ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پیٹ کی چربی صرف موٹاپے کا مسئلہ نہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق یہ نارمل وزن رکھنے والے افراد میں بھی صحت کے سنگین خطرات بڑھا سکتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس سے ذیابیطس اور دل کی بیماری جیسے امراض کا خدشہ بڑھتا ہے۔ یہ نتائج ماس جنرل بریگھم کی حالیہ تحقیق میں سامنے آئے ہیں۔
تحقیق میں 300,000 سے زائد بالغ افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ محققین نے بی ایم آئی کے ساتھ جسم میں چربی کے مقام کا بھی جائزہ لیا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ بزرگ افراد میں یہ زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے پر چربی جلد کے نیچے کے بجائے اندرونی اعضا کے اردگرد جمع ہونے لگتی ہے۔
ماہرین کے مطابق صحت کا درست اندازہ لگانے کے لیے صرف نارمل وزن پر انحصار کافی نہیں۔ اس کیلئے جسمانی ساخت اور پیٹ کی چربی پر توجہ دینا بھی ضروری ہے۔
Tags: پیٹ کی چربی