دنیا بھر میں کینسر کے شکار بچوں کے علاج کے نتائج میں بڑا فرق اب بھی برقرار ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق امیر ممالک میں 80 فیصد سے زیادہ بچے تشخیص کے پانچ سال بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔ دوسری طرف بعض کم وسائل والے ممالک میں یہ شرح 30 فیصد سے بھی کم ہے۔
ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں 194 ممالک کے اعداد و شمار شامل ہیں۔ رپورٹ میں پہلی بار بچوں اور نوعمروں میں لیمفائیڈ لیوکیمیا کے پانچ سالہ نتائج کا عالمی موازنہ کیا گیا ہے۔
ادارے کے مطابق بروقت تشخیص اور ضروری ادویات تک رسائی میں فرق اہم وجوہات ہیں۔ معیاری علاج کی سہولتوں میں فرق بھی بچوں کے نتائج کو متاثر کرتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے بہتر علاج کے لیے صحت کے نظام میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا ہے۔ ادارے نے طبی عملے کی تربیت اور ضروری ادویات کی دستیابی بہتر بنانے پر بھی زور دیا ہے۔
Tags: عدم مساوات