شدید گرمی، فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے دیگر اثرات دماغ اور اعصابی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق گرمی سے فالج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور نیند متاثر ہو سکتی ہے۔ مچھروں اور چیچڑیوں سے پھیلنے والی بعض بیماریاں بھی اعصابی مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔
یورونیوز کے مطابق یورپی اکیڈمی آف نیورولوجی کے ماہر ڈاکٹر الف کلوائٹ نے ان خطرات سے خبردار کیا۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی پہلے سے موجود اعصابی بیماریوں کی علامات بڑھا سکتی ہے۔ بچوں، بزرگوں اور مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کو زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔
طبی جریدے ’انوائرنمنٹل ریسرچ‘ میں 2020 میں شائع تحقیق میں کینیڈا کے لاکھوں افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق زیادہ سر سبز مقامات والے علاقوں میں رہنے والوں میں فالج اور ڈیمنشیا کا خطرہ نسبتاً کم پایا گیا۔ تاہم تحقیق سے براہِ راست وجہ اور اثر ثابت نہیں ہوئے۔