گردوں کا انفیکشن (Kidney infection) پیشاب کی نالی کے انفیکشن کی ایک قسم ہے، جسے یو ٹی آئی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ انفیکشن پیشاب خارج کرنے والی نالی یعنی یوریتھرا یا مثانے سے شروع ہو سکتا ہے، اور ایک یا دونوں گردوں تک پھیل سکتا ہے۔ گردوں کے انفیکشن کو طبی زبان میں پائیلو نیفرائٹس کہا جاتا ہے۔
گردوں کے انفیکشن کا فوری علاج ضروری ہوتا ہے۔ بصورت دیگر گردوں کو مستقل نقصان پہنچا سکتا ہے، یا بیکٹیریا خون میں پھیل کر خطرناک انفیکشن پیدا کر سکتے ہیں۔ اس بیماری کا علاج عام طور پر اینٹی بائیوٹکس سے کیا جاتا ہے۔ شدید صورت میں ہسپتال میں داخلہ ضروری ہو سکتا ہے۔
علامات
گردوں کے انفیکشن کی علامات میں شامل ہیں:
٭ بخار
٭ سردی لگنا
٭ پیشاب کرتے وقت جلن یا درد
٭ بار بار پیشاب کی حاجت
٭ مسلسل اور شدید پیشاب کی خواہش
٭ کمر، پہلو یا ران کے اوپر والے حصے میں درد
٭ متلی اور قے
٭ پیشاب میں پیپ یا خون
٭ بدبو دار یا دھندلا پیشاب
٭ پیٹ میں درد
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر آپ کو گردوں کے انفیکشن کی علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اگر آپ یو ٹی آئی کا علاج کروا رہے ہوں اور 2 سے 3 دن بعد بھی علامات برقرار رہیں تو اپنے معالج کو آگاہ کریں۔
گردوں کا شدید انفیکشن خطرناک پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ ان میں جسم کے ٹشوز کو نقصان اور بعض صورتوں میں موت تک شامل ہے۔ اگر بخار، سردی، شدید درد، پیشاب میں خون، متلی یا قے ہو تو فوری طبی امداد حاصل کریں کیونکہ یہ شدید انفیکشن کی علامات ہیں۔
وجوہات
گردوں کے انفیکشن کی سب سے عام وجہ بیکٹیریا کا یوریتھرا کے ذریعے پیشاب کی نالی میں داخل ہونا ہے۔ یہ بیکٹیریا اندر جا کر بڑھتے ہیں اور گردوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ جسم کے کسی اور حصے کے انفیکشن سے بھی بیکٹیریا خون کے ذریعے گردوں تک منتقل ہو سکتے ہیں۔
پیشاب کے بہاؤ میں رکاوٹ بھی انفیکشن کا سبب بن سکتی ہے۔ گردے کی پتھری بعض اوقت پیشاب کا راستہ بند کر کے انفیکشن کا باعث بن سکتی ہے۔
خطرے کے عوامل
وہ عوامل جو گردوں کے انفیکشن کا خطرہ بڑھاتے ہیں، ان میں شامل ہیں:
٭ خواتین ہونا گردوں کے انفیکشن کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خواتین میں یوریتھرا چھوٹی ہوتی ہے جس سے بیکٹیریا آسانی سے مثانے میں داخل ہو جاتے ہیں۔ حمل کے دوران یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
٭ پیشاب کی نالی میں رکاوٹ ہونا، جیسے گردے کی پتھری، تنگ یوریتھرا یا بڑھا ہوا پروسٹیٹ
٭ مدافعتی نظام کمزور ہونا (ذیابیطس، ایچ آئی وی یا بعض ادویات کے باعث)
٭ مثانے کے اعصاب کو نقصان ہونا
٭ پیشاب کی کیتھیٹر کا استعمال، جو مثانے سے پیشاب نکالنے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور انفیکشن کا خطرہ بڑھاتی ہے
٭ پیشاب کی نالی میں سٹنٹ کا ہونا، جس میں انفیکشن ہو سکتا ہے
٭ ویسیکو یوریٹرل ریفلکس جیسی کیفیت، جس میں پیشاب الٹا بہتا ہے اور خطرہ بڑھ جاتا ہے
پیچیدگیاں
اگر علاج نہ کیا جائے تو گردوں کا انفیکشن سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے:
٭ گردوں کے ٹشوز میں زخم، جس سے گردوں کی طویل المعیاد بیماری، ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کا فیلیئر ہو سکتا ہے
٭ خون میں انفیکشن، جس میں بیکٹیریا خون میں پھیل جاتے ہیں، اور فوری علاج ضروری ہوتا ہے
٭ حمل کی پیچیدگیاں، جس سے کم وزن بچے کی پیدائش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
بچاؤ کی تدابیر
پیشاب کی نالی کے انفیکشن سے بچاؤ کے اقدامات گردوں کے انفیکشن کا خطرہ کم کر سکتے ہیں:
٭ زیادہ پانی پینا تاکہ بیکٹیریا پیشاب کے ذریعے خارج ہو جائیں
٭ پیشاب کی حاجت کو نہ روکنا
٭ جنسی تعلق کے بعد پیشاب کرنا تاکہ بیکٹیریا خارج ہو جائیں
٭ پیشاب، پاخانہ کے اعضاء کی صفائی آگے سے پیچھے کی طرف کرنا تاکہ بیکٹیریا نہ پھیلیں
٭ جنسی اعضاء پر خوشبو دار مصنوعات کے استعمال سے پرہیز کرنا
تشخیص
گردوں کے انفیکشن کی تشخیص کے لیے پیشاب کا نمونہ لیا جاتا ہے، جس میں بیکٹیریا، خون یا پیپ کی موجودگی دیکھی جاتی ہے۔ بعض اوقات خون کا ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے تاکہ انفیکشن کی نوعیت معلوم ہو سکے۔
دیگر ٹیسٹوں میں الٹراساؤنڈ، سی ٹی سکین یا ایک خاص ایکس رے شامل ہو سکتے ہیں، جسے ووئڈنگ سسٹویوریتھروگرافی کہا جاتا ہے۔ اس میں مثانے کی حالت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
علاج
گردوں کے انفیکشن کے لیے اینٹی بائیوٹکس
اینٹی بایوٹکس اس بیماری کا بنیادی علاج ہیں، جن کا انتخاب مریض کی حالت اور بیکٹیریا کی نوعیت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ عام طور پر چند دنوں میں علامات کم ہونا شروع ہو جاتی ہیں، تاہم ایک ہفتہ یا اس سے زیادہ دوا جاری رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
اگر آپ بہتر محسوس کریں تب بھی دوا کا کورس مکمل کریں۔ ادویات ادھوری چھوڑنے سے انفیکشن دوبارہ ہو سکتا ہے یا یہ جسم کے دیگر حصوں میں پھیل سکتا ہے۔ یہ خون میں شامل ہو کر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر علاج کے بعد دوبارہ پیشاب کا ٹیسٹ کروا سکتے ہیں تاکہ یقین ہو جائے کہ انفیکشن ختم ہو چکا ہے۔
شدید انفیکشن میں ہسپتال میں علاج
اگر انفیکشن شدید ہو تو ہسپتال میں داخلہ ضروری ہو سکتا ہے، جہاں رگ کے ذریعے اینٹی بائیوٹکس اور سیال دیے جاتے ہیں۔ ہسپتال میں قیام کا دورانیہ انفیکشن کی شدت پر منحصر ہوتا ہے۔
بار بار ہونے والے انفیکشن کا علاج
اگر گردوں کا انفیکشن بار بار ہو تو اس کے پیچھے کوئی بنیادی طبی مسئلہ ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں مریض کو یورولوجسٹ کے پاس بھیجا جاتا ہے۔ اگر ساخت میں کوئی خرابی ہو تو سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
طرز زندگی اور گھریلو علاج
صحت یابی کے دوران درج ذیل اقدامات مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:
٭ پیٹ، کمر یا پہلو پر ہیٹنگ پیڈ رکھ کر درد میں کمی لانا
٭ بخار یا درد کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے دوا استعمال کریں
٭ گردوں کے مریض آئبوپروفین جیسی ادویات سے پرہیز کریں
٭ زیادہ پانی پیئیں تاکہ بیکٹیریا خارج ہوں۔ کافی، کیفین اور الکحل سے پرہیز کریں کیونکہ یہ پیشاب کی حاجت بڑھاتے ہیں