بوٹوکس انجیکشن (Botox injections) ایسے طبی ٹیکے ہیں جن میں بوٹولینم ٹاکسن استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ زیادہ تر چہرے کی جھریاں کم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ گردن کے کھچاؤ، زیادہ پسینہ آنے، غیر معمولی طور پر فعال مثانے، ٹیڑھی آنکھ اور بعض اعصابی بیماریوں میں بھی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ مائیگرین کے حملوں کی شدت اور تعداد کم کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔
بوٹولینم ٹاکسن کی دو بنیادی اقسام ہیں:
٭ قسم (اے) زیادہ تر چہرے کی جھریوں اور جمالیاتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے
٭ قسم (بی) زیادہ تر گردن کے پٹھوں کے کھچاؤ کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے
بوٹوکس میں استعمال ہونے والا مادہ اسی زہر سے تیار کیا جاتا ہے جو بوٹولزم نامی فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتا ہے۔ تاہم طبی استعمال کے لیے اسے انتہائی کنٹرول شدہ شکل میں تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ادویات امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے منظور شدہ معیار کے مطابق ہوتی ہیں، اور درست استعمال کی صورت میں محفوظ سمجھی جاتی ہیں۔
کیوں لگایا جاتا ہے
بوٹوکس اعصاب سے آنے والے ان کیمیائی سگنلز کو روکتا ہے جو پٹھوں کو سکڑنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس سے متاثرہ عضلات وقتی طور پر ڈھیلے ہو جاتے ہیں۔ اس کا بنیادی استعمال چہرے کے ان عضلات کو آرام دینا ہے جو جھریوں کا سبب بنتے ہیں۔
یہ ان طبی علامات کے علاج میں بھی استعمال ہوتا ہے، تاہم یہ مستقل علاج نہیں ہے:
گردن کا کھچاؤ: اس حالت میں گردن کے پٹھے سکڑتے ہیں جس سے سر ٹیڑھا یا غیر معمولی زاویے پر چلا جاتا ہے۔ اسے سرویکل ڈسٹونیا کہا جاتا ہے
دیگر پٹھوں کا کھچاؤ: اعصابی بیماریوں مثلاً دماغی فالج میں ہاتھ پاؤں جسم کی طرف کھچ سکتے ہیں۔ آنکھوں میں جھٹکے لگنے یا غیر ارادی پھڑکنے کی کیفیت بھی پیدا ہو سکتی ہے
ٹیڑھی آنکھ: آنکھوں کو حرکت دینے والے پٹھوں کے عدم توازن سے آنکھیں سیدھ میں نہیں رہتیں
زیادہ پسینہ آنا: بعض افراد کو بغیر جسمانی محنت یا گرمی کے بھی غیر معمولی پسینہ آتا ہے
مائیگرین: یہ علاج ان مریضوں میں استعمال ہوتا ہے جنہیں ماہانہ 15 یا اس سے زیادہ دن شدید سر درد رہتا ہو۔ ہر تین ماہ بعد دوبارہ علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے
مثانے کے مسائل: اوور ایکٹیو مثانے کی وجہ سے پیشاب پر کنٹرول کم ہو جائے تو بوٹوکس انجیکشن اس کیفیت کو بہتر بنا سکتے ہیں
خطرات
بوٹوکس عام طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے، تاہم غلط استعمال کی صورت میں کچھ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے عام سائیڈ ایفیکٹس میں انجیکشن کی جگہ درد، سوجن، نیل، سر درد، فلو جیسے علامات، پلکوں کا جھک جانا، مسکراہٹ کا بگڑنا، آنکھوں کی خشکی یا پانی آنا اور انفیکشن شامل ہیں۔
کبھی کبھار دوا جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل سکتی ہے جس سے سنگین علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ پٹھوں کی کمزوری، بولنے یا نگلنے میں مشکل، نظر کی خرابی، سانس لینے میں دشواری، الرجی یا مثانے پر کنٹرول ختم ہو تو فوری طبی مدد ضروری ہوتی ہے۔ دوران حمل یا دودھ پلانے کے دوران اس کا استعمال تجویز نہیں کیا جاتا۔
صحیح معالج کا انتخاب
بوٹوکس صرف لائسنس یافتہ اور تربیت یافتہ ڈاکٹر کے ذریعے ہی لگایا جانا چاہیے۔ علاج سے پہلے ڈاکٹر سے مکمل مشورہ ضروری ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ یہ طریقہ آپ کے لیے مناسب ہے یا نہیں۔ مستند ماہر کے انتخاب کے لیے اپنے فیملی ڈاکٹر سے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔
پروسیجر کی تیاری
علاج کی تیاری مریض کی حالت اور مسئلے پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر پچھلے چار ماہ میں بوٹوکس لگوایا ہو تو ڈاکٹر کو ضرور آگاہ کریں۔ اگر آپ خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کر رہے ہیں تو ان کے بارے میں بھی ڈاکٹر کو بتائیں، کیونکہ بعض صورتوں میں انہیں چند دن پہلے روکنا پڑ سکتا ہے۔
پہلے
پسینے کے علاج سے پہلے جلد کو سن کرنے کے طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں برف کی ٹکور، لوکل اینستھیزیا یا ہلکا مساج شامل ہوتا ہے۔
دوران
بوٹوکس عام طور پر کلینک میں باریک سوئی کے ذریعے متاثرہ عضلات میں کم مقدار میں لگایا جاتا ہے۔ انجیکشن کی تعداد اور مقدار علاج کے حصے اور حالت پر منحصر ہوتی ہے۔ بعض صورتوں میں درست جگہ کی نشاندہی کے لیے الٹراساؤنڈ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
بعد میں
انجیکشن کے بعد 24 گھنٹے تک متاثرہ جگہ کو رگڑنے یا مساج کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور 2 سے 4 گھنٹے تک لیٹنے سے بھی پرہیز ضروری ہے تاکہ دوا غیر ضروری جگہوں تک نہ پھیلے۔ مریض عام طور پر جلد اپنی روزمرہ سرگرمیوں میں واپس آ سکتا ہے۔
نتائج
بوٹوکس کے اثرات عام طور پر 1 سے 3 دن میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں جبکہ مکمل اثر ایک ہفتے یا اس سے زیادہ وقت میں سامنے آتا ہے۔ نتائج ہر شخص میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس کا اثر عموماً 3 سے 4 ماہ تک رہتا ہے اور تسلسل برقرار رکھنے کے لیے باقاعدہ انجیکشن درکار ہوتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=dermatologist