Vinkmag ad

جاگتے ہوئے دماغ کی سرجری

Female patient undergoing awake brain surgery in a hospital operating room

جاگتے ہوئے دماغ کی سرجری (Awake brain surgery) کو اویک کرینیوٹومی (awake craniotomy) بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں مریض پروسیجر کے کچھ حصے کے دوران جاگ رہا ہوتا ہے۔ اس دوران طبی ٹیم دماغی افعال کو براہِ راست جانچتی ہے۔ یہ سرجری عموماً اُس وقت کی جاتی ہے، جب علاج دماغ کے اُن حصوں سے متعلق ہو جو بولنے، حرکت کرنے، سمجھنے یا بینائی جیسے اہم افعال کنٹرول کرتے ہیں۔

کیوں کی جاتی ہے

جاگتے ہوئے دماغ کی سرجری اُس وقت کی جاتی ہے، جب رسولی یا دوروں والا حصہ دماغ کے اُن حصوں کے قریب ہو، جو بولنے، حرکت، سمجھنے یا دیگر اہم صلاحیتوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس صورت میں سرجیکل ٹیم کو متاثرہ حصہ نکالتے وقت ان افعال کو محفوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

سرجری سے پہلے امیجنگ ٹیسٹ یہ تو دکھا سکتے ہیں کہ رسولی یا متاثرہ حصہ کہاں موجود ہے، لیکن وہ ہمیشہ یہ واضح نہیں کرتے کہ ہر فرد کے دماغ میں اہم افعال کہاں انجام پاتے ہیں۔ یہ مقامات ہر شخص میں مختلف ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب رسولی یا دوروں نے دماغی افعال میں تبدیلی پیدا کر دی ہو۔

برین میپنگ دماغ کے اُن حصوں کی شناخت کرتی ہے، جو زبان، حرکت، احساس اور بینائی جیسے افعال انجام دیتے ہیں۔ یہ ہر صورت میں ضروری نہیں ہوتی۔ یہ عام طور پر اُس وقت کی جاتی ہے، جب متاثرہ حصہ ان اہم حصوں کے قریب ہو۔

یہ طریقہ سرجیکل ٹیم کو رسولی یا دوروں والے حصے کو زیادہ سے زیادہ نکالنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ سرجری کے بعد بولنے، حرکت کرنے یا دیگر افعال میں خرابی کے خطرات کم ہوتے ہیں۔

خطرات

جاگتے ہوئے دماغ کی سرجری کے کئی خطرات دیگر دماغی سرجریوں جیسے ہوتے ہیں۔ یہ خطرات اس بات پر منحصر ہوتے ہیں کہ سرجری دماغ کے کس حصے میں ہو رہی ہے اور کس بیماری کا علاج کیا جا رہا ہے۔

ممکنہ خطرات میں عمومی سرجیکل پیچیدگیاں، دماغی افعال میں تبدیلیاں اور دیگر طبی مسائل شامل ہیں۔

عمومی خطرات

٭ خون بہنا

٭ انفیکشن

٭ دماغ میں سوجن

٭ دماغ میں سیال جمع ہونا

٭ ریڑھ کی ہڈی کے سیال کا اخراج

دماغی افعال میں تبدیلیاں

٭ بولنے یا سمجھنے میں مشکل

٭ کمزوری یا حرکت میں دشواری

٭ بینائی میں تبدیلی

٭ یادداشت کے مسائل

٭ توازن یا جسمانی ہم آہنگی میں دشواری

دیگر ممکنہ خطرات

٭ دورے

٭ سٹروک

٭ دماغی جھلیوں کی سوزش

چونکہ دماغ کے مختلف حصے مختلف افعال کنٹرول کرتے ہیں، اس لیے خطرات کی نوعیت بھی متاثرہ حصے کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ جاگتے ہوئے دماغ کی سرجری کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ دماغی افعال کی مسلسل نگرانی کے ذریعے نقصان کے امکانات کم کیے جائیں۔ تاہم، خطرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

طریقہ کار

سرجری سے پہلے

طبی ٹیم پہلے یہ طے کرتی ہے کہ جاگتے ہوئے دماغ کی سرجری مریض کے لیے مناسب ہے یا نہیں۔ اس کے بعد طریقۂ کار، فوائد اور ممکنہ خطرات کی وضاحت کی جاتی ہے اور مریض کے سوالات کے جواب دیے جاتے ہیں۔

سرجری کی منصوبہ بندی کے لیے مختلف ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں ایم آر آئی جیسے امیجنگ ٹیسٹ اور دیگر جائزے شامل ہوتے ہیں، تاکہ دماغ کے مختلف حصوں کے افعال کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

سرجری سے پہلے مریض کسی ماہر، جیسے سپیچ اینڈ لینگوائج تھراپسٹ سے بھی مل سکتا ہے۔ یہ ماہر مریض سے تصاویر پہچاننے، الفاظ پڑھنے یا سادہ کام مکمل کرنے کو کہہ سکتا ہے۔ ان سرگرمیوں کی پہلے سے مشق کروائی جاتی ہے تاکہ سرجری کے دوران ردعمل کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔

طبی ٹیم تیاری سے متعلق ہدایات بھی دیتی ہے۔ ان میں کھانا پینا کب بند کرنا ہے، معمول کی دوائیں کیسے استعمال کرنی ہیں اور ہسپتال کیا لانا ہے، شامل ہو سکتا ہے۔

مریض کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ سرجری کے دوران اسے کیسے آرام دہ رکھا جائے گا اور برین میپنگ کے وقت کس طرح جواب دینا ہوگا۔

سرجری کے دوران

مریض کو سکون اور آرام کے لیے دوا دی جاتی ہے۔ طبی ٹیم کھوپڑی کی جلد کو سن کر دیتی ہے تاکہ درد محسوس نہ ہو۔ مریض سرجری کے کچھ حصوں میں غنودگی محسوس کر سکتا ہے اور بعض حصوں میں جاگ سکتا ہے۔

سر کو نرمی سے ایک جگہ مستحکم رکھا جاتا ہے تاکہ حرکت نہ ہو۔ بعض اوقات بالوں کا کچھ حصہ کاٹا جاتا ہے۔ اس کے بعد سرجن دماغ تک رسائی کے لیے کھوپڑی میں سوراخ بناتا ہے۔

اگر سرجری اہم افعال والے حصوں کے قریب ہو، تو برین میپنگ کی جاتی ہے۔ اس سے معلوم کیا جاتا ہے کہ دماغ کے کون سے حصے بولنے، حرکت اور بینائی جیسے افعال کنٹرول کرتے ہیں۔

میپنگ کے دوران سرجن دماغ کے چھوٹے حصوں کو نرمی سے متحرک کرتا ہے اور جسم کے ردعمل کا مشاہدہ کرتا ہے۔ مریض سے بولنے، گنتی کرنے، تصاویر دیکھنے یا جسم کا کوئی حصہ حرکت دینے کو کہا جا سکتا ہے۔

سرجیکل ٹیم جدید دماغی امیجنگ، جیسے ایم آر آئی اور کمپیوٹر گائیڈڈ ٹولز، سے بھی مدد لیتی ہے تاکہ سرجری زیادہ درست طریقے سے کی جا سکے۔

پورے پروسیجر کے دوران دماغی اور جسمانی افعال کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔ اگر کوئی تبدیلی محسوس ہو، تو سرجن سرجری روک سکتا ہے، کسی دوسرے حصے کی طرف جا سکتا ہے یا منصوبہ تبدیل کر سکتا ہے تاکہ اہم صلاحیتیں محفوظ رہیں۔

دیگر پہلو

یہ عمل دردناک نہیں ہوتا، لیکن وقتی طور پر بعض تبدیلیاں محسوس ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر بولنے میں دشواری، جسم کے کسی حصے میں حرکت یا سنسناہٹ محسوس ہو سکتی ہے۔ یہ اثرات تحریک ختم ہوتے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔

اگرچہ مریض سرجری کے کچھ حصے میں جاگ رہا ہوتا ہے، لیکن اسے درد محسوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ دماغ خود درد محسوس نہیں کرتا۔ بعض اوقات دباؤ یا کھچاؤ جیسا احساس ہو سکتا ہے، لیکن آرام کے لیے دوا دی جاتی ہے۔

یہ سرجری کئی گھنٹے جاری رہ سکتی ہے۔ برین میپنگ بھی ایک گھنٹے سے کئی گھنٹوں تک جاری رہ سکتی ہے، اس کا انحصار جانچے جانے والے حصے پر ہوتا ہے۔

مریض مشینوں کی آوازیں بھی سن سکتا ہے یا محسوس کر سکتا ہے کہ سر ایک جگہ رکھا گیا ہے۔ تاہم، طبی ٹیم ہر مرحلے میں رہنمائی فراہم کرتی رہتی ہے۔

سرجری کے بعد

سرجری کے بعد طبی ٹیم مریض کی قریبی نگرانی کرتی ہے۔ بہت سے مریض پہلے کچھ وقت انتہائی نگہداشت یونٹ میں گزارتے ہیں، پھر عام وارڈ منتقل کیے جاتے ہیں۔ عموماً مریض 2 سے 3 دن ہسپتال میں رہتا ہے تاکہ بحالی کی نگرانی کی جا سکے۔

طبی ٹیم یہ جانچنے کے لیے ایم آر آئی بھی کروا سکتی ہے کہ رسولی یا دوروں والے حصے کا کتنا حصہ نکالا گیا ہے۔

بحالی کے دوران تھکن یا کچھ تکلیف محسوس ہونا عام بات ہے۔ طبی ٹیم درد کم کرنے اور دماغی و جسمانی افعال کی نگرانی میں مدد کرتی ہے۔

زیادہ تر لوگ چند ہفتوں یا مہینوں میں آہستہ آہستہ معمول کی سرگرمیوں کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ بحالی اور آئندہ علاج کی منصوبہ بندی کے لیے فالو اپ ملاقاتیں بھی کی جاتی ہیں۔

بعض مریضوں کو جسمانی، تقریری یا روزمرہ سرگرمیوں کی بحالی کی تھراپی بھی درکار ہو سکتی ہے۔

نتائج

نتائج سرجری کی وجہ اور دماغ کے متاثرہ حصے پر منحصر ہوتے ہیں۔

مرگی کے مریضوں میں سرجری کے بعد اکثر دوروں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ بعض افراد مکمل طور پر دوروں سے نجات پا لیتے ہیں، جبکہ بعض میں دورے کم وقفوں سے آتے ہیں۔ کچھ صورتوں میں دوروں میں نمایاں فرق نہیں آتا۔

اگر سرجری رسولی نکالنے کے لیے کی گئی ہو، تو مقصد رسولی کو زیادہ سے زیادہ محفوظ انداز میں نکالنا ہوتا ہے، جبکہ اہم دماغی صلاحیتیں محفوظ رکھی جاتی ہیں۔ بعض مریضوں کو باقی رہ جانے والے رسولی خلیوں کے علاج کے لیے ریڈی ایشن تھراپی یا کیموتھراپی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

سرجری کے بعد طبی ٹیم مریض کی حالت کی نگرانی جاری رکھتی ہے اور ضرورت کے مطابق علاج کا منصوبہ تبدیل کرتی ہے۔ بحالی اور طویل مدتی نتائج مریض کی حالت اور دماغ کی شفا یابی پر منحصر ہوتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=neurosurgery

Vinkmag ad

Read Previous

آٹو لوگس سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ

Read Next

بلڈ یوریا نائٹروجن (BUN) ٹیسٹ

Leave a Reply

Most Popular