نارکولیپسی (Narcolepsy) نیند سے متعلق ایک طویل مدتی بیماری ہے۔ اس میں دن کے وقت شدید غنودگی ہوتی ہے اور زیادہ دیر تک جاگتے رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔ بعض افراد اچانک سو بھی جاتے ہیں۔ کچھ مریضوں میں شدید جذبات کے دوران پٹھوں کی طاقت اچانک کم یا ختم ہو جاتی ہے۔ اسے کیٹاپلیکسی کہتے ہیں۔
نارکولیپسی کی دو اقسام ہیں۔ ٹائپ 1 میں زیادہ تر افراد کو کیٹاپلیکسی ہوتی ہے، جبکہ ٹائپ 2 میں عموماً یہ کیفیت نہیں ہوتی۔
علامات
دن میں شدید غنودگی: مریض کام یا گفتگو سمیت کسی بھی وقت اچانک سو سکتا ہے۔ نیند چند منٹ سے آدھے گھنٹے تک رہ سکتی ہے۔ جاگنے کے بعد کچھ دیر تازگی محسوس ہوتی ہے، لیکن غنودگی دوبارہ ہونے لگتی ہے۔ ڈرائیونگ کے دوران ایسا ہونا خاص طور پر خطرناک ہے۔
خودکار سرگرمیاں: بعض افراد مختصر وقت کے لیے سو جانے کے باوجود لکھنے یا ٹائپنگ جیسا کام جاری رکھتے ہیں۔ بیدار ہونے پر انہیں اس دوران کیے گئے کام یاد نہیں رہتے۔
کیٹاپلیکسی: پٹھوں کی طاقت اچانک کم یا ختم ہو سکتی ہے۔ ہنسی، جوش، خوف، حیرت یا غصے میں ایسا ہو سکتا ہے۔ سر بے اختیار جھک سکتا ہے یا گھٹنوں کی طاقت ختم ہونے سے انسان گر سکتا ہے۔
سلیپ پیرالیسز: سوتے یا جاگتے وقت مریض چند سیکنڈ یا منٹ تک حرکت یا بات نہیں کر پاتا۔ اس دوران وہ اردگرد کی صورتحال سے باخبر رہ سکتا ہے۔
ہیلوسینیشنز: سوتے یا جاگتے وقت ایسی چیزیں دکھائی دے سکتی یا محسوس ہو سکتی ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتیں۔ یہ تجربات واضح اور خوفزدہ کرنے والے ہو سکتے ہیں۔
آر ای ایم نیند میں تبدیلی: ریپڈ آئی موومنٹ (آر ای ایم) نیند میں زیادہ تر خواب آتے ہیں۔ عام طور پر یہ مرحلہ نیند آنے کے 60 سے 90 منٹ بعد شروع ہوتا ہے، لیکن نارکولیپسی میں تقریباً 15 منٹ کے اندر شروع ہو سکتا ہے۔
نیند سے متعلق دیگر مسائل
نارکولیپسی کے ساتھ آبسٹرکٹیو سلیپ ایپنیا بھی ہو سکتا ہے، جس میں سوتے ہوئے سانس بار بار رکتی ہے۔ بعض افراد کو انسومنیا یعنی نیند آنے یا مسلسل سوئے رہنے میں دشواری ہوتی ہے۔ آر ای ایم سلیپ بیہیویئر ڈس آرڈر میں انسان خواب دیکھتے ہوئے اس کے مطابق جسمانی حرکات کرنے لگتا ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر دن کی غنودگی ذاتی، تعلیمی یا پیشہ ورانہ زندگی کو متاثر کر رہی ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
وجوہات
نارکولیپسی کی اصل وجہ پوری طرح معلوم نہیں۔ ٹائپ 1 میں ہائپوکریٹن (Hypocretin)، جسے اوریکسن (Orexin) بھی کہا جاتا ہے، کی سطح کم ہوتی ہے۔ دماغ کا یہ کیمیکل بیداری اور آر ای ایم نیند کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہائپوکریٹن بنانے والے دماغی خلیوں کے خاتمے میں آٹو امیون ردعمل کا کردار ہو سکتا ہے۔ جینیاتی عوامل بھی ممکنہ وجہ ہیں، لیکن والدین سے بچے میں یہ عارضہ منتقل ہونے کا امکان تقریباً 1 سے 2 فیصد ہے۔
نارکولیپسی کو ایچ ون این ون فلو اور یورپ میں استعمال ہونے والی اس کی ایک مخصوص ویکسین سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔
خطرے کے عوامل
عمر: نارکولیپسی عموماً 10 سے 30 سال کی عمر کے درمیان شروع ہوتی ہے۔
فیملی ہسٹری: قریبی رشتہ دار کو نارکولیپسی ہو تو اس کا خطرہ 20 سے 40 گنا بڑھ سکتا ہے۔
پیچیدگیاں
روزمرہ زندگی پر اثر: شدید غنودگی تعلیم، ملازمت اور ذاتی تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے۔ دوسرے لوگ اسے غلطی سے سستی بھی سمجھ سکتے ہیں
حادثات اور چوٹیں: اچانک سو جانے سے ٹریفک حادثات، گرنے، جلنے یا کٹ لگنے کا خطرہ بڑھتا ہے
موٹاپا: نارکولیپسی والے افراد میں وزن زیادہ ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے
تشخیص
علامات کی بنیاد پر نارکولیپسی کا شبہ ہونے پر ڈاکٹر مریض کو سلیپ سپیشلسٹ کے پاس بھیج سکتا ہے۔ تشخیص میں سلیپ ہسٹری اور سونے جاگنے کا ریکارڈ اہم ہوتے ہیں
پولی سومنوگرافی: رات کی اس سلیپ سٹڈی میں دماغی سرگرمی، سانس، دل کی دھڑکن اور دوسری جسمانی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے
ملٹی پل سلیپ لیٹنسی ٹیسٹ: اس سے معلوم کیا جاتا ہے کہ مریض کو دن کے وقت کتنی جلد نیند آتی ہے
لمبر پنکچر: مخصوص حالات میں سپائنل ٹیپ کے ذریعے ہائپوکریٹن کی سطح جانچی جا سکتی ہے
ان ٹیسٹوں سے ناکافی نیند، ادویات کے اثرات اور سلیپ ایپنیا جیسی دوسری ممکنہ وجوہات جانچنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
علاج
نارکولیپسی کا مکمل علاج موجود نہیں، لیکن ادویات اور طرزِ زندگی میں تبدیلی سے علامات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
بعض ادویات مرکزی اعصابی نظام کو متحرک کرکے دن کی غنودگی کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ کچھ دوائیں اور اینٹی ڈپریسنٹس کیٹاپلیکسی، سلیپ پیرالیسز اور ہیلوسینیشنز کم کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ دیگر بیماریوں کی ادویات استعمال کرنے والے افراد ڈاکٹر کو ضرور آگاہ کریں، کیونکہ بعض دوائیں ایک دوسرے کے ساتھ ری ایکشن کر سکتی ہیں۔
طرزِ زندگی اور گھریلو تدابیر
نیند کا معمول قائم رکھیں: روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر سوئیں اور جاگیں
مختصر نیند لیں: دن میں مقررہ اوقات پر تقریباً 20 منٹ کی نیند غنودگی کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے
نکوٹین اور الکوحل سے گریز کریں: خصوصاً رات کے وقت ان کا استعمال علامات بڑھا سکتا ہے
باقاعدگی سے ورزش کریں: سونے سے چار سے پانچ گھنٹے پہلے معتدل ورزش رات کی نیند بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا نارکولیپسی کا مکمل علاج ممکن ہے؟
نہیں، لیکن ادویات اور طرزِ زندگی میں تبدیلی سے علامات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
کیا ہر مریض کو کیٹاپلیکسی ہوتی ہے؟
نہیں۔ یہ ٹائپ 1 نارکولیپسی میں عام ہے، جبکہ ٹائپ 2 میں عموماً نہیں ہوتی۔
کیا سلیپ پیرالیسز کا مطلب نارکولیپسی ہے؟
نہیں۔ یہ نارکولیپسی کی علامت ہو سکتی ہے، لیکن دوسرے افراد میں بھی ہو سکتی ہے۔
نارکولیپسی کے لیے کس ڈاکٹر سے رجوع کریں؟
سلیپ میڈیسن سپیشلسٹ یا نیورولوجسٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=neurologist