Vinkmag ad

سلیپ سٹڈی: نیند کے مسائل جانچنے کا ٹیسٹ

Sleep study in progress in a sleep lab to monitor brain waves, breathing, heart rate and blood oxygen levels.

سلیپ سٹڈی (Sleep study) نیند کے مسائل کی تشخیص کے لیے کیا جانے والا ٹیسٹ ہے۔ اس سے نیند کے دوران جسم میں ہونے والی اہم تبدیلیوں اور ممکنہ خرابیوں کا جائزہ لینے میں مدد ملتی ہے۔

یہ ٹیسٹ ہسپتال کے سلیپ ڈس آرڈر یونٹ یا سلیپ سینٹر میں عموماً رات کو کیا جاتا ہے۔ تاہم رات کی شفٹ میں کام کرنے اور دن میں سونے والے افراد کی سلیپ سٹڈی دن کے وقت بھی کی جا سکتی ہے۔

نیند کی مانیٹرنگ

سلیپ سٹڈی نیند کے مختلف مراحل اور سائیکلز کو مانیٹر کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیند کے معمول میں خلل آ رہا ہے یا نہیں اور اس کی ممکنہ وجہ کیا ہے۔

نیند کا آغاز عموماً نان ریپڈ آئی موومنٹ (این آر ای ایم) مرحلے سے ہوتا ہے۔ اس دوران دماغی لہریں سست ہو جاتی ہیں۔ انہیں ای ای جی کے ذریعے ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

تقریباً ایک یا دو گھنٹے بعد دماغی سرگرمی دوبارہ بڑھتی ہے اور ریپڈ آئی موومنٹ (آر ای ایم) نیند شروع ہوتی ہے۔ اس مرحلے میں آنکھیں تیزی سے حرکت کرتی ہیں۔ زیادہ تر خواب بھی اسی دوران آتے ہیں۔

ایک رات میں نیند کے کئی سائیکلز مکمل ہوتے ہیں۔ این آر ای ایم اور آر ای ایم مراحل تقریباً ہر 90 منٹ بعد تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ نیند کے مختلف مسائل اس قدرتی عمل میں خلل ڈال سکتے ہیں۔

کیوں کی جاتی ہے

ڈاکٹر نیند سے متعلق مختلف مسائل کی تشخیص کے لیے سلیپ سٹڈی تجویز کر سکتا ہے، مثلاً:

سلیپ ایپنیا یا سانس کے دیگر مسائل: نیند میں سانس بار بار رکنا یا سانس لینے میں دشواری

پیریاڈک لمب موومنٹ ڈس آرڈر: نیند میں ٹانگوں کا بار بار حرکت کرنا

نارکولیپسی: دن میں بہت زیادہ غنودگی یا اچانک سو جانا

آر ای ایم سلیپ بیہیویئر ڈس آرڈر: نیند میں خواب کے مطابق جسمانی حرکات کرنا

نیند میں غیرمعمولی حرکات: نیند میں چلنا یا دوسری غیرمعمولی حرکات کرنا

طویل مدتی بے خوابی: سونے یا نیند برقرار رکھنے میں مسلسل دشواری

خطرات

یہ ایک نان انویسیو اور بغیر درد کا ٹیسٹ ہے۔ اس کا سب سے عام ضمنی اثر جلد میں معمولی جلن ہے۔ یہ سینسر لگانے کے لیے استعمال ہونے والی ٹیپ یا چپکنے والے مادے کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔

ٹیسٹ کی تیاری

سلیپ سٹڈی سے پہلے دوپہر اور شام میں الکوحل یا کیفین والی غذاؤں اور مشروبات سے پرہیز کریں۔ یہ نیند کے معمول کو متاثر کر سکتے ہیں اور بعض مسائل کی علامات بڑھا سکتے ہیں۔ ٹیسٹ سے پہلے دوپہر کے وقت سونے سے بھی گریز کریں۔

ٹیسٹ سے پہلے نہانے کا مشورہ دیا جا سکتا ہے۔ تاہم جلد پر لوشن، جیل، پرفیوم یا میک اپ استعمال نہ کریں۔ یہ الیکٹروڈز اور دوسرے سینسرز کی کارکردگی میں خلل ڈال سکتے ہیں۔

ٹیسٹ کے دوران کیا ہوتا ہے

سلیپ سینٹر میں ٹیسٹ کے لیے عموماً شام کو پہنچنا ہوتا ہے اور رات وہیں گزاری جاتی ہے۔ آپ سونے کے معمول میں استعمال ہونے والی ضروری اشیا اور رات کے کپڑے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔

سلیپ سینٹر کا کمرہ عموماً ہوٹل کے کمرے جیسا، پرسکون اور تاریک ہوتا ہے۔ اس میں کم روشنی میں کام کرنے والا ویڈیو کیمرا نصب ہوتا ہے۔ اس کی مدد سے ٹیکنالوجسٹ رات کے دوران مریض کو دیکھ سکتا ہے۔ آڈیو سسٹم کے ذریعے دونوں ایک دوسرے سے بات بھی کر سکتے ہیں۔

سونے سے پہلے ٹیکنالوجسٹ سر کی جلد، کنپٹیوں، سینے اور ٹانگوں پر سینسر لگاتا ہے۔ انہیں ٹیپ یا ہلکے چپکنے والے مادے سے لگایا جاتا ہے۔ سینسر تاروں کے ذریعے کمپیوٹر سے منسلک ہوتے ہیں۔ تار اتنے لمبے ہوتے ہیں کہ بستر پر آسانی سے حرکت کی جا سکے۔ خون میں آکسیجن جانچنے کے لیے انگلی یا کان پر ایک چھوٹا کلپ بھی لگایا جاتا ہے۔

نیند کے دوران درج ذیل چیزیں مانیٹر کی جاتی ہیں:

٭ دماغی لہریں

٭ آنکھوں کی حرکات

٭ دل کی دھڑکن

٭ سانس لینے کا انداز

٭ خون میں آکسیجن کی سطح

٭ جسم کی پوزیشن

٭ سینے اور پیٹ کی حرکات

٭ بازوؤں اور ٹانگوں کی حرکات

٭ خراٹے اور دوسری آوازیں

ٹیکنالوجسٹ رات بھر نگرانی کرتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے اس سے بات کی جا سکتی ہے۔ بستر سے اٹھنا ہو تو وہ تاروں کو عارضی طور پر الگ کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

سانس میں مدد دینے والی مشین

اگر سلیپ ایپنیا کا شبہ ہو تو ٹیسٹ کے دوران پی اے پی مشین استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس کے ماسک کے ذریعے ہلکے دباؤ سے ہوا دی جاتی ہے۔ اس سے نیند میں سانس کی نالی کھلی رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

سی پی اے پی اس مشین کی ایک قسم ہے۔ یہ مسلسل ایک جیسے دباؤ سے ہوا فراہم کرتی ہے۔ بی پی اے پی مشین سانس اندر لیتے وقت زیادہ اور باہر نکالتے وقت کم دباؤ سے ہوا دیتی ہے۔ بعض افراد کے لیے یہ زیادہ آرام دہ ہوتی ہے۔

ٹیسٹ سے پہلے ماسک آزمانے کا موقع بھی دیا جا سکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر سانس لینے میں مدد کے لیے آکسیجن بھی دی جا سکتی ہے۔

سلیپ سینٹر میں گھر جیسی نیند نہ آنا معمول کی بات ہے۔ عموماً اس سے نتائج متاثر نہیں ہوتے۔ درست نتائج کے لیے پوری رات سونا بھی ضروری نہیں۔

ٹیسٹ کے بعد

ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد سینسر ہٹا دیے جاتے ہیں اور آپ گھر جا سکتے ہیں۔ اس کے بعد معمول کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔ نتائج پر بات کرنے کے لیے ڈاکٹر فالو اپ اپوائنٹمنٹ دے سکتا ہے۔

ہوم سلیپ ایپنیا ٹیسٹ کے بعد صبح سینسر اتارے جا سکتے ہیں۔ استعمال شدہ آلہ ڈاکٹر کے کلینک واپس کرنا ہوتا ہے۔ بعض آلات ایک بار استعمال کے بعد تلف کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔

نتائج

سلیپ سٹڈی کے دوران ریکارڈ ہونے والی معلومات سے نیند کے انداز اور ممکنہ مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔

٭ دماغی لہروں اور آنکھوں کی حرکات سے نیند کے مراحل اور ان میں آنے والے خلل کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ نارکولیپسی اور آر ای ایم سلیپ بیہیویئر ڈس آرڈر جیسے مسائل کی تشخیص میں مدد دے سکتا ہے

٭ دل کی دھڑکن، سانس اور خون میں آکسیجن کی غیرمعمولی تبدیلیاں سلیپ ایپنیا کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں

٭ پی اے پی مشین یا آکسیجن کے استعمال سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ گھر پر استعمال کے لیے کون سی سیٹنگ زیادہ موزوں ہے

٭ ٹانگوں کی بار بار حرکت اگر نیند میں خلل ڈال رہی ہو تو یہ پیریاڈک لمب موومنٹ ڈس آرڈر کی علامت ہو سکتی ہے

٭ نیند میں غیرمعمولی حرکات یا رویے آر ای ایم سلیپ بیہیویئر ڈس آرڈر یا نیند کے کسی دوسرے مسئلے کی نشاندہی کر سکتے ہیں

ہوم سلیپ ایپنیا ٹیسٹ کے نتائج آنے میں چند دن یا ہفتے لگ سکتے ہیں۔ فالو اپ کے دوران ڈاکٹر نتائج کی وضاحت کرتا ہے۔ ضرورت کے مطابق علاج یا مزید ٹیسٹ تجویز کیے جا سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

بڑھتی عمر میں زخم جلد بھرنے کی امید، دوا کے حوصلہ افزا نتائج

Read Next

سیپٹک آرتھرائٹس: جوڑ کا انفیکشن

Leave a Reply

Most Popular