭ بہتر نتائج کے لیے اپنی میڈیکل ٹیم کی تمام ہدایات پرعمل کریں

دورانِ سرجری

آپ کی سرجری کس طریقے سے ہوگی، اس کا انحصار آپ اور آپ کی سرجیکل ٹیم کے باہمی فیصلے پر ہوتا ہے۔

بریسٹ امپلانٹس کے ذریعے چھاتی کی بحالی ان طریقوں سے کی جا سکتی ہے:

 ماسٹیکٹومی کے فوراً بعد بریسٹ امپلانٹ لگانا

ماسٹیکٹومی مکمل ہونے کے فوراً بعد پلاسٹک سرجن بریسٹ امپلانٹ لگا دیتا ہے۔ اس طریقے کو ڈائریکٹ ٹو امپلانٹ بحالی کہا جاتا ہے

 پہلے ٹشو ایکسپینڈر لگانا

ماسٹیکٹومی کے بعد پہلے غبارے نما ٹشو ایکسپینڈر لگایا جاتا ہے۔ بعد میں الگ سرجری کے ذریعے بریسٹ امپلانٹ لگایا جاتا ہے

بعد میں چھاتی کی بحالی کرنا

اگر آپ فوری طور پر چھاتی کی بحالی نہیں کروانا چاہتے، تو یہ سرجری بعد میں بھی کی جا سکتی ہے۔ تاہم، تاخیر کی صورت میں قدرتی شکل حاصل کرنا نسبتاً مشکل ہو سکتا ہے

سرجری کے بعد

٭ سرجری کے بعد سوجن کم رکھنے اور بحال کی گئی چھاتی کو سہارا دینے کے لیے لچکدار پٹی یا سپورٹ برا پہننے کی ضرورت پڑ سکتی ہے

٭ خون یا دیگر رطوبت خارج کرنے کے لیے کچھ عرصے تک جلد کے نیچے ایک باریک نلکی لگی رہ سکتی ہے

٭ درد پر قابو پانے کے لیے طبی ماہر آپ کے لیے ادویات تجویز کرے گا

٭ سرجری کے بعد کئی ہفتوں تک تھکن اور درد محسوس ہو سکتا ہے

٭ معمول کی سرگرمیوں میں واپسی کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، اس لیے اس دوران آرام کریں

٭ کچھ جسمانی سرگرمیوں پر عارضی پابندی لگ سکتی ہے

٭ اپنی میڈیکل ٹیم کی ہدایات پر عمل کریں اور سر کے اوپر وزن اٹھانے یا جسم پر دباؤ ڈالنے والی سرگرمیوں سے پرہیز کریں

چھاتی کی بحالی کے ممکنہ فوائد؟

٭ چھاتی کو دوبارہ مناسب شکل مل سکتی ہے

٭ کپڑوں یا سوئمنگ لباس میں دونوں چھاتیاں زیادہ متوازن دکھائی دے سکتی ہیں

٭ برا کے اندر مصنوعی چھاتی، جسے پروسیتھیسس کہا جاتا ہے، استعمال کرنے کی ضرورت کم یا ختم ہو سکتی ہے

ممکنہ پیچیدگیاں

٭ دونوں چھاتیوں کے سائز یا ظاہری شکل میں فرق رہ جانا، جسے غیر متوازن شکل کہا جاتا ہے

٭ چھاتی میں درد ہونا

٭ بریسٹ امپلانٹ کا رسنا یا پھٹ جانا

٭ مستقبل میں بریسٹ امپلانٹ کو تبدیل کرنے یا نکالنے کے لیے مزید سرجری کی ضرورت پڑنا

٭ امپلانٹ کے اردگرد سخت بافت بن جانا، جس سے اس کی شکل بدل سکتی ہے۔ اس کیفیت کو کیپسولر کنٹریکچر کہا جاتا ہے

٭ کھردری سطح والے بعض بریسٹ امپلانٹس کے ساتھ ایک نایاب مدافعتی نظام کے کینسر، ایناپلاسٹک لارج سیل لمفوما (اے ایل سی ایل)، کا خطرہ معمولی حد تک بڑھ سکتا ہے۔ تاہم، اس تعلق پر مزید تحقیق جاری ہے

٭ ان پیچیدگیوں کے علاج کے لیے امپلانٹ کو نکالنے یا تبدیل کرنے کی مزید سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے

٭ اگر ماسٹیکٹومی کے بعد سینے کی جلد اور دیوار پر ریڈی ایشن تھراپی درکار ہو، تو بریسٹ امپلانٹس کے ذریعے چھاتی کی بحالی ہر مریض کے لیے موزوں نہیں ہو سکتی

٭ ریڈی ایشن تھراپی جلد میں تبدیلیاں پیدا کر سکتی ہے، جس سے انفیکشن اور زخم بھرنے میں دشواری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے

نتائج

٭ بریسٹ امپلانٹس کے ذریعے چھاتی کی بحالی کے نتائج فوری طور پر واضح نہیں ہوتے

٭ سینے کے بافتوں کو مکمل طور پر صحت یاب ہونے میں وقت لگتا ہے

٭ صحت یابی کے دوران آپ کی سرجیکل ٹیم نتائج کا جائزہ لینے کے لیے آپ سے ملاقات کرے گی

٭ چھاتی کی بحالی کا مقصد سرجری کے بعد چھاتی کو قدرتی شکل کے ازیادہ سے زیادہ قریب لانا ہوتا ہے

Frequently Asked Questions (FAQs)

بریسٹ امپلانٹس کے ذریعے چھاتی کی بحالی کن افراد کے لیے موزوں ہو سکتی ہے؟

یہ فیصلہ مریض کی مجموعی صحت، بریسٹ کینسر کے علاج، جسمانی ساخت اور معالج کی رائے کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔

بریسٹ امپلانٹس اور ٹشو فلیپ سرجری میں بنیادی فرق کیا ہے؟

بریسٹ امپلانٹس کے ذریعے بحالی عموماً کم پیچیدہ ہوتی ہے، جبکہ ٹشو فلیپ سرجری میں جسم کے دوسرے حصے کی بافت استعمال کی جاتی ہے اور اکثر مستقبل میں مزید سرجری کی ضرورت نہیں پڑتی۔

بریسٹ امپلانٹس کے ذریعے چھاتی کی بحالی سے کیا توقع رکھنی چاہیے؟

اس سرجری کا مقصد چھاتی کو قدرتی شکل کے قریب لانا ہے، لیکن یہ ماسٹیکٹومی سے پہلے جیسی شکل یا احساس مکمل طور پر واپس نہیں لا سکتی۔

نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق کسی بھی مسئلے میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پرعمل کریں۔

 

 

 

Vinkmag ad

Read Previous

ادویات کے ساتھ استعمال ہونے والی ایپس، ایف ڈی اے کی نئی ہدایات جاری

Read Next

برین سٹیریوٹیکٹک ریڈیو سرجری: دماغ کی مخصوص بیماریوں کے علاج کے لیے شعاعوں سے کیا جانے والا علاج

Leave a Reply

Most Popular