ماہرین کے مطابق کم عمری میں زیادہ سکرین ٹائم بچوں کی دماغی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ دو سال سے کم عمر بچوں میں یہ اثرات زیادہ نمایاں تھے۔ ایسے بچوں میں نوجوانی کے دوران فیصلہ سازی سست اور بے چینی کی سطح بلند پائی گئی۔
یہ تحقیق سنگاپور میں اسسٹنٹ پروفیسر تان آئی پینگ اور ان کی ٹیم نے کی۔ ٹیم کا تعلق نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور سے ہے۔ سٹڈی میں بچوں کو 10 سال سے زائد عرصے تک مسلسل فالو کیا گیا۔
تحقیق کے دوران مختلف مراحل پر دماغی امیجنگ کی گئی تاکہ تبدیلیاں واضح ہو سکیں۔ نتائج کے مطابق کم عمری میں زیادہ سکرین ٹائم رکھنے والے بچوں میں دماغی نیٹ ورکس تیزی سے میچور ہوئے۔ یہ نیٹ ورکس بصری پراسیسنگ اور ذہنی کنٹرول سے متعلق تھے۔
سائنسی جریدے ای بائیومیڈیسن میں شائع تحقیق کے مطابق تین اور چار سال کی عمر میں ایسے اثرات نظر نہیں آئے۔ ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا کہ ابتدائی عمر، خصوصاً شیرخواگی میں بچوں کا سکرین ٹائم محدود کریں۔