انتقال خون (Blood transfusion) ایک عام میڈیکل پروسیجر ہے، جس میں عطیہ شدہ خون یا اس کے مخصوص اجزا جسم میں منتقل کیے جاتے ہیں۔ یہ خون ایک باریک نالی کے ذریعے رگ میں داخل کیا جاتا ہے۔
یہ پروسیجر چوٹ، حادثے یا سرجری کے دوران ضائع ہونے والا خون پورا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں خون کے مخصوص اجزا کم ہو جاتے ہیں یا درست طریقے سے کام نہیں کرتے، اس لیے ان کی منتقلی ضروری ہوتی ہے۔
زیادہ تر انتقال خون محفوظ ہوتا ہے اور اس میں پیچیدگیاں کم سامنے آتی ہیں۔ اگر کوئی ری ایکشن ہو بھی جائے تو وہ عموماً ہلکی نوعیت کا ہوتا ہے۔
خون کے اجزاء
مکمل انتقال خون عموماً ہنگامی حالات میں کیا جاتا ہے، خاص طور پر جب کسی چوٹ یا آپریشن کے دوران بہت زیادہ خون ضائع ہوجائے۔ بعض مریضوں کو مکمل خون کے بجائے خون کے مخصوص اجزا درکار ہوتے ہیں۔ ان اجزا کو خون کy پروڈکٹs کہا جاتا ہے، جن میں درج ذیل شامل ہیں:
٭ خون کے سرخ خلیے جو جسم تک آکسیجن پہنچاتے ہیں اور فضلہ خارج کرنے میں مدد دیتے ہیں
٭ سفید خلیے بیماریوں اور انفیکشن سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں
٭ پلازما خون کا مائع حصہ ہے، جس میں خون جمانے والے اہم اجزا موجود ہوتے ہیں
٭ کرایوپریسیپیٹیٹ (Cryoprecipitate) پلازما پروٹینز کا مجموعہ ہے، جو خون جمانے میں مدد دیتا ہے
٭ پلیٹ لیٹس خون میں موجود خلیاتی ٹکڑے ہیں، جو خون بہنے کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
کیوں کیا جاتا ہے
انتقال خون کی ضرورت درج ذیل حالات میں پیش آتی ہے:
٭ ایسی بیماریاں جو خون کے اجزا بننے کے عمل کو متاثر کرتی ہیں
٭ ایسی بیماریاں جو خون کے اجزا کو غیر معمولی بنا دیتی ہیں
٭ کیموتھراپی جیسے علاج، جو خون بنانے کی صلاحیت کم کرسکتے ہیں
خطرات
خون عطیہ کرنے والوں کے لیے سخت اصول اور جامع جانچ وائرس کے خطرات انتہائی کم کر دیتی ہے۔ ان میں ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس جیسے انفیکشن شامل ہیں۔
خون کی جانچ یہ بھی یقینی بناتی ہے کہ عطیہ شدہ خون مریض کے خون سے مطابقت رکھتا ہو۔ احتیاط سے انتخاب اور درست طریقۂ استعمال کے باعث انتقال خون کے خطرات کافی حد تک کم ہوجاتے ہیں۔
عام رد عمل
انتقال خون کے بعد بعض مریضوں میں ہلکا بخار یا معمولی الرجی ہوسکتی ہے، جس کا علاج ادویات سے کیا جاتا ہے۔ عام علامات میں شامل ہیں:
٭ ہلکا بخار
٭ سردی لگنا یا کپکپی
٭ سر درد
٭ خارش یا جلد پر دانے
دورانِ خون میں سیال بڑھ جانا
ایک کم عام مگر زیادہ سنجیدہ پیچیدگی انتقال خون سے وابستہ دورانِ خون پر اضافی بوجھ (Circulatory Overload) ہے۔ اس کیفیت میں پھیپھڑوں میں سیال جمع ہوجاتا ہے، جس سے سانس لینے میں دشواری پیدا ہوسکتی ہے۔
یہ خطرہ اس وقت بڑھ جاتا ہے جب کم وقت میں زیادہ مقدار میں خون منتقل کیا جائے۔ دل، خون کی نالیوں یا گردوں کے مریض اس پیچیدگی کا زیادہ شکار ہوسکتے ہیں۔ اس کیفیت کے علاج کے لیے انتقال خون کی رفتار کم کی جاتی ہے۔ جسم میں اضافی سیال کم کرنے کے لیے پیشاب آور ادویات دی جاتی ہیں۔
انتقال خون کی تیاری
اگر ماضی میں انتقال خون کے دوران کوئی ری ایکشن سامنے آیا ہو تو اپنے معالج کو ضرور آگاہ کریں۔ اسی طرح اگر آپ کے پاس ہسپتال یا بلڈ بینک کا اینٹی باڈی کارڈ یا الرٹ لیٹر ہو جس میں سرخ خون کے خلیوں کے خلاف اینٹی باڈیز کی نشاندہی ہو تو یہ معلومات بھی اپنے معالج کو ضرور دیں۔
انتقال خون سے پہلے مریض کے خون کی جانچ کی جاتی ہے تاکہ خون کی قسم معلوم ہوسکے۔ اس جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ خون A، B، AB یا O گروپ سے تعلق رکھتا ہے اور Rh مثبت ہے یا منفی۔ اس کے بعد ایسا عطیہ شدہ خون منتخب کیا جاتا ہے، جو مریض کے خون کے ساتھ محفوظ مطابقت رکھتا ہو۔
انتقال خون کے مراحل
انتقال خون عموماً ہسپتال یا آؤٹ پیشنٹ کلینک میں کیا جاتا ہے۔ یہ پروسیجر عام طور پر ایک سے چار گھنٹے تک جاری رہتا ہے۔
پہلے
طبی عملہ انتقال خون سے پہلے مریض کا درجہ حرارت، نبض اور بلڈ پریشر چیک کرتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ مریض کو درست عطیہ شدہ خون ہی دیا جارہا ہے۔
دوران
ایک سوئی کے ذریعے آئی وی لائن (رگ کے ذریعے لگائی جانے والی نالی) خون کی نالی میں لگائی جاتی ہے۔ پلاسٹک بیگ میں محفوظ عطیہ شدہ خون اسی کے ذریعے جسم میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اس دوران مریض کو بٹھایا یا لٹایا جاتا ہے۔
نرس پورے پروسیجر کے دوران مریض کی نگرانی کرتی ہے۔ وہ مسلسل بلڈ پریشر، درجہ حرارت اور نبض چیک کرتی رہتی ہے۔ اگر درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوری اطلاع دینا ضروری ہے:
٭ بخار یا سردی لگنا
٭ سر درد
٭ سانس لینے میں دشواری
٭ نئی کھانسی
٭ جسم میں سوجن
٭ خارش
٭ سینے یا کمر میں درد
بعد میں
انتقال خون مکمل ہونے پر سوئی اور آئی وی لائن نکال دی جاتی ہے۔ سوئی لگنے کی جگہ پر ہلکا نیلا نشان پڑ سکتا ہے، جو چند دن میں ختم ہوجاتا ہے۔
اگر انتقال خون کے بعد سانس لینے میں دشواری، سینے یا کمر میں درد یا کوئی دوسری غیر معمولی علامت ظاہر ہو تو فوری طور پر معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔
نتائج
انتقال خون کے بعد طبی ٹیم فالو اَپ معائنوں کا شیڈول بناتی ہے تاکہ علاج کے اثرات کا جائزہ لیا جاسکے۔ یہ ٹیسٹ مریض کی بیماری اور علاج کی نوعیت کے مطابق مختلف ہوسکتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=pathologist