Vinkmag ad

برین سٹیریوٹیکٹک ریڈیو سرجری: دماغ کی مخصوص بیماریوں کے علاج کے لیے شعاعوں سے کیا جانے والا علاج

برین سٹیریوٹیکٹک ریڈیو سرجری (Brain stereotactic radiosurgery) دماغ کی بعض مخصوص بیماریوں کے علاج کے لیے شعاعوں پر مبنی ایک طریقۂ علاج ہے۔ اس میں توانائی کی نہایت باریک اور انتہائی درست شعاعیں دماغ کے متعین حصے پر ڈالی جاتی ہیں۔

دماغ کی اسٹیریوٹیکٹک ریڈیوسرجری کی اقسام

اسٹیریوٹیکٹک ریڈیوسرجری (ایس آر ایس) میں شعاعیں پہنچانے کے لیے مختلف ٹیکنالوجیز استعمال ہوتی ہیں۔ ان کا بنیادی فرق توانائی کے منبع میں ہوتا ہے۔

گاما نائف ریڈیوسرجری

گاما شعاعوں سے حاصل ہونے والے فوٹون استعمال کرتی ہے۔ تقریباً 200 شعاعیں ایک ہی مقام پر مرکوز کی جاتی ہیں۔

٭ چھوٹی اور درمیانی رسولیوں کے لیے مؤثر
٭ شریانی وریدی غیر معمولی رگوں کے جال میں مفید
٭ ٹرائی جیمینل نیورالجیا میں بھی استعمال ہوتی ہے

لینیئر ایکسیلیریٹر (لینک)

یہ نظام ایکس رے سے حاصل ہونے والے فوٹون استعمال کرتا ہے۔

٭ نسبتاً بڑی رسولیوں کے لیے موزوں
٭ جسم کے دیگر حصوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے
٭ روبوٹک ٹیکنالوجی شعاعوں کو درست مقام پر مرکوز رکھتی ہے

پروٹون بیم تھراپی

پروٹون شعاعیں اپنی زیادہ تر توانائی براہِ راست متاثرہ حصے تک پہنچاتی ہیں۔

٭ قریبی صحت مند بافتوں کو بہتر تحفظ دیتی ہے
٭ دماغی تنے اور بصری اعصاب کے قریب رسولیوں کے لیے موزوں
٭ طویل مدتی شعاعی علاج میں بھی مفید

یہ علاج کیوں کیا جاتا ہے؟

اسٹیریوٹیکٹک ریڈیوسرجری درج ذیل بیماریوں کے علاج میں استعمال کی جا سکتی ہے۔

دماغی رسولی

طاقتور شعاعیں رسولی کے خلیات کی بڑھوتری روک دیتی ہیں۔ وقت کے ساتھ رسولی سکڑنے لگتی ہے۔

دماغ کی شریانی وریدی غیر معمولی رگوں کا جال

یہ خون کی رگوں کی غیر معمولی ساخت ہے، جو فالج یا دماغ میں خون بہنے کا سبب بن سکتی ہے۔ شعاعیں متاثرہ رگوں کو بتدریج بند کر دیتی ہیں، جس سے خون بہنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

ٹرائی جیمینل نیورالجیا

اس بیماری میں چہرے پر اچانک شدید درد ہوتا ہے۔ ادویات مؤثر نہ ہوں تو شعاعی علاج درد کے سگنلز کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اکوسٹک نیوروما

یہ سماعت اور توازن کے عصب پر بننے والی سادہ رسولی ہے۔

٭ رسولی کی بڑھوتری روکنے میں مدد مل سکتی ہے
٭ سماعت اور عصب کی کارکردگی محفوظ رہ سکتی ہے

پچوٹری غدود کی رسولیاں

یہ رسولیاں جسم کے ہارمونز کو کنٹرول کرنے والے پچوٹری غدود میں بنتی ہیں۔

٭ رسولی سکڑنے میں مدد مل سکتی ہے
٭ ہارمونز کی پیداوار مستحکم رہ سکتی ہے

بعض مریضوں میں یہ طریقہ روایتی دماغی سرجری کا متبادل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میں خون بہنے، انفیکشن اور اعصابی نقصان کا خطرہ نسبتاً کم ہوتا ہے۔

سرجری سے پہلے

سرجری سے پہلے آپ کو کچھ ہدایات پر عمل کرنا ہوگا، تاکہ علاج محفوظ اور مؤثر طریقے سے کیا جا سکے۔

٭ علاج سے ایک رات پہلے آدھی رات کے بعد کچھ نہ کھائیں اور نہ پیئیں

٭ اپنی ادویات کے بارے میں ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کریں، خاص طور پر اگر آپ ذیابیطس کی دوا یا انسولین استعمال کرتے ہیں

٭ اگر علاج ایک سے زیادہ نشستوں میں ہونا ہو تو کھانے پینے اور ادویات سے متعلق الگ ہدایات حاصل کریں

٭ آرام دہ اور ڈھیلے کپڑے پہنیں، جبکہ زیورات، چشمہ، کانٹیکٹ لینز، میک اپ، نیل پالش، نقلی دانت اور وِگ استعمال نہ کریں

٭ اگر آپ کو کسی دوا، آئیوڈین یا نس میں دی جانے والی رنگ دار دوا سے الرجی ہو، بند میڈیکل آلے سے گھبراہٹ ہو، یا جسم میں پیس میکر، مصنوعی دل کا والو، اسٹینٹ یا کوئی اور میڈیکل آلہ لگا ہو تو پہلے ہی ڈاکٹرکو آگاہ کریں

٭ علاج سے پہلے سی ٹی اسکین، ایم آر آئی یا ضرورت کے مطابق دیگر ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، تاکہ علاج کا درست مقام طے کیا جا سکے

٭ تمام تصاویر کمپیوٹر میں شامل کرکے شعاعوں کی درست مقدار اور زاویے طے کیے جاتے ہیں، جبکہ بچے عموماً بے ہوشی کی دوا لیتے ہیں اور بالغ افراد زیادہ تر بیدار رہتے ہیں، تاہم ضرورت پڑنے پر سکون آور دوا دی جا سکتی ہے۔

دورانِ سرجری

علاج کے دوران سر کو ہیڈ فریم یا حسبِ ضرورت ماسک کی مدد سے مکمل طور پر ساکن رکھا جاتا ہے۔ استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے مطابق مشین آپ کے گرد گھوم سکتی ہے، روبوٹک بازوؤں سے حرکت کر سکتی ہے یا علاج کی مخصوص مشین میں منتقل ہو سکتی ہے۔

٭ نس کے ذریعے سیال مادے دیے جاتے ہیں، تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو
٭ علاج عموماً ایک سے چار گھنٹے تک مکمل ہو جاتا ہے، جو متاثرہ حصے کے سائز پر منحصر ہوتا ہے
٭ شعاعیں دیتے وقت نہ درد محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی شعاعیں دکھائی دیتی ہیں
٭ مشین کی حرکت سے ہلکی آوازیں سنائی دے سکتی ہیں
٭ ضرورت پڑنے پر مائیکروفون کے ذریعے طبی ٹیم سے بات کی جا سکتی ہے

یہ علاج عموماً بیرونی مریض کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، اس لیے زیادہ تر مریضوں کو اسپتال میں رات نہیں گزارنی پڑتی۔ تاہم، پورا عمل کئی گھنٹے لے سکتا ہے، اس لیے کسی عزیز کا ساتھ ہونا مفید رہتا ہے۔ بعض صورتوں میں ایک رات اسپتال میں قیام کرنا پڑ سکتا ہے۔

علاج کے بعد

علاج مکمل ہونے پر ہیڈ فریم یا ماسک ہٹا دیا جاتا ہے۔

٭ ہیڈ فریم استعمال ہونے پر پن لگانے والی جگہ پر ہلکی تکلیف یا معمولی خون آ سکتا ہے
٭ سر درد، متلی یا قے سے بچاؤ کے لیے ادویات دی جا سکتی ہیں
٭ روایتی دماغی سرجری کے مقابلے میں صحت یابی عموماً تیز ہوتی ہے اور سنگین مضر اثرات کم ہوتے ہیں
٭ زیادہ تر مریض ایک یا دو دن میں معمول کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر سکتے ہیں
٭ چھوٹی رسولیوں کا علاج اکثر ایک نشست میں مکمل ہو جاتا ہے، جبکہ بڑی یا حساس حصوں کے قریب رسولیوں کے لیے 3 سے 5 نشستیں درکار ہو سکتی ہیں
٭ صحت یابی کا دورانیہ بیماری کی نوعیت اور مریض کے جسمانی ردِعمل کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے

خطرے کے عوامل

ابتدائی طور پہ ظاہر ہونے والے عوامل یہ ہیں:

٭ تھکن، جو عموماً علاج کے ایک سے دو ہفتوں میں زیادہ ہو سکتی ہے اور چند ماہ میں بہتر ہو جاتی ہے
٭ ہلکا سر درد، متلی یا معدے کی خرابی، جو عام طور پر عارضی ہوتی ہے
٭ دماغ میں سوجن، جس سے پہلے سے موجود علامات بڑھ سکتی ہیں، تاہم ادویات سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے
٭ ہیڈ فریم استعمال ہونے پر پن لگنے والی جگہ پر ہلکی تکلیف، سوجن یا معمولی خون آ سکتا ہے
٭ شاذ و نادر دورے پڑ سکتے ہیں، جن سے بچاؤ کے لیے دوا دی جا سکتی ہے

دیر میں ظاہر ہونے والے عوامل یہ ہو سکتے ہیں:

٭ شعاعوں سے متاثرہ بافتوں کا مردہ ہو جانا، جس سے سوجن یا دماغ پر دباؤ پڑ سکتا ہے، تاہم اس کا علاج ممکن ہے
٭ حساس اعصاب متاثر ہونے سے بینائی یا سماعت میں تبدیلی آ سکتی ہے، لیکن درست منصوبہ بندی سے یہ خطرہ کم کیا جا سکتا ہے

نتائج

سٹیریوٹیکٹک ریڈیوسرجری کے اثرات بیماری کی نوعیت کے مطابق بتدریج ظاہر ہوتے ہیں۔

٭ سادہ رسولیاں چند ماہ سے چند سال میں سکڑ سکتی ہیں
٭ مہلک رسولیاں عموماً چند ماہ میں سکڑنا شروع ہو جاتی ہیں
٭ دماغ کی شریانی وریدی غیر معمولی رگیں ایک سے تین سال میں بند ہو سکتی ہیں
٭ ٹرائی جیمینل نیورالجیا میں درد سے آرام آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں

نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق کسی بھی مسئلے میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پرعمل کریں۔

 

 

 

 

 

Vinkmag ad

Read Previous

بریسٹ ریکنسٹرکشن ود امپلانٹس: بریسٹ امپلانٹس کے ذریعے چھاتی کی بحالی

Read Next

ایمپولری کینسر: بائل اور لبلبے کی نالیوں کے سنگم پر سرطان

Leave a Reply

Most Popular