سیپٹک آرتھرائٹس (Septic arthritis) جوڑوں کا ایک تکلیف دہ انفیکشن ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے، جب بیکٹیریا، وائرس یا پھپھوندی (فنگس) جوڑ تک پہنچ کر انفیکشن پیدا کر دیں۔ بعض اوقات جراثیم جسم کے کسی دوسرے حصے سے خون کے ذریعے بھی جوڑ تک پہنچ جاتے ہیں۔
علامات
٭ کسی جوڑ میں اچانک شدید درد شروع ہو جانا
٭ درد کی وجہ سے متاثرہ جوڑ کو حرکت دینا یا استعمال کرنا مشکل ہونا
٭ جوڑ میں سوجن، گرمی اور جلد کے رنگ میں تبدیلی آنا
٭ بخار ہونا
٭ اگر انفیکشن مصنوعی جوڑ میں ہو تو کئی ماہ یا کئی سال بعد بھی درد اور سوجن ظاہر ہو سکتی ہے
٭ بعض صورتوں میں مصنوعی جوڑ ڈھیلا ہو جاتا ہے، جس سے حرکت یا وزن ڈالنے پر درد محسوس ہوتا ہے
وجوہات
٭ سٹیفیلوکوکس اوریئس اس انفیکشن کا سب سے عام سبب ہے۔ یہ بیکٹیریا بہت سے صحت مند افراد کی جلد اور ناک میں قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے
٭ جلد یا پیشاب کی نالی کا انفیکشن خون کے ذریعے جوڑ تک پہنچ سکتا ہے
٭ سوئی یا نوکیلی چیز سے لگنے والا زخم، جانور کا کاٹنا، یا جوڑ کے اندر یا قریب کی جانے والی سرجری بھی جراثیم کو جوڑ تک پہنچا سکتی ہے
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
ان صورتوں میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں:
٭ اگر کسی جوڑ میں اچانک شدید درد شروع ہو جائے
٭ اگر جوڑ کی تبدیلی کی سرجری کے بعد درد، سوجن یا حرکت میں دشواری محسوس ہو
خطرے کے عوامل
جوڑوں کی طویل مدتی بیماریاں
٭ اوسٹیو آرتھرائٹس، گاؤٹ، روماٹائیڈ آرتھرائٹس اور لوپس اس انفیکشن کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں
٭ جوڑ کی سابقہ سرجری یا چوٹ بھی خطرہ بڑھا سکتی ہے
مصنوعی جوڑ
٭ مصنوعی جوڑ رکھنے والے افراد میں جراثیم سرجری کے دوران یا خون کے ذریعے جوڑ تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے انفیکشن کا امکان بڑھ جاتا ہے
رماٹائیڈ آرتھرائٹس کی ادویات
٭ بعض ادویات مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتی ہیں، جس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
٭ ان مریضوں میں اس انفیکشن کی تشخیص بھی مشکل ہو سکتی ہے، کیونکہ اس کی کئی علامات روماٹائیڈ آرتھرائٹس سے ملتی جلتی ہیں
جلد کے مسائل
٭ جلد کا آسانی سے زخمی ہونا یا زخم کا دیر سے بھرنا جراثیم کے جسم میں داخل ہونے کا خطرہ بڑھا سکتا ہے
٭ سورائسس، ایگزیما اور متاثرہ جلدی زخم بھی اس انفیکشن کا امکان بڑھا سکتے ہیں
٭ انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والے افراد میں بھی انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے
کمزور مدافعتی نظام
٭ ذیابیطس، گردوں یا جگر کے امراض، یا کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں یہ انفیکشن زیادہ عام ہو سکتا ہے
ایک سے زیادہ خطرے کے عوامل
٭ اگر کسی شخص میں ایک سے زیادہ خطرے کے عوامل موجود ہوں، تو جوڑ کے انفیکشن کا امکان مزید بڑھ جاتا ہے
تشخیص
جوڑ کے انفیکشن کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر پہلے آپ کی میڈیکل ہسٹری معلوم کرتا ہے اور جسمانی معائنہ کرتا ہے۔ اس دوران جوڑ میں درد، سوجن، گرمی، حرکت کی کیفیت اور جلد کے رنگ میں تبدیلی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
تشخیصی ٹیسٹ
جوڑ کی رطوبت کا معائنہ
٭ جوڑ سے سوئی کے ذریعے رطوبت کا نمونہ لے کر لیبارٹری میں جانچ کی جاتی ہے۔ اس جانچ سے انفیکشن پیدا کرنے والے جراثیم کی شناخت کی جاتی ہے، تاکہ مناسب علاج شروع کیا جا سکے
خون کے ٹیسٹ
٭ خون کے ٹیسٹ سے معلوم کیا جاتا ہے کہ جسم میں انفیکشن کی علامات موجود ہیں یا نہیں
امیجنگ ٹیسٹ
٭ ایکس رے اور دیگر امیجنگ ٹیسٹ متاثرہ جوڑ کے نقصان یا مصنوعی جوڑ کے ڈھیلے ہونے کی نشاندہی کر سکتے ہیں
Frequently Asked Questions (FAQs)
جوڑ کے انفیکشن کی صورت میں فوری علاج کیوں ضروری ہے؟
بروقت علاج سے انفیکشن کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے اور جوڑ کو مستقل نقصان پہنچنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
کن افراد میں جوڑ کے انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟
مصنوعی جوڑ رکھنے والے افراد، جوڑوں کی دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد، کمزور مدافعتی نظام والے افراد اور روماٹائیڈ آرتھرائٹس کی بعض ادویات استعمال کرنے والے افراد میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
جوڑ کے انفیکشن کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟
تشخیص کے لیے میڈیکل ہسٹری، جسمانی معائنہ، جوڑ کے رطوبت کا معائنہ، خون کے ٹیسٹ اور ضرورت پڑنے پر امیجنگ ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ صحت سے متعلق کسی بھی مسئلے میں اپنے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کریں۔
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=orthopedic