Vinkmag ad

جبڑوں کے ٹیومر اور سِسٹ

A medical photo of a human mandible on a tray, with one side illustrating a jaw tumor and the other showing a cyst

جبڑوں کے ٹیومر اور سِسٹ (Jaw tumors and cysts) نسبتاً کم عام نشوونما یا زخم ہیں جو جبڑے کی ہڈی یا منہ اور چہرے کے نرم ٹشوز میں بنتے ہیں۔ انہیں ان کی ابتدا کے لحاظ سے دانتوں سے متعلق (اوڈونٹوجینک) یا ان سے غیر متعلق (نان اوڈونٹوجینک) کہا جاتا ہے۔ یہ سائز اور شدت میں مختلف ہو سکتے ہیں۔

اکثر یہ غیر سرطانی (بینائن) ہوتے ہیں، تاہم بعض اوقات بڑھ کر آس پاس کی ہڈی، ٹشو یا دانت کو دھکیل یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ علاج کے آپشنز کا انحصار نشوونما کی قسم، بڑھوتری کے مرحلے اور علامات پر ہوتا ہے۔ منہ، جبڑے اور چہرے کے ماہر سرجن (Oral and maxillofacial surgeons) عموماً سرجری کے ذریعے علاج کرتے ہیں۔ بعض صورتوں میں دواؤں یا دونوں کا کمبینیشن استعمال کیا جاتا ہے۔

علامات

ٹیومر غیر معمولی ٹشو کی بڑھتی ہوئی نمو یا گانٹھ ہے۔ سِسٹ ایک ایسا زخم ہے جس میں مائع یا نیم ٹھوس مواد جمع ہوتا ہے۔

جبڑوں کے ٹیومر اور سِسٹ کی مثالیں درج ذیل ہیں:

ایمیلوبلاسٹوما (Ameloblastoma)

ایاب اور عموماً غیر سرطانی ٹیومر، دانت کی حفاظتی تہہ (اینمل) بنانے والے خلیوں سے بنتا ہے۔ یہ زیادہ تر مولر دانت کے قریب جبڑے میں ہوتا ہے۔ سب سے عام قسم تیزی سے بڑھتی ہے اور ہڈی میں پھیل جاتی ہے۔

سنٹرل جائینٹ سیل گرانولوما (Central Giant Cell Granuloma)

یہ زخم ہڈی کے خلیوں سے بڑھتے ہیں اور زیادہ تر نچلے جبڑے کے اگلے حصے میں پائے جاتے ہیں۔ ایک قسم تیزی سے بڑھتی ہے، درد پیدا کرتی ہے اور ہڈی کو تباہ کر سکتی ہے۔ دوسری قسم کم بڑھتی ہے اور اکثر بغیر علامات رہتی ہے۔

ڈینٹیجیرس سِسٹ (Dentigerous Cyst)

یہ سِسٹ اس ٹشو سے بنتا ہے جو دانت کے منہ میں نکلنے سے پہلے اسے گھیرے رکھتی ہے۔ یہ سب سے عام سِسٹ ہے اور زیادہ تر عقل داڑھوں کے اردگرد ہوتا ہے۔

اوڈونٹوجینک کیراٹوسِسٹ (Odontogenic Keratocyst)

یہ سِسٹ سرجری کے بعد دوبارہ پیدا ہونے کا رجحان رکھتا ہے۔ یہ آہستہ بڑھتا ہے، لیکن طویل عرصے تک علاج نہ ہونے پر جبڑے اور دانتوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر نچلے جبڑے میں تیسرے مولرز کے قریب ہوتا ہے۔

اوڈونٹوجینک مائکسوما (Odontogenic Myxoma)

نایاب اور آہستہ بڑھنے والا ٹیومر، جو زیادہ تر نچلے جبڑے میں ہوتا ہے۔ یہ ہڈی اور آس پاس کی ٹشو میں تیزی سے پھیل سکتا ہے اور دانتوں کو دھکیل سکتا ہے۔

اوڈونٹوما (Odontoma)

سب سے عام اوڈونٹوجینک ٹیومر ہے۔ اکثر اوقات اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، تاہم دانت کی نشونما یا اس کے نکلنے میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ یہ دانت کے ٹشو سے بنتا ہے اور عجیب شکل کے دانت یا چھوٹے یا بڑے سخت ٹیومر کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

دیگر سِسٹ اور ٹیومرز

ان میں ایڈینوماٹوئڈ اودونٹوجینک ٹیومر، کیلسیفائنگ ایپی تھیلیئل اودونٹوجینک ٹیومر، گلینڈولر اودونٹوجینک سِسٹ، اسکویماس اودونٹوجینک ٹیومر، کیلسیفائنگ اودونٹوجینک سِسٹ، سیمنٹوبلاسٹوما، اینیوریزمل بون سِسٹ، اوسفائنگ فائبرومہ، اوسٹیوبلاسٹوما، سنٹرل اودونٹوجینک فائبرومہ اور دیگر شامل ہیں۔

وجوہات

٭ دانت سے متعلق ٹیومر اور سِسٹ ان خلیوں اور ٹشو سے بنتے ہیں جو دانت کی نشوونما میں شامل ہوتے ہیں

٭ دانت سے غیر متعلق ٹیومر ہڈی یا نرم ٹشو کے خلیوں سے پیدا ہو سکتے ہیں

٭ اکثر اوقات وجہ معلوم نہیں ہوتی، تاہم بعض جینیاتی تبدیلیوں یا سنڈرومز سے تعلق ہو سکتا ہے

٭ نیووائیڈ بیسل سیل کارسینوما سنڈروم (Nevoid Basal Cell Carcinoma Syndrome) میں وہ جین نہیں ہوتا جو ٹیومر کو روکتا ہے۔ یہ جینیاتی تبدیلی کئی اوڈونٹوجینک کیراٹوسِسٹ اور بیسل سیل سکین کینسر پیدا کر سکتی ہے

تشخیص

٭ امیجنگ سٹڈیز، جیسے ایکسرے، سی ٹی یا ایم آر آئی

٭ بائیوپسی، جس میں لیبارٹری میں تجزیے کے لیے ٹیومر یا سِسٹ کے خلیوں کا نمونہ لیا جائے

٭ یہ معلومات مؤثر علاج کا پلان بنانے میں مدد دیتی ہیں

 ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر آپ کو شبہ ہو کہ آپ میں ٹیومر یا سِسٹ کی علامات ہیں تو اپنے فزیشن یا ڈینٹسٹ سے مشورہ کریں۔ اکثر یہ سِسٹ یا ٹیومر بغیر علامات کے ہوتے ہیں اور ایکسرے یا سٹڈیز کے دوران ظاہر ہوتے ہیں۔تشخیص یا شبہ کی صورت میں فزیشن آپ کو ماہر کے پاس بھیج سکتا ہے۔

علاج

٭ ٹیومر اور سِسٹ کے علاج کے آپشن زخم کی قسم، بڑھنے کے مرحلے اور علامات پر منحصر ہیں

٭ علاج تجویز کرتے وقت ڈاکٹر آپ کے مقاصد اور ترجیحات بھی مدنظر رکھتا ہے

٭ علاج عموماً سرجری سے ہوتا ہے۔ بعض صورتوں میں دواؤں یا دونوں کا کمبینیشن استعمال کیا جاتا ہے

٭ سرجری کے دوران ٹیومر یا سِسٹ کو نکالا جاتا ہے۔ اس میں قریب کے دانت، ٹشو اور ہڈی بھی شامل ہو سکتی ہے اور اسے لیبارٹری میں جانچ کے لیے بھیجا جاتا ہے

٭ پیتھالوجسٹ اس ٹشو کا تجزیہ کرتا ہے تاکہ سرجن فوری طور پر مناسب کارروائی کر سکے

دیگر علاج میں شامل ہو سکتے ہیں:

٭ جبڑے کی ہڈی یا دیگر حصوں کی ری کنسٹرکشن

٭ بعض قسم کے ٹیومر اور سِسٹ کے لیے دواؤں سے علاج

زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے معاون نگہداشت دی جاتی ہے، جس میں غذائیت، بولنے اور نگلنے میں مدد، اور غائب دانتوں کی جگہ بھرنا شامل ہے۔ علاج کے بعد طویل مدتی فالو اپ ضروری ہے تاکہ ٹیومر یا سِسٹ دوبارہ پیدا ہونے کی صورت میں جلد شناخت ہو سکے۔ جلد تشخیص ہونے پر دوبارہ پیدا ہونے والے ٹیومر یا سِسٹ کا بروقت اور مؤثر علاج کیا جا سکتا ہے.

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

سانس میں سیٹی کی آواز

Read Next

گردوں کا انفیکشن

Leave a Reply

Most Popular