گردوں میں پتھریاں (Kidney stones) پیشاب میں موجود معدنیات اور نمکیات سے بنے سخت اجسام ہیں جو گردوں کے اندر بنتے ہیں۔ پتھریاں مختلف وجوہات سے بنتی ہیں جن میں خوراک، زیادہ وزن، صحت کے بعض مسائل اور کچھ سپلیمنٹس یا ادویات شامل ہیں۔ عموماً یہ اس وقت بنتی ہیں جب پیشاب میں پانی کم ہو، جس سے معدنیات کرسٹل کی شکل اختیار کر کے ایک دوسرے کے ساتھ چپک جاتے ہیں۔
گردوں میں پتھریاں شدید درد کا سبب بن سکتی ہیں۔ بعض اوقات صرف درد کی دوا لینا اور زیادہ پانی پینا کافی ہوتا ہے، جبکہ بعض اوقات سرجری یا دیگر علاج کی ضرورت پڑتی ہے۔ علاج کا انحصار پتھری کے سائز، مقام اور قسم پر ہوتا ہے۔
علامات
گردوں میں پتھریاں عام طور پر اس وقت تک علامات پیدا نہیں کرتیں جب تک یہ گردے میں حرکت نہ کریں یا یوریٹر میں نہ جا پہنچیں۔ یورٹر وہ نالیاں ہیں جو گردوں کو مثانے سے جوڑتی ہیں۔
اگر پتھری یوریٹر میں پھنس جائے تو یہ پیشاب کے بہاؤ کو روک سکتی ہے، گردے میں سوجن پیدا کرتی ہے۔ یوریٹر کے پٹھے اچانک سکڑ جاتے ہیں، جس سے شدید درد ہوتا ہے۔
علامات میں شامل ہو سکتی ہیں:
٭ پسلیوں کے نیچے اور کمر میں شدید، تیز درد
٭ درد جو نچلے پیٹ اور کشاں میں پھیل جائے
٭ درد جو لہروں کی طرح آئے اور شدت میں بدلتا رہے
٭ پیشاب کے دوران درد یا جلن
دیگر علامات
٭ گلابی، سرخ یا بھورا پیشاب
٭ دھندلا یا بدبو دار پیشاب
٭ بار بار پیشاب کرنے کی ضرورت یا معمول سے زیادہ/کم مقدار میں پیشاب
٭ متلی اور الٹی
٭ بخار اور کپکپی اگر انفیکشن موجود ہو
٭ پیشاب کی نالی میں حرکت کے ساتھ درد کا مقام یا شدت بدلنا
وجوہات
گردوں میں پتھریوں کی کوئی واحد وجہ نہیں ہوتی، بلکہ کئی عوامل خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ یہ اس وقت بنتی ہیں جب پیشاب میں کرسٹل بنانے والی چیزیں اتنی زیادہ ہوں کہ پانی انہیں تحلیل نہ کر سکے، جیسے کیلشیم آکسلیٹ، کیلشیم فاسفیٹ اور یورک ایسڈ۔ ساتھ ہی وہ اجزاء کم ہوں جو کرسٹل کو چپکنے سے روکتے ہیں۔
پتھریوں کی اقسام
پتھری کی قسم جاننا اس کی وجہ اور مناسب علاج طے کرنے میں مدد دیتا ہے اور دوبارہ پتھریاں بننے سے روکنے میں رہنمائی کرتا ہے۔
کیلشیم کے سٹونز: زیادہ تر پتھریاں کیلشیم کی ہوتی ہیں۔ یہ عموماً کیلشیم آکسلیٹ سے بنتی ہیں، جو جگر کی روزانہ پیداوار یا خوراک سے حاصل ہوتی ہیں۔ بعض صورتوں میں کیلشیم فاسفیٹ پتھری بعض میٹابولک حالات یا کچھ ادویات کے استعمال سے بنتی ہے
یورک ایسڈ سٹونز: زیادہ پانی ضائع ہونے، غذائیت جذب کرنے میں دشواری، زیادہ پروٹین یا آرگن میٹ والی خوراک، ذیابیطس یا میٹابولک سنڈروم والے افراد میں بنتی ہیں، اور بعض جینیاتی عوامل بھی خطرہ بڑھاتے ہیں
سٹرائیوائٹ سٹونز: یہ پیشاب کے انفیکشن کی وجہ سے بنتی ہیں، تیزی سے بڑھ سکتی ہیں اور بعض اوقات بڑی ہو جاتی ہیں، لیکن علامات کم ہوں
سسٹائن سٹونز: یہ نایاب جینیاتی حالت سسٹینوریا میں بنتی ہیں، جس کی وجہ سے گردے زیادہ سسٹائن نامی پروٹین خارج کرتے ہیں
خطرے کے عوامل
فیملی یا پرسنل ہسٹری: فیملی میں پتھریاں بننے کی ہسٹری یا پہلے پتھری ہونا خطرہ بڑھاتا ہے
پانی کی کمی: کم پانی پینا، گرم یا خشک ماحول، یا زیادہ پسینہ خطرہ بڑھاتا ہے
کچھ خوراکیں: زیادہ آکسلیٹ، پروٹین، نمک یا چینی خطرہ بڑھاتے ہیں
موٹاپا: زیادہ جسمانی چربی خطرہ بڑھاتی ہے
ہاضمے کے امراض اور سرجری: گیسٹرک بائی پاس، انفلیمیٹری باؤل ڈیزیز یا مسلسل دست معدنیات کی مقدار بڑھاتے ہیں
صحت کی دیگر حالتیں: رینل ٹیوبولر ایسیڈوسس، سسٹینوریا، ہائپرپیراتھائرائیڈزم اور بار بار پیشاب کے انفیکشن
کچھ سپلیمنٹس اور ادویات: وٹامن سی، غذائی سپلیمنٹس، زیادہ لیکسٹیو، کیلشیم بیسڈ اینٹاسیڈ، کچھ مائیگرین یا ڈپریشن کی ادویات
ڈاکٹر سے کب ملیں
اگر کوئی علامت پریشان کرے تو فوراً معالج سے ملاقات کریں۔ خاص طور پر درج ذیل صورتوں میں:
٭ درد اتنا شدید ہو کہ آرام کی پوزیشن اختیار نہ ہو سکے
٭ درد کے ساتھ متلی اور الٹی
٭ درد کے ساتھ بخار اور کپکپی
٭ پیشاب میں خون
٭ پیشاب کرنے میں دشواری
تشخیص
٭ زیادہ کیلشیم یا یورک ایسڈ معلوم کرنے کیلئے بلڈ ٹیسٹ
٭ 24 گھنٹے کے پیشاب کے سیمپلز
٭ سی ٹی سکین، ایکس رے یا الٹراساونڈ
٭ پاس ہونے والی پتھری کی کیمیکل جانچ
٭ نایاب جینیاتی حالتوں کی تشخیص
علاج
٭ علاج پتھری کی قسم اور وجہ پر منحصر ہے
٭ زیادہ تر چھوٹی پتھریاں سرجری کے بغیر گزر سکتی ہیں
٭ زیادہ پانی پینا، تقریباً 1.8 تا 3.6 لیٹر روزانہ
٭ درد کی دوائیں
٭ الفا بلاکر دوائیں
زیادہ بڑی پتھریاں یا وہ جو خون، گردے کے نقصان یا بار بار انفیکشن کا سبب بنتی ہیں، زیادہ پیچیدہ علاج کی متقاضی ہوتی ہیں:
٭ ساؤنڈ ویوز سے پتھری کو ٹکڑوں میں توڑنا
٭ بڑی سرجری
٭ یوٹریرو سکوپ کے ذریعے پتھری ہٹانا
٭ اگر ہائپرپیراتھائی رائیڈزم ہو تو پیراتھائی رائیڈ گلینڈ کی سرجری
بچاؤ کی تدابیر
٭ دن بھر اتنا پانی پئیں کہ تقریباً 2 لیٹر یا اس سے زیادہ پیشاب بنے
٭ آکسلیٹ والی خوراک کم کریں، جیسے چقندر، پالک، گریاں، چاکلیٹ اور سویا
٭ کم نمک اور غیر حیوانی پروٹین والی خوراک استعمال کریں، جیسے دالیں، ضرورت پڑنے پر نمک کا متبادل
٭ کیلشیم سے بھرپور خوراک جاری رکھیں، لیکن سپلیمنٹس صرف ڈاکٹر کی ہدایت اور کھانے کے ساتھ لیں
٭ ادویات پیشاب میں معدنیات اور نمکیات کو کنٹرول کر سکتی ہیں اور کچھ پتھریوں سے بچاؤ میں مددگار ہوتی ہیں
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔