Vinkmag ad

بلڈ یوریا نائٹروجن (BUN) ٹیسٹ

Laboratory technician holding a blood sample tube labeled “BUN Test” in a medical laboratory setting

بلڈ یوریا نائٹروجن (BUN) خون کا ایک عام ٹیسٹ ہے جو گردوں کی کارکردگی کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہ ٹیسٹ خون میں یوریا نائٹروجن کی مقدار جانچتا ہے۔

جسم میں یوریا نائٹروجن کی تیاری اور اخراج کا عمل کچھ اس طرح سے انجام پاتا ہے:

٭ جگر پروٹینز کے ٹوٹنے کے بعد امونیا پیدا کرتا ہے جس میں نائٹروجن شامل ہوتا ہے

٭ نائٹروجن کاربن، ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ساتھ مل کر یوریا بناتا ہے جو ایک فاضل مادہ ہے

٭ یوریا خون کے ذریعے جگر سے گردوں تک منتقل ہوتا ہے

٭ صحت مند گردے یوریا اور دیگر فاضل مادوں کو خون سے فلٹر کرتے ہیں

٭ یہ فضلہ پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج ہو جاتا ہے

BUN ٹیسٹ یہ ظاہر کرتا ہے کہ خون میں یوریا نائٹروجن کی سطح معمول سے زیادہ ہے یا نہیں۔ اس سے گردوں کی کمزوری یا خرابی کی نشاندہی ہوتی ہے۔

ٹیسٹ کیوں کیا جاتا ہے

BUN ٹیسٹ مختلف طبی حالات میں تجویز کیا جا سکتا ہے، مثلاً:

٭ اگر ڈاکٹر کو گردوں کی بیماری یا نقصان کا شبہ ہو

٭ اگر گردوں کی کارکردگی جانچنی ہو، خاص طور پر ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں میں

٭ ڈائیلیسز کے علاج کا اثر جانچنے کے لیے، چاہے ہیمو ڈائیلیسز ہو یا پیریٹونیل ڈائیلیسز

٭ دیگر بیماریوں کی تشخیص کے لیے خون کے مجموعی ٹیسٹ کے حصے کے طور پر، جیسے جگر کا نقصان، پیشاب کی نالی میں رکاوٹ، ہارٹ فیلئر یا معدے میں خون بہنا وغیرہ۔ تاہم صرف BUN کی غیر معمولی رپورٹ کسی بیماری کی حتمی تشخیص نہیں کرتی

اگر گردوں کے مسائل کا شبہ ہو تو خون میں کریٹینائن کی سطح بھی جانچی جاتی ہے۔ یہ گردوں کے ذریعے خارج ہونے والا ایک اور فاضل مادہ ہے۔ اس کی بلند سطح گردوں کے نقصان کی علامت ہو سکتی ہے۔

گردوں کی مجموعی کارکردگی جانچنے کے لیے ”جی ایف آر” بھی کیا جا سکتا ہے، جو گردوں کی صفائی کی صلاحیت کا اندازہ دیتا ہے۔

ٹیسٹ کی تیاری

اگر صرف BUN ٹیسٹ ہو تو عام طور پر کھانے پینے کی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ اگر اضافی ٹیسٹ شامل ہوں تو ڈاکٹر کچھ وقت کے لیے فاسٹنگ کا مشورہ دے سکتا ہے۔

ٹیسٹ کے دوران بازو کی رگ سے سوئی کے ذریعے خون کا نمونہ لیا جاتا ہے جو لیبارٹری میں بھیجا جاتا ہے۔ اس کے بعد مریض اپنی معمول کی سرگرمیاں جاری رکھ سکتا ہے۔

نتائج

BUN کے نتائج ملی گرام فی ڈیسی لیٹر (mg/dL) اور ملی مول فی لیٹر (mmol/L) میں ظاہر کیے جاتے ہیں۔ عام حد تقریباً 6 سے 24 mg/dL (2.1 سے 8.5 mmol/L) سمجھی جاتی ہے۔

نارمل حد لیبارٹری اور عمر کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔ بچوں اور شیر خوار میں یہ سطح کم ہوتی ہے جبکہ عمر کے ساتھ اس میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔

BUN کی بلند سطح عموماً گردوں کی کم کارکردگی کی طرف اشارہ کرتی ہے، تاہم یہ درج ذیل وجوہات کی بنا پر بھی بڑھ سکتی ہے:

٭ جسم میں پانی کی کمی

٭ پیشاب کی نالی میں رکاوٹ

٭ دل کی ناکامی یا حالیہ ہارٹ اٹیک

٭ معدے سے خون بہنا

٭ شدید چوٹ یا جھلسنے کے واقعات

٭ بعض ادویات جیسے مخصوص اینٹی بایوٹکس

٭ زیادہ پروٹین والی خوراک

اگر گردوں کے نقصان کا خدشہ ہو تو ڈاکٹر سے ان عوامل کے بارے میں مشورہ کیا جانا چاہیے جو اس کیفیت کا سبب بن سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=nephrologist

Vinkmag ad

Read Previous

جاگتے ہوئے دماغ کی سرجری

Read Next

بوٹوکس انجیکشن

Leave a Reply

Most Popular