بائی پولر ڈس آرڈر ایک ذہنی بیماری ہے۔ اس میں انسان کے مزاج، توانائی اور رویّے میں غیر معمولی تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس بیماری میں کبھی مریض خود کو حد سے زیادہ پُرجوش اور پُراعتماد محسوس کرتا ہے۔ کبھی وہ شدید اداسی اور ناامیدی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ان کیفیتوں کو مینیا یا ہائپو مینیا اور ڈپریشن کہا جاتا ہے۔ ہائپو مینیا، مینیا کے مقابلے میں نسبتاً کم شدت والی کیفیت ہوتی ہے۔ لیکن پھر بھی یہ روزمرہ زندگی پر اثر ڈال سکتی ہے۔
یہ بیماری نیند، تعلقات، کام اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم، بر وقت تشخیص، مناسب علاج اور باقاعدہ دیکھ بھال کے ذریعے اسے مؤثر انداز میں قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
علامات
بائی پولر ڈس آرڈر کی علامات مختلف افراد میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ بعض افراد میں مینیا کی علامات زیادہ نمایاں ہوتی ہیں۔ کچھ افراد ڈپریشن کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
مینیا یا ہائپو مینیا کی علامات
٭ غیر معمولی خوشی یا حد سے زیادہ پرجوش ہونا
٭ بہت تیز اور بہت زیادہ باتیں کرنا یا تیزی سے بولنا
٭ خیالات کا بہت تیزی سے ذہن میں آنا
٭ نیند کی ضرورت کم محسوس ہونا
٭ توانائی میں غیر معمولی اضافہ ہونا
٭ جلد بازی میں فیصلے کرنا
٭ غیر ضروری اخراجات کرنا یا خطرناک سرگرمیوں میں حصہ لینا
٭ غصہ، چڑچڑاپن یا بے چین ہونا
شدید مینیا بعض اوقات ایسی ذہنی کیفیت پیدا کر سکتی ہے جس میں مریض حقیقت اور خیال میں فرق کرنے کی صلاحیت کو کھو بیٹھتا ہے۔ اس دوران وہ غیر حقیقی باتوں، وہم، یا ایسے یقین پر بھروسہ کرنے لگتا ہے جن کی حقیقت نہیں ہوتی۔
ڈپریشن کی علامات
٭مسلسل اداسی، خالی پن یا ناامیدی کا احساس رہنا
٭ روزمرہ سرگرمیوں میں دلچسپی ختم ہونا
٭ بہت زیادہ یا بہت کم سونا
٭ شدید تھکن یا کمزوری محسوس کرنا
٭ توجہ مرکوز کرنے میں دشواری ہونا
٭ خود کو بے کار،ناکام یا قصوروار سمجھنا
٭ بھوک اور وزن میں غیر معمولی تبدیلی محسوس ہونا
٭ زندگی سے تنگ آنا یا خودکشی کے خیالات آنا
وجوہات
بائی پولر ڈس آرڈر کی اصل وجہ مکمل طور پر معلوم نہیں، لیکن ماہرین کے مطابق مختلف عوامل اس بیماری میں کردار ادا کرتے ہیں:
٭دماغی کیمیکلز اور اعصابی نظام میں تبدیلیاں
٭ جینیاتی عوامل یعنی موروثی طور پر نسل در نسل منتقل ہونا
٭ شدید ذہنی دباؤ یا صدمہ
٭ کسی قریبی فرد کی موت یا بڑا حادثہ
٭ منشیات یا الکحل کا استعمال
٭ نیند کی کمی اور بے ترتیب طرزِ زندگی
٭ کم عمری میں ذہنی بیماریوں کی علامات ظاہر ہونا
پیچیدگیاں
اگر بائی پولر ڈس آرڈر کا علاج وقت پر نہ کیا جائے تو یہ کئی سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ ان میں شامل ہیں:
٭ پڑھائی یا ملازمت میں کارکردگی کا متاثر ہونا
٭ قریبی رشتوں میں دراڑیں پڑنا
٭ مالی بحران یا قانونی الجھنوں میں پھنسنا
٭ نشے کی عادت میں مبتلا ہو جانا
٭ خودکشی کے خیالات یا اقدام تک نوبت پہنچنا
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
درج ذیل علامات میں سے کوئی بھی محسوس ہو تو فوری طور پر کسی ماہرِ نفسیات سے ملیں:
٭ موڈ میں شدید اور بار بار تبدیلیاں آتی رہیں
٭ روزمرہ زندگی کا معمول متاثر ہونے لگے
٭ ڈپریشن یا غصہ اپنی حدود سے باہر نکل جائے
٭ زندگی ختم کرنے کے خیالات ذہن میں آنے لگیں
٭ نیند، رویے یا فیصلوں میں واضح اور غیر معقول تبدیلیاں آئیں
خطرے کے عوامل
کچھ عوامل اس بیماری کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں، جیسے:
٭ والدین یا بہن بھائیوں میں بائی پولر ڈس آرڈر ہونا
٭ شدید ذہنی دباؤ یا جذباتی صدمے سے گزرنا
٭ منشیات یا شراب کا استعمال کرنا
٭ مریض اپنے یا دوسروں کے لیے خطرہ بن رہا ہو
٭ کم عمری میں ذہنی صحت کے مسائل پیدا ہونا
٭نیند کے معمول میں مسلسل خرابی
یہ بیماری عموماً نوجوانی یا ابتدائی جوانی میں تشخیص ہوتی ہے، لیکن کسی بھی عمر میں ظاہر ہو سکتی ہے۔
تشخیص
بائی پولر ڈس آرڈر کی تشخیص میں ڈاکٹر ان امور سے مدد لیتا ہے:
٭ علامات اور ذہنی کیفیت کا تفصیلی جائزہ
٭ مریض کی میڈیکل اور فیملی ہسٹری
٭ نفسیاتی معائنہ
٭بعض اوقات لیبارٹری ٹیسٹ کرنا تاکہ کوئی اور بیماری اس کا روپ نہ دھارے ہوئے ہو
علاج
بائی پولر ڈس آرڈر ایک طویل مدتی ذہنی بیماری ہے۔ اس کے مؤثر علاج کے لیے مسلسل توجہ اور باقاعدہ طبی نگرانی ضروری ہوتی ہے۔ علاج کا بنیادی مقصد مریض کے مزاج میں توازن برقرار رکھنا اور علامات کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے۔ بائی پولر ڈس آرڈر کے علاج میں درجِ ذیل عوامل شامل ہو سکتے ہیں:
٭ موڈ کو متوازن رکھنے والی ادویات
٭ اینٹی سائیکوٹک ادویات
٭ ڈپریشن یا بے چینی کے علاج کی ادویات
٭ سائیکوتھراپی یا ٹاک تھراپی
٭ فیملی کاؤنسلنگ اور سپورٹ
٭بعض شدید صورتوں میں ہسپتال میں علاج کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے
کگنیٹو بیہیویئرل تھراپی (سی بی ٹی) اور دیگر نفسیاتی تھراپیز مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ یہ مریض کو ذہنی دباؤ، منفی خیالات اور موڈ کی تبدیلیوں کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
احتیاطی تدابیر
بائی پولر ڈس آرڈر کو کنٹرول کرنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
٭ ادویات ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق باقاعدگی سے استعمال کریں
٭ اچانک دوا بند کرنے سے گریز کریں
٭ مناسب نیند کو یقینی بنائیں
٭ ذہنی دباؤ کم کرنے کی کوشش کریں
٭ منشیات سے پرہیز کریں
٭ صحت بخش غذا اور ہلکی ورزش کو معمول بنائیں
٭ موڈ میں تبدیلیوں کا ریکارڈ رکھیں
٭ خاندان اور دوستوں سے رابطے میں رہیں
علامات میں شدت محسوس ہونے پر بلا تاخیر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
اس بیماری سے بچاؤ کی تدابیر
بائی پولر ڈس آرڈر سے مکمل بچاؤ ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ تاہم، ابتدائی علامات کو نظر انداز نہ کرنا بیماری کی شدت کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ذہنی دباؤ کو کنٹرول میں رکھنا، مناسب نیند لینا اور بروقت علاج کروانا اہم اقدامات ہیں۔
Frequently Asked Questions
کیا بائی پولر ڈس آرڈر مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتا ہے؟
یہ ایک طویل مدتی بیماری ہے، لیکن مناسب علاج، ادویات اور تھراپی کے ذریعے علامات کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
کیا بائی پولر ڈس آرڈر صرف بڑوں میں ہوتا ہے؟
نہیں، یہ بیماری بچوں اور نوجوانوں میں بھی ظاہر ہو سکتی ہے، تاہم ان میں علامات مختلف انداز میں سامنے آ سکتی ہیں۔
کیا یہ بیماری موروثی ہو سکتی ہے؟
جی ہاں، اگر خاندان میں کسی فرد کو بائی پولر ڈس آرڈر ہو تو اس بیماری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
کیا صرف ادویات کافی ہوتی ہیں؟
اکثر صورتوں میں ادویات کے ساتھ سائیکوتھراپی اور فیملی سپورٹ بھی ضروری ہوتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ ذہنی صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ مستند ماہرِ نفسیات کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=psychiatrist