سیزرین ڈیلیوری بچے کی پیدائش کا وہ سرجیکل پروسیجر ہے جس میں پیٹ اور رحم میں کٹ لگا کر بچے کو جنم دیا جاتا ہے۔ اسے عام طور پر سی سیکشن (C-section) کہا جاتا ہے۔
بعض حالات میں، خصوصاً جب حمل میں پیچیدگیاں ہوں تو سی سیکشن کا فیصلہ پہلے سے کر لیا جاتا ہے۔ جن خواتین کا پہلے سی سیکشن ہو چکا ہو، ان میں دوبارہ یہی طریقہ اختیار کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم پہلی بار سی سیکشن کا فیصلہ عموماً لیبر شروع ہونے کے بعد طبی صورتحال دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ حمل کے دوران اس طریقے کے بارے میں آگاہی اس کی تیاری اور فیصلہ سازی میں مدد دیتی ہے۔
کچھ خواتین پہلے حمل میں بھی سی سیکشن چاہتی ہیں تاکہ زچگی کی تکلیف سے بچا جا سکے یا ڈیلیوری کا وقت پہلے سے طے کیا جا سکے۔ تاہم طبی ماہرین کے مطابق یہ ہر صورت میں بہترین انتخاب نہیں ہوتا کیونکہ بار بار سی سیکشن آئندہ حمل میں خطرات بڑھا دیتا ہے۔ نارمل ڈیلیوری کے مقابلے میں پیچیدگیوں کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
کیوں کیا جاتا ہے
ماہرین صحت درج ذیل طبی وجوہات کی بنیاد پر سی سیکشن تجویز کر سکتے ہیں:
٭ لیبر درد کا سست ہونا یا رک جانا، سروکس کا مناسب حد تک نہ کھلنا یا بچے کا برتھ کینال میں نیچے کی طرف آگے نہ بڑھنا
٭ بچے کے دل کی دھڑکن میں غیر معمولی تبدیلی، جو زچگی کو غیر محفوظ بنا دے
٭ بچے کی غیر معمولی پوزیشن، جیسے بچہ سر کے بجائے پاؤں یا کولہوں کے بل ہو، یا بچہ رحم کے اندر افقی حالت میں ہو اور کندھا یا پہلو پیدائشی راستے کی طرف ہو
٭ ایک سے زیادہ بچوں کا حمل، خصوصاً جب بچے صحیح پوزیشن میں نہ ہوں یا لیبر قبل از وقت شروع ہو جائے
٭ جب پلیسینٹا رحم کے منہ کو مکمل یا جزوی طور پر ڈھانپ لے۔ پلیسینٹا وہ عضو ہے جو رحم میں بنتا ہے اور بچے کو خوراک، آکسیجن اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ڈیلیوری کے بعد اسے نکال دیا جاتا ہے
٭ نال (Umbilical cord) کا پہلے باہر آ جانا، جو بچے کے لیے خطرناک صورت حال پیدا کرتا ہے۔ نال وہ ڈوری ہے جو رحم میں بچے کو ماں سے جوڑے رکھتی ہے اور آکسیجن و غذائیت منتقل کرتی ہے
٭ ماں میں سنگین طبی مسائل جیسے دل یا دماغ کی بیماری
٭ جسمانی رکاوٹیں جیسے بڑے فائبرائڈ، کمر یا پیلوک فریکچر، یا بچے کے سر کا غیر معمولی طور پر بڑا ہونا
٭ پہلے سی سیکشن یا رحم کی سرجری کی ہسٹری، جس کی وجہ سے دوبارہ سی سیکشن کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے
خطرات
سی سیکشن ایک بڑی سرجری ہے جس کے ماں اور بچے دونوں پر اثرات ہو سکتے ہیں۔
بچے کے لیے خطرات
٭ پیدائش کے بعد سانس لینے میں مشکل ہونا
٭ سرجری کے دوران جلد پر معمولی کٹ یا چوٹ لگنا، اگرچہ یہ بہت کم ہوتا ہے
ماں کے لیے خطرات
٭ زخم یا رحم میں انفیکشن، جس میں رحم کی اندرونی جھلی کی سوزش (Endometritis)، پیشاب کی نالی کا انفیکشن یا سرجیکل کٹ کا انفیکشن شامل ہیں
٭ آپریشن کے دوران یا بعد میں زیادہ خون بہنا
٭ اینستھیزیا پر ری ایکشن
٭ ٹانگوں یا پیلوک رگوں میں خون کے کلاٹ بننا، جو پھیپھڑوں تک جا کر خطرناک صورتحال پیدا کر سکتے ہیں
٭ مثانے یا آنت کو سرجری کے دوران نقصان پہنچنے کا امکان
٭ آئندہ حمل میں پیچیدگیاں، جیسے پلیسینٹا کا غیر معمولی جڑنا (Placenta accreta) یا رحم پھٹنے کا خطرہ
سی سیکشن کی تیاری
اگر پہلے سے سی سیکشن کا فیصلہ کر لیا گیا ہو تو آپریشن سے پہلے اینستھیزیا کے ماہر سے ملاقات کی جاتی ہے تاکہ بے ہوشی کے طریقے اور ممکنہ خطرات پر بات کی جا سکے۔ ڈاکٹر خون کے ٹیسٹ بھی تجویز کر سکتا ہے تاکہ خون کی قسم اور ہیموگلوبن لیول معلوم ہو سکے۔ حمل کے دوران ہنگامی سی سیکشن کے امکان پر بھی پہلے سے آگاہی ضروری ہوتی ہے۔ اگر آئندہ بچوں کی ضرورت نہ ہو تو مستقل یا طویل مدتی مانع حمل نظام کے بارے میں بھی مشورہ کیا جا سکتا ہے۔
پروسیجر
٭ سرجری سے پہلے پیٹ کو جراثیم سے صاف کیا جاتا ہے، کیتھیٹر اور آئی وی لائن لگائی جاتی ہے
٭ ریجنل اینستھیزیا کے ذریعے جسم کا نچلا حصہ سن کیا جاتا ہے یا بعض صورتوں میں جنرل اینستھیزیا دیا جاتا ہے
٭ پیٹ میں افقی یا بعض اوقات عمودی کٹ لگایا جاتا ہے
٭ رحم کے نچلے حصے میں افقی کٹ لگایا جاتا ہے
٭ بچے کو احتیاط سے باہر نکالا جاتا ہے اور سانس کے راستے صاف کیے جاتے ہیں
٭ نال کو کاٹ کر بچہ ماں سے الگ کیا جاتا ہے
٭ پلیسینٹا کو رحم سے مکمل طور پر نکالا جاتا ہے
٭ رحم اور پیٹ کے کٹس کو ٹانکوں سے بند کیا جاتا ہے
پروسیجر کے بعد
عام طور پر ہسپتال میں 2 سے 3 دن قیام کرنا ہوتا ہے۔ ابتدائی طور پر مریضہ کو ہلکی حرکت کرنے، پانی پینے اور مختصر واک کی ترغیب دی جاتی ہے تاکہ خون کے کلاٹ بننے اور دیگر پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔ دودھ پلانا فوراً شروع کیا جا سکتا ہے اور ضرورت کے مطابق درد کم کرنے کی محفوظ ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔
گھر میں احتیاطیں
٭ مکمل آرام کریں اور بھاری وزن نہ اٹھائیں
٭ ڈاکٹر کی تجویز کردہ درد کی ادویات استعمال کریں
٭ گاڑی چلانے سے اس وقت تک پرہیز کریں جب تک خود کو مکمل طور پر بہتر محسوس نہ کریں
اگر زخم میں سوجن ہو، بخار، زیادہ خون بہنے یا درد میں اضافے کی شکایت ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ اگر شدید اداسی یا ڈپریشن کی علامات ہوں تو بھی طبی مدد ضروری ہے۔
فالو اپ
پیدائش کے 3 ہفتوں کے اندر ابتدائی چیک اپ اور 12 ہفتوں کے اندر مکمل فالو اپ ضروری ہے تاکہ جسمانی اور ذہنی صحت کا جائزہ لیا جا سکے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=obs%2Fgyn