بڑھتی عمر میں دیر سے بھرنے والے زخموں کے علاج میں نئی امید سامنے آئی ہے۔ سائنس دانوں نے ایک ایسی دوا کا تجربہ کیا ہے جو جلد کی بحالی میں رکاوٹ بننے والے خلیوں کو نشانہ بناتی ہے۔ اس کے استعمال کے بعد زخم مندمل ہونے کے عمل میں تیزی دیکھی گئی۔
طبی جریدے ایجنگ میں شائع بوسٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں اے بی ٹی-263 (نیویٹوکلَیکس) کو بوڑھے چوہوں کی جلد پر پانچ دن تک لگایا گیا۔ اس کے بعد جلد پر زخم بنا کر بھرنے کے عمل کا جائزہ لیا گیا۔ دوا نے سینسنٹ سیلز کی تعداد کم کی اور زخم نسبتاً تیزی سے بھرے۔
سینسنٹ سیلز ایسے خلیے ہیں جو عمر بڑھنے یا نقصان کے باعث تقسیم ہونا چھوڑ دیتے ہیں، مگر جسم میں موجود رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ان کا جمع ہونا اردگرد کے ٹشوز کے معمول کے افعال متاثر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جلد کی مرمت بھی سست پڑ سکتی ہے۔
محققین کے مطابق مستقبل میں اس پیش رفت سے خصوصاً بڑی عمر کے افراد کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ تاہم تجربات ابھی صرف چوہوں پر ہوئے ہیں۔ اے بی ٹی-263 انسانوں میں زخموں کا ثابت شدہ علاج نہیں ہے۔ اس کے مؤثر ہونے اور ممکنہ مضر اثرات جاننے کے لیے انسانی کلینیکل ٹرائلز ضروری ہوں گے۔